پیر 11 ربیع الاول 1448هـ
#حیدرآباد

کانگریس حکومت کے 1000 دن مکمل، بی آر ایس کا ریاست گیر احتجاج کا اعلان، کے ٹی آر نے 2 ستمبر سے بڑے پیمانے پر پروگراموں کی قائدین اور کارکنوں کو ہدایت دی

کے ٹی آر کا 2 ستمبر سے ریاست گیر احتجاج اور اختراعی پروگراموں کا اعلان

حیدرآباد: بھارت راشٹرا سمیتی (BRS) نے کانگریس حکومت کے 1000 دن مکمل ہونے کے موقع پر ریاست گیر مہم شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ بی آر ایس ورکنگ پریزیڈنٹ کے ٹی راما راؤ (کے ٹی آر) نے پارٹی قائدین اور کارکنوں کو ہدایت دی کہ 2 ستمبر سے ایک ہفتے تک تلنگانہ بھر میں مختلف پروگرام منعقد کرتے ہوئے کانگریس حکومت کی مبینہ ناکامیوں کو عوام کے سامنے لایا جائے۔

کے ٹی آر نے ٹیلی کانفرنس کے ذریعے پارٹی کے سینئر قائدین، منتخب نمائندوں اور ریاستی کمیٹی کے ارکان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس نے اقتدار میں آنے سے قبل 420 وعدے، 13 ڈیکلریشنز اور 6 گارنٹیز کے ذریعے عوام سے بڑے وعدے کیے تھے اور انہیں 100 دن میں پورا کرنے کا یقین دلایا تھا۔ تاہم، ان کے مطابق 1000 دن گزرنے کے باوجود حکومت ایک بھی وعدہ مکمل طور پر پورا نہیں کر سکی۔

’باقی کارڈز‘ کے ذریعے زیرِ التوا وعدوں کو اجاگر کرنے کی ہدایت

کے ٹی آر نے پارٹی کارکنوں کو ہدایت دی کہ مختلف طبقات سے کیے گئے زیرِ التوا وعدوں کو دوبارہ عوام کے سامنے لانے کے لیے ’باقی کارڈز‘ متعارف کرائے جائیں۔ ان کارڈز کے ذریعے کسانوں، زرعی مزدوروں، بزرگوں، خواتین، طلبہ اور نوجوانوں کے لیے وعدہ کی گئی مالی امداد اور دیگر فوائد کی تفصیلات عوام تک پہنچانے کی ہدایت دی گئی۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ کانگریس حکومت نے کسانوں سے لے کر خواتین تک مختلف طبقات کو دھوکہ دیا ہے۔ بی آر ایس کارکن ہر طبقے سے کیے گئے وعدوں، ان پر عمل درآمد میں مبینہ ناکامی اور زیرِ التوا واجبات کو عوام کے سامنے رکھیں۔

فیس ری ایمبرسمنٹ کے 12 ہزار کروڑ سے زائد واجبات کا الزام

کے ٹی آر نے دعویٰ کیا کہ حکومت پر فیس ری ایمبرسمنٹ کے 12 ہزار کروڑ روپے سے زائد واجبات باقی ہیں۔ انہوں نے پارٹی کارکنوں سے کہا کہ اس مسئلے کو کالجوں، طلبہ اور ان کے والدین تک پہنچایا جائے۔

انہوں نے نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے میں بھی حکومت کی مبینہ ناکامی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ بی آر ایس پہلے ہی سرورنگر اجلاس اور یوا سنگرام سبھا کے ذریعے نوجوانوں کے مسائل کو اجاگر کر چکی ہے۔

ہر طبقے کے لیے الگ پروگرام

کے ٹی آر نے آٹو ڈرائیوروں، خواتین، کسانوں، قبائلیوں، دلتوں، بی سی طبقات، سرکاری ملازمین اور ریٹائرڈ ملازمین سمیت ہر طبقے کے لیے خصوصی پروگرام منعقد کرنے کی ہدایت دی۔ انہوں نے کہا کہ پروگرام صرف وعدوں تک محدود نہ رہیں بلکہ عوام کو درپیش موجودہ مسائل اور حکومت کی مبینہ انتظامی ناکامیوں کو بھی نمایاں کیا جائے۔

انہوں نے پارٹی قائدین سے کہا کہ سات روزہ مہم کے دوران مختلف اسمبلی حلقوں میں خواتین، کسانوں، نوجوانوں، طلبہ اور دیگر طبقات سے ملاقاتیں کی جائیں اور ان کے مسائل کو عوامی سطح پر اٹھایا جائے۔

سوشل میڈیا کے ذریعے نوجوانوں تک پہنچنے پر زور

کے ٹی آر نے کہا کہ مہم میں سوشل میڈیا کا مؤثر استعمال کیا جائے تاکہ نوجوان نسل تک کانگریس حکومت کی مبینہ ناکامیوں کا پیغام پہنچایا جا سکے۔ انہوں نے پارٹی کارکنوں کو اختراعی انداز میں سوشل میڈیا مہم چلانے کی ہدایت دی۔

انہوں نے کہا کہ 1000 دن کی مہم صرف چند نمائشی پروگراموں تک محدود نہیں رہنی چاہیے بلکہ ہر اسمبلی حلقہ، منڈل، گاؤں اور وارڈ کی سطح پر بی آر ایس کارکنوں کی فعال شرکت ہونی چاہیے۔ کے ٹی آر نے پارٹی قائدین اور کارکنوں سے اپیل کی کہ وہ اپنی تنظیمی طاقت اور تخلیقی صلاحیتوں کے ذریعے کانگریس حکومت کی مبینہ ناکامیوں کو عوام کے سامنے لائیں۔

کانگریس حکومت کے 1000 دن مکمل، بی آر ایس کا ریاست گیر احتجاج کا اعلان، کے ٹی آر نے 2 ستمبر سے بڑے پیمانے پر پروگراموں کی قائدین اور کارکنوں کو ہدایت دی

حیدرآباد اور اطراف کے کمشنریٹس میں ویک

کانگریس حکومت کے 1000 دن مکمل، بی آر ایس کا ریاست گیر احتجاج کا اعلان، کے ٹی آر نے 2 ستمبر سے بڑے پیمانے پر پروگراموں کی قائدین اور کارکنوں کو ہدایت دی

نامپلی اسمبلی حلقہ میں ایس آئی آر

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے