راہل گاندھی کا آر ایس ایس اور بی جے پی پر سخت حملہ، کہا: ہندوستان میں ہر شخص کو اپنی سچائی، خواب اور زندگی کے بارے میں خود فیصلہ کرنے کا حق حاصل ہونا چاہیے
نئی دہلی: لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی نے ہندوستان میں جاری نظریاتی کشمکش کو فرد کی آزادی، خود اختیاری اور اپنی زندگی کے بارے میں خود فیصلہ کرنے کے حق سے جوڑتے ہوئے آر ایس ایس اور بی جے پی پر سخت تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں اصل نظریاتی جنگ اس بات کو لے کر ہے کہ کیا ملک کے تقریباً 1.5 ارب لوگوں کی سچائی کا فیصلہ کوئی ایک گروپ کرے گا، یا ہر شخص کو اپنی زندگی، تجربات اور سچائی کو خود سمجھنے کا حق حاصل ہوگا۔
راہل گاندھی جمعرات کو جواہر بھون میں منعقدہ پروگرام ’’ہرا بھرا سوراج: راجیو گاندھی کے ویژن کو خراج‘‘ سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے اپنے خطاب میں راجیو گاندھی کے وژن اور مہاتما گاندھی کے تصورِ ’’سوراج‘‘ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سوراج کو صرف آزادی سمجھنا درست نہیں، بلکہ اس کا مطلب ’’خود پر حکمرانی‘‘ ہے۔ ان کے مطابق سوراج ایک ذمہ داری، سوچ اور اپنے آپ کو گہرائی سے سمجھنے کا نام ہے۔
راہل گاندھی نے کہا کہ کسی شخص کو آزادی دی جا سکتی ہے، لیکن کوئی کسی دوسرے شخص کو سوراج نہیں دے سکتا۔ ہر انسان اپنے تجربات، حالات اور زندگی کی بنیاد پر اپنی سچائی کو سمجھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی طالب علم ان سے ملتا ہے تو ان کا کام یہ نہیں کہ وہ طالب علم کی سچائی طے کریں، بلکہ اسے سننا، اس کا احترام کرنا اور اسے سمجھنے کی کوشش کرنا ہے۔
’’ہر شخص کو اپنے خواب پورے کرنے کا موقع ملنا چاہیے‘‘
کانگریس رہنما نے کہا کہ اگر کوئی شخص انجینئر، باورچی، موچی یا خلانورد بننا چاہتا ہے تو اسے اپنے خواب کے مطابق آگے بڑھنے کا موقع ملنا چاہیے۔ حکومت اور ملک کی ذمہ داری ہے کہ لوگوں کے تخیل، صلاحیتوں اور خوابوں کے دروازے کھولے جائیں اور انہیں یہ اعتماد دیا جائے کہ وہ اپنی پسند کی سمت میں آگے بڑھ سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہی مہاتما گاندھی کا ہندوستان کے لیے وژن تھا اور یہی سوراج کا راستہ ہے۔ راہل گاندھی نے تعلیمی نظام پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ مہنگے تعلیمی نظام اور غیر منصفانہ امتحانی نظام کے ساتھ ایسا ہندوستان تشکیل نہیں دیا جا سکتا جہاں ہر شخص کو مساوی مواقع حاصل ہوں۔
معاشی نظام میں چند افراد کی اجارہ داری پر بھی سوال
راہل گاندھی نے ہندوستان کے معاشی اور سیاسی نظام پر بھی تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ ایسا ہندوستان نہیں بنایا جا سکتا جہاں معاشی نظام صرف دو یا تین لوگوں کی اجارہ داری میں ہو۔ ان کے مطابق ملک کا سیاسی نظام بھی ایسا ہونا چاہیے جو سماج کے ہر طبقے اور ہر حصے تک گہرائی سے پہنچے۔
انہوں نے کہا کہ خراب ماحول انسان کو سوراج سے دور کر دیتا ہے اور اس کی فطری صلاحیتوں کو متاثر کرتا ہے۔ مہاتما گاندھی کے نظریات کا حوالہ دیتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ ہر انسان ایک منفرد وجود ہے اور ہر شخص کا سچائی تک پہنچنے کا اپنا راستہ ہے۔
آر ایس ایس پر شدید تنقید
اپنے خطاب کے دوران راہل گاندھی نے آر ایس ایس کو بھی سخت نشانہ بنایا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ آر ایس ایس یہ سمجھتا ہے کہ وہ ہندوستان کے تقریباً 1.5 ارب لوگوں کی سچائی کو جانتا ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ہر فرد اپنی سچائی کو خود بہتر جانتا ہے۔
راہل گاندھی نے کہا کہ اگر کوئی شخص یہ سمجھنے لگے کہ وہ دوسرے انسان کی سچائی جانتا ہے تو یہ درست رویہ نہیں، کیونکہ اس نے دوسرے شخص کے تجربات اور مشکلات کا سامنا نہیں کیا۔ ان کے مطابق کسی دوسرے فرد کی زندگی اور تجربات کو سمجھے بغیر اس کی سچائی طے نہیں کی جا سکتی۔
بی جے پی پر بھی الزامات
راہل گاندھی نے اپنے خطاب میں بی جے پی پر بھی سخت حملہ کیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی مسلمانوں، عیسائیوں اور سکھوں کو یہ احساس دلاتی ہے کہ ان کا وجود اہم نہیں ہے۔ قبائلی برادریوں کے حوالے سے بھی انہوں نے حکومت پر الزامات عائد کیے اور کہا کہ ان کی زمین اور حقوق کے مسائل کو نظرانداز کیا جا رہا ہے۔
دلتوں کے حوالے سے بھی راہل گاندھی نے الزام لگایا کہ ان پر ہونے والے مظالم کو مناسب اہمیت نہیں دی جاتی۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو اس صورتحال کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے اور ہندوستان کی تعمیر اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتی جب تک ہر طبقے کے افراد خود کو ملک کا برابر کا حصہ محسوس نہ کریں۔
’’ہر شخص کو محسوس ہونا چاہیے کہ یہ ملک اس کا بھی ہے‘‘
راہل گاندھی نے کہا کہ ہندوستان میں ہر شخص، خواہ اس کا مذہب، ذات، عمر یا جنس کچھ بھی ہو، اسے یہ محسوس ہونا چاہیے کہ ’’میں اس ملک کا حصہ ہوں، یہاں مجھے عزت اور محبت ملتی ہے اور میری سچائی اور میری تلاش کی بھی اہمیت ہے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ ملک کی اصل طاقت اسی وقت سامنے آئے گی جب ہر شہری کو اپنے خواب دیکھنے، اپنی زندگی کے فیصلے کرنے اور اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کا مساوی موقع ملے۔ ان کے مطابق یہی سوراج کا بنیادی تصور اور جدید ہندوستان کی تعمیر کا راستہ ہے۔




English 



























































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































