تلنگانہ کے وزیراعلیٰ اے ریونت ریڈی نے کہا ہے کہ ریاستی حکومت نے مزدوروں کی کم از کم اجرتوں میں اضافہ کرتے ہوئے ایک تاریخی فیصلہ لیا ہے، جس سے 1 کروڑ 11 لاکھ مزدور مستفید ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ سابق حکومت کی غفلت کے باعث برسوں تک مزدور طبقہ نقصان اٹھاتا رہا۔
سکریٹریٹ میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے بتایا کہ نائب وزیراعلیٰ بھٹّی وکرمارکا کی قیادت میں کابینہ سب کمیٹی تشکیل دے کر مختلف شعبوں سے مشاورت کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ مزدوروں کو چار زمروں — اَن اسکلڈ، سیمی اسکلڈ، اسکلڈ اور ہائیلی اسکلڈ — میں تقسیم کیا گیا ہے، جبکہ ریاست کو تین زونز میں بانٹ کر اجرتوں کا تعین کیا گیا۔ زون-1 میں میونسپل کارپوریشنز، زون-2 میں میونسپلٹیز اور زون-3 میں دیہی علاقوں کو شامل کیا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ کے مطابق اَن اسکلڈ مزدوروں کی کم از کم اجرت 12,750 روپے سے بڑھا کر 16 ہزار روپے، سیمی اسکلڈ کی 17 ہزار روپے، اسکلڈ کی 18,500 روپے اور ہائیلی اسکلڈ مزدوروں کی 20 ہزار روپے مقرر کی گئی ہے۔ یہ نئی اجرتیں یکم جون 2026 سے نافذ العمل ہوں گی۔
ریونت ریڈی نے کہا کہ ریاست کی تشکیل کے بعد پہلی مرتبہ مزدوروں کی فلاح کے لیے اس نوعیت کا فیصلہ لیا گیا ہے۔ انہوں نے مرحوم مزدور رہنما جی وینکٹ سوامی کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کے سیاسی وارث گڈم وویک وینکٹ سوامی نے مزدوروں کے مفاد میں اہم کردار ادا کیا۔
نوجوانوں کو مشورہ دیتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ صرف آئی ٹی اور امریکہ تک محدود سوچ ترک کرنی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ تکنیکی مہارت کے ساتھ جرمنی، جاپان اور سنگاپور جیسے ممالک میں وسیع مواقع موجود ہیں، اسی مقصد کے تحت حکومت نے اسکلز یونیورسٹی قائم کی ہے۔
انہوں نے بی جے پی اور وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عوامی مسائل کو بھی سیاسی زاویے سے دیکھا جا رہا ہے، جبکہ انتخابات کے بعد پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ کیا جا رہا ہے۔
ریاست میں دھان کی خریداری کے حوالے سے وزیراعلیٰ نے بتایا کہ 80 فیصد عمل مکمل ہو چکا ہے اور باقی 20 فیصد بھی جلد مکمل کر لیا جائے گا۔
بی آر ایس قیادت پر تنقید کرتے ہوئے ریونت ریڈی نے کہا کہ اپوزیشن کسانوں کے مسائل پر تعمیری تجاویز دینے کے بجائے "لاشوں کی سیاست” کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر واقعی کسانوں سے ہمدردی ہے تو حکومت کو مشورے دیے جائیں۔
پوسكو کیس کے حوالے سے وزیراعلیٰ نے کہا کہ بنڈی بھگیرات کی گرفتاری پولیس نے قانونی طریقہ کار کے تحت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر بنڈی سنجے کمارخود اپنے بیٹے کو پولیس کے حوالے کرتے تو پولیس گھر پر ہی کارروائی کرتی۔
وزیراعلیٰ نے کے ٹی رماراؤ اور کے چندرشیکھر راؤ کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ریاست میں اہم واقعات کے باوجود اپوزیشن سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کر رہی۔
تلنگانہ کے وزیراعلیٰ اے ریونت ریڈی نے کہا ہے کہ کے ٹی آر اب بھی "کلواکنٹلہ آئین”میں رہنے کا وہم پالے ہوئے ہیں، جبکہ کے چندرشیکھر راؤ کو اقتدار سے ہٹے کافی عرصہ گزر چکا ہے۔
انہوں نے سوال کیا کہ جگتیال میں پارٹی اجلاس میں شرکت کرنے والے کے سی آر، ریاست میں اتنا بڑا واقعہ پیش آنے کے باوجود عوام کے سامنے کیوں نہیں آئے۔
وزیراعلیٰ نے ذات پر مبنی مردم شماری کے معاملے میں سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ تلنگانہ حکومت کے فیصلے کی عدالتِ عظمیٰ کی جانب سے توثیق ریاست کے لیے باعثِ فخر ہے۔
انہوں نے کہا کہ تلنگانہ نے عام مردم شماری کے ساتھ کاسٹ سروے بھی مکمل کرکے تمام تفصیلات عوام کے سامنے پیش کیں، اور اسی وجہ سے ریاست پورے ملک کیلئے ایک رہنما مثال بن گئی ہے۔
