علماء کرام انبیاء ؑکے وارث،مسلمانوں پر ان کا ادب واحترام لازم گرمائی تعطیلات میں اولاد کی دینی تربیت پر توجہ دیں۔ مولانا جعفر پاشاہ کا بیان
حیدرآباد (راست)04/04/2026 مولانا محمد حسا م الدین ثانی عاقل جعفر پاشاہ صاحب نے جامع مسجد دارالشفائمیں نمازِ جمعہ سے قبل اپنے بیان میں فرمایا کہ آج کے معاشرے میں علماء کا احترام کم ہوتا جا رہا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ جو چاہے علماء کرام پر تنقید اور بہتان تراشی کر رہا ہے، جو کہ انتہائی قابلِ مذمت عمل ہے۔مولانا نے فرمایا کہ علماء انبیاء کے وارث ہیں، اس لیے ہر مسلمان پر لازم ہے کہ علماء کا ادب و احترام کرے اور ان سے محبت رکھے۔انہوں نے معاشرے میں بگڑتی ہوئی صورتحال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ آج کا نوجوان غلط راستوں پر چل پڑا ہے۔ چوری، قتل و غارت گری اور دیگر برائیوں میں ملوث ہونے کے واقعات بڑھتے جا رہے ہیں، اور افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ان میں مسلمانوں کی تعداد نمایاں نظر آ رہی ہے، جیسا کہ حالیہ سوشل میڈیا خبروں سے ظاہر ہوتا ہے۔مولانا نے مزید فرمایا کہ علماء کرام اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہدایت کا ذریعہ ہیں، ان کا مقام بلند ہے، اس لیے ان کے ساتھ حسنِ سلوک کرنا چاہیے۔مولانا نے حکومتوں سے مطالبہ کیا کہ علماء کے احترام کو یقینی بنایا جائے اور جو لوگ علماء کی توہین کریں، ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔معاشرتی اصلاح کے حوالے سے مولانا نے فرمایا کہ ہمیں اللہ کی رسی (قرآن و سنت) کو مضبوطی سے تھامنا ہوگا۔ نمازوں کی پابندی کرنی چاہیے اور دینی محافل میں شرکت کو معمول بنانا چاہیے۔انہوں نے والدین کو خاص طور پر نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی اولاد کی دینی تربیت پر توجہ دیں، انہیں دینی ماحول سے جوڑیں اور اچھے لوگوں کی صحبت میں رکھیں۔ خصوصاًگرمائی تعطیلات کے پیش نظر بچوں کو دینی تربیتی کلاسس اور قرآن فہمی کلاسس ودرس وتصوف کے محافلوں سے جوڑیں۔ گرمیوں کی تعطیلات میں بچوں پر نظر رکھیں کہ وہ کہاں جا رہے ہیں اور کن لوگوں کے ساتھ وقت گزار رہے ہیں۔مولانا نے زور دیتے ہوئے کہا کہ بچوں کی تربیت والدین کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ آج معاشرے میں جو برائیاں پھیل رہی ہیں، ان میں والدین کی غفلت بھی شامل ہے۔ بعض والدین اپنے بچوں کو غلط کمائی کی طرف دھکیلتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ”لوگ کیا کہتے ہیں، اس کی پرواہ نہ کرو”، جو کہ انتہائی خطرناک سوچ ہے۔انہوں نے خبردار کیا کہ اگر کسی مسلمان کو ہماری وجہ سے تکلیف پہنچتی ہے یا نقصان ہوتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اس کا حساب ضرور لے گا۔ ہمیں اللہ کے عذاب سے ڈرنا چاہیے اور اپنے اعمال کی اصلاح کرنی چاہیے۔آخر میں مولانا نے کہا کہ ہمیں اپنی آخرت کی فکر کرنی چاہیے، صرف دنیا اور اولاد کی فکر میں نہ پڑے رہیں۔ اپنی اولاد کی صحیح تربیت کریں، ان کے ساتھ اچھے انداز میں گفتگو کریں اور انہیں دین کی تعلیمات سے روشناس کرائیں۔انہوں نے اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ آج مسلمانوں کی اکثریت قرآن سے دور ہوتی جا رہی ہے۔




English 























































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































