ورلڈ اکنامک فورم کا ’تلنگانہ رائزنگ 2047‘ وژن میں شراکت کا اظہار
داووس:
تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ اے۔ ریونت ریڈی نے ورلڈ اکنامک فورم (WEF) کے منیجنگ ڈائریکٹر جیریمی جرگنز اور منجو جارج (ہیڈ، اسٹریٹیجک امپیکٹ اینڈ انٹیگریشن، C4IR نیٹ ورک) سے داووس میں منعقدہ WEF 2026 کے دوران تلنگانہ پویلین میں ملاقات کی۔
اس موقع پر وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی نے ہر سال جولائی یا اگست میں حیدرآباد میں ایک فالو اَپ WEF اجلاس منعقد کرنے کی تجویز پیش کی، تاکہ جنوری میں داووس میں ہونے والی میٹنگز میں کیے گئے فیصلوں اور مباحثوں پر عملی پیش رفت کا جائزہ لیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ایک سال کا وقفہ جدید کاروباری دنیا کے لیے کافی طویل ہوتا ہے، اس لیے تلنگانہ WEF کے ساتھ اسٹریٹجک پارٹنر کے طور پر یہ فالو اَپ فورم منعقد کرنا چاہتا ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا:
“ہم دنیا کو یہ دکھانا چاہتے ہیں کہ تلنگانہ میں کس قدر شاندار مواقع اور وسائل موجود ہیں۔ اسی لیے ہم حیدرآباد میں سالانہ WEF فالو اَپ اجلاس کی میزبانی کے لیے تیار ہیں۔”
WEF کے منیجنگ ڈائریکٹر جیریمی جرگنز نے اس تجویز پر مثبت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس پر مستقبل قریب میں پیش رفت کی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ چین میں پہلے ہی “سمر داووس” منعقد ہوتا ہے اور سعودی عرب بھی اس طرح کی میزبانی میں دلچسپی رکھتا ہے۔
وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی نے WEF ٹیم کے سامنے تلنگانہ رائزنگ 2047 وژن، روڈ میپ اور حکمتِ عملی پیش کی، جس کے تحت تلنگانہ کو 3 ٹریلین ڈالر کی معیشت بنانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ اس کے علاوہ C4IR تلنگانہ (Centre for the Fourth Industrial Revolution) کے سفر پر بھی گفتگو ہوئی، جو بایوایشیا 2024 میں حیدرآباد میں قائم کیا گیا تھا اور یہ بھارت میں WEF کا پہلا تھیمیٹک سینٹر ہے جو ہیلتھ کیئر اور لائف سائنسز پر مرکوز ہے۔
جیریمی جرگنز نے کہا کہ C4IR تلنگانہ کا قیام WEF کے لیے ایک بہترین مثال ہے اور 2047 وژن میں مختلف شعبوں میں باہمی تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ انہوں نے کہا:
“ہم تلنگانہ رائزنگ وژن کا حصہ بننا چاہتے ہیں اور اس سفر میں شراکت داری کے خواہاں ہیں۔ حیدرآباد میں بہترین ٹیلنٹ موجود ہے۔”
انہوں نے صنعتی کلسٹرز کی منصوبہ بندی سے متعلق C4IR کی تحقیق کا ذکر کرتے ہوئے یہ معلومات C4IR تلنگانہ کے ساتھ شیئر کرنے کی پیشکش بھی کی۔
اس موقع پر وزیر ڈی۔ سری دھر بابو نے تلنگانہ کی نئی معاشی حکمتِ عملی “CURE, PURE, RARE” اور بھارت فیوچر سٹی (نیٹ زیرو گرین فیلڈ اسمارٹ سٹی) منصوبے کی تفصیلات بیان کیں، جو بھارت میں پائیدار شہری ترقی کا ماڈل بننے جا رہا ہے۔
وفد کے دیگر ارکان، بشمول وزیر پونگولیٹی سرینواس ریڈی نے حیدرآباد کی ایرو اسپیس، ڈیفنس، بائیو ڈیزائن، سافٹ ویئر اور فارما شعبوں میں برتری پر روشنی ڈالی۔ ساتھ ہی الیکٹرک وہیکلز، قابلِ تجدید توانائی، ایڈوانسڈ ٹیکنالوجی سینٹرز، ینگ انڈیا اسکلز یونیورسٹی اور ینگ انڈیا اسپورٹس یونیورسٹی جیسے اقدامات کے ذریعے نوجوانوں کی اسکل ڈیولپمنٹ پر زور دیا گیا۔
وزیر اعلیٰ نے کہا:
“ہماری نوجوان آبادی کے لیے ہماری سب سے بڑی ترجیح اسکلنگ اور اسپورٹس ہے




English 
























































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