ریونت ریڈی نے مرکزی حکومت اور وزیراعظم نریندر مودی سے مطالبہ کیا کہ قومی مردم شماری میں فوری طور پر ذات پر مبنی مردم شماری شامل کی جائے تاکہ کمزور اور پسماندہ طبقات کو ہر شعبے میں مناسب نمائندگی فراہم کی جا سکے ۔
انہوں نے کہا کہ مزدوروں کو چار زمروں — اَن اسکلڈ، سیمی اسکلڈ، اسکلڈ اور ہائیلی اسکلڈ — میں تقسیم کیا گیا ہے، جبکہ ریاست کو تین زونز میں بانٹ کر اجرتوں کا تعین کیا گیا۔ زون-1 میں میونسپل کارپوریشنز، زون-2 میں میونسپلٹیز اور زون-3 میں دیہی علاقوں کو شامل کیا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ کے مطابق اَن اسکلڈ مزدوروں کی کم از کم اجرت 12,750 روپے سے بڑھا کر 16 ہزار روپے، سیمی اسکلڈ کی 17 ہزار روپے، اسکلڈ کی 18,500 روپے اور ہائیلی اسکلڈ مزدوروں کی 20 ہزار روپے مقرر کی گئی ہے۔ یہ نئی اجرتیں یکم جون 2026 سے نافذ العمل ہوں گی۔
ریونت ریڈی نے کہا کہ ریاست کی تشکیل کے بعد پہلی مرتبہ مزدوروں کی فلاح کے لیے اس نوعیت کا فیصلہ لیا گیا ہے۔ انہوں نے مرحوم مزدور رہنما جی وینکٹ سوامی کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کے سیاسی وارث گڈم وویک وینکٹ سوامی نے مزدوروں کے مفاد میں اہم کردار ادا کیا۔
نوجوانوں کو مشورہ دیتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ صرف آئی ٹی اور امریکہ تک محدود سوچ ترک کرنی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ تکنیکی مہارت کے ساتھ جرمنی، جاپان اور سنگاپور جیسے ممالک میں وسیع مواقع موجود ہیں، اسی مقصد کے تحت حکومت نے اسکلز یونیورسٹی قائم کی ہے۔
انہوں نے بی جے پی اور وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عوامی مسائل کو بھی سیاسی زاویے سے دیکھا جا رہا ہے، جبکہ انتخابات کے بعد پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ کیا جا رہا ہے۔
ریاست میں دھان کی خریداری کے حوالے سے وزیراعلیٰ نے بتایا کہ 80 فیصد عمل مکمل ہو چکا ہے اور باقی 20 فیصد بھی جلد مکمل کر لیا جائے گا۔
بی آر ایس قیادت پر تنقید کرتے ہوئے ریونت ریڈی نے کہا کہ اپوزیشن کسانوں کے مسائل پر تعمیری تجاویز دینے کے بجائے "لاشوں کی سیاست” کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر واقعی کسانوں سے ہمدردی ہے تو حکومت کو مشورے دیے جائیں۔
پوسكو کیس کے حوالے سے وزیراعلیٰ نے کہا کہ بنڈی بھگیرات کی گرفتاری پولیس نے قانونی طریقہ کار کے تحت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر بنڈی سنجے کمارخود اپنے بیٹے کو پولیس کے حوالے کرتے تو پولیس گھر پر ہی کارروائی کرتی۔
وزیراعلیٰ نے کے ٹی رماراؤ اور کے چندرشیکھر راؤ کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ریاست میں اہم واقعات کے باوجود اپوزیشن سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کر رہی۔
تلنگانہ کے وزیراعلیٰ اے ریونت ریڈی نے کہا ہے کہ کے ٹی آر اب بھی "کلواکنٹلہ آئین”میں رہنے کا وہم پالے ہوئے ہیں، جبکہ کے چندرشیکھر راؤ کو اقتدار سے ہٹے کافی عرصہ گزر چکا ہے۔
انہوں نے سوال کیا کہ جگتیال میں پارٹی اجلاس میں شرکت کرنے والے کے سی آر، ریاست میں اتنا بڑا واقعہ پیش آنے کے باوجود عوام کے سامنے کیوں نہیں آئے۔
وزیراعلیٰ نے ذات پر مبنی مردم شماری کے معاملے میں سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ تلنگانہ حکومت کے فیصلے کی عدالتِ عظمیٰ کی جانب سے توثیق ریاست کے لیے باعثِ فخر ہے۔
انہوں نے کہا کہ تلنگانہ نے عام مردم شماری کے ساتھ کاسٹ سروے بھی مکمل کرکے تمام تفصیلات عوام کے سامنے پیش کیں، اور اسی وجہ سے ریاست پورے ملک کیلئے ایک رہنما مثال بن گئی ہے۔
ریونت ریڈی نے مرکزی حکومت اور وزیراعظم نریندر مودی سے مطالبہ کیا کہ قومی مردم شماری میں فوری طور پر ذات پر مبنی مردم شماری شامل کی جائے تاکہ کمزور اور پسماندہ طبقات کو ہر شعبے میں مناسب نمائندگی فراہم کی جا سکے ۔




English 



























































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































