جمعرات 11 جمادی الاول 1448هـ
#حیدرآباد

تلنگانہ ہائی کورٹ کا بڑا فیصلہ، شادی مبارک اور کلیان لکشمی اسکیموں کی مالی امداد دوبارہ جاری کرنے کی راہ ہموار

حیدرآباد، یکم ستمبر: تلنگانہ کے لاکھوں معاشی طور پر کمزور خاندانوں کے لیے بڑی راحت کی خبر سامنے آئی ہے۔ تلنگانہ ہائی کورٹ کی ڈویژن بینچ، جس میں چیف جسٹس اپریش کمار سنگھ اور جسٹس جی۔ ایم۔ محی الدین شامل ہیں، نے جسٹس این۔ وی۔ شراون کمار کے اس عبوری حکم پر روک لگا دی ہے جس کے تحت ریاست کی دو اہم فلاحی اسکیموں شادی مبارک اور کلیان لکشمی کے تحت مالی امداد کی تقسیم عارضی طور پر روک دی گئی تھی۔

ریاستی حکومت کی جانب سے دائر کی گئی اپیل W.A. No. 944 of 2026 کی سماعت کے دوران ایڈووکیٹ جنرل اے۔ سدرشن ریڈی نے عدالت کے روبرو مؤقف اختیار کیا کہ ایڈووکیٹ وجے گوپال کی جانب سے دائر کردہ رِٹ پٹیشن قانونی طور پر قابلِ سماعت نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ درخواست گزار نہ تو خود کسی نقصان سے متاثر ہوئے ہیں اور نہ ہی وہ یہ ثابت کر سکے کہ ان کے کسی آئینی یا قانونی حق کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔ اس لیے انہیں ایک ایسی عوامی فلاحی اسکیم کو چیلنج کرنے کا حق حاصل نہیں جس سے برسوں سے لاکھوں غریب خاندان مستفید ہو رہے ہیں۔

عدالت نے حکومت کے دلائل کا جائزہ لینے اور مستحق خاندانوں کو پیش آنے والی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے سنگل جج کے عبوری حکم کو معطل کر دیا۔ اس فیصلے کے بعد ریاستی حکومت کے لیے دونوں اسکیموں کے تحت زیر التوا مالی امداد دوبارہ جاری کرنے کی راہ ہموار ہو گئی ہے، جس سے ہزاروں ایسے خاندانوں کو فوری فائدہ پہنچے گا جن کی امدادی رقوم عدالتی حکم کے باعث رکی ہوئی تھیں۔

ڈویژن بینچ نے نہ صرف عبوری حکم پر روک لگائی بلکہ سنگل جج کے سامنے زیر سماعت اصل رِٹ پٹیشن کی مزید کارروائی بھی فی الحال معطل کر دی۔ اس فیصلے کے نتیجے میں حکومت کو ان اسکیموں پر عمل درآمد جاری رکھنے کی قانونی سہولت حاصل ہو گئی ہے۔

قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ درخواست گزار ایڈووکیٹ وجے گوپال نے عدالت سے یہ مطالبہ بھی کیا تھا کہ سال 2014 سے اب تک شادی مبارک اور کلیان لکشمی اسکیموں کے تحت تقسیم کی گئی تقریباً 17 ہزار کروڑ روپے کی رقم حکومت واپس وصول کرے۔ اگر یہ مطالبہ منظور ہو جاتا تو ان لاکھوں غریب خاندانوں کے لیے شدید مشکلات پیدا ہو سکتی تھیں جنہوں نے نیک نیتی کے ساتھ یہ مالی امداد حاصل کی تھی۔ تاہم، ڈویژن بینچ نے اس مطالبے کو قبول نہیں کیا اور اس حوالے سے مزید کارروائی بھی روک دی۔

عدالت کے تازہ فیصلے کو ریاست کے غریب اور متوسط طبقے کے لیے ایک اہم ریلیف قرار دیا جا رہا ہے۔ سماجی حلقوں کا ماننا ہے کہ اس سے نہ صرف مستحق خاندانوں کا اعتماد بحال ہوگا بلکہ شادی کے اخراجات سے پریشان کمزور طبقات کو بھی بروقت مالی سہارا مل سکے گا۔ دوسری جانب حکومت نے بھی اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ دونوں فلاحی اسکیموں کے تحت زیر التوا درخواستوں پر جلد کارروائی مکمل کر کے مستحقین کے بینک کھاتوں میں امدادی رقوم منتقل کی جائیں گی۔

تلنگانہ ہائی کورٹ کا بڑا فیصلہ، شادی مبارک اور کلیان لکشمی اسکیموں کی مالی امداد دوبارہ جاری کرنے کی راہ ہموار

🚨 بریکنگ نیوز — چارمینار زون پولیس

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے