تعلیم ہی سماجی ترقی اور عالمی مسابقت کا واحد ذریعہ ہے: ڈپٹی چیف منسٹر بھٹی وکرمارکا
حیدرآباد، 25 اگست: ڈپٹی چیف منسٹر بھٹی وکرمارکا نے کہا کہ صرف تعلیم ہی وہ طاقت ہے جو سماج کو ترقی کی راہ پر لے جا سکتی ہے اور آنے والے وقت میں ریاست کو دنیا کے ساتھ مسابقت کے قابل بنا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت آنے والے پچاس برسوں کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے تعلیمی شعبے کی ترقی کے لیے جامع اقدامات کر رہی ہے۔
وہ پیر کے روز جوبلی ہلز میں ایک نجی ادارے کی جانب سے تعلیم پر تیار کردہ "کافی ٹیبل بک” کی رسمِ اجرا کے موقع پر خطاب کر رہے تھے۔
ڈپٹی چیف منسٹر نے کہا کہ سماجی تبدیلی، پسماندگی کے خاتمے اور مساوات پر مبنی سماج کی تعمیر کا واحد ذریعہ تعلیم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے پہلے وزیراعظم پنڈت جواہر لال نہرو سے لے کر آج تک متعدد وزرائے اعظم اور وزرائے اعلیٰ نے جو تعلیمی ادارے قائم کیے ان کی بدولت ہندوستان نے ترقی کی راہ میں بڑی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آئی آئی آئی ٹی، آر ای سی اور یو جی سی کے تحت قائم مختلف یونیورسٹیوں کے باعث تلگو نوجوان آج دنیا کی نامور کمپنیوں میں سی ای او جیسے اعلیٰ عہدوں تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ اسی طرح کئی نجی تعلیمی ادارے یونیورسٹی کے درجے تک پہنچ کر ایڈوانس ٹیکنالوجی کی تعلیم فراہم کر رہے ہیں۔
بھٹی وکرمارکا نے کہا کہ بدلتے ہوئے سماجی تقاضوں کے مطابق نصاب کی تبدیلی ناگزیر ہے۔ اسی مقصد کے تحت وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی کی قیادت میں حکومت نے "اسکل یونیورسٹی” قائم کی ہے تاکہ صنعتوں کی ضرورت کے مطابق نصاب تیار کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں کئی دہائیوں قبل قائم 100 آئی ٹی آئی اداروں کو جدید ٹیکنالوجی مراکز میں تبدیل کیا گیا ہے اور ان میں صنعتکاروں کی مشاورت سے نیا نصاب متعارف کرایا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ غریبوں کو عالمی معیار کی تعلیم فراہم کرنے کے لیے ملک میں پہلی مرتبہ 25 ایکڑ اراضی پر فی اسمبلی حلقہ ایک "ینگ انڈیا انٹیگریٹڈ ریزیڈینشل اسکول” قائم کیا جا رہا ہے، جس پر تقریباً 200 کروڑ روپے لاگت آئے گی۔ اس مقصد کے لیے حکومت نے ایک ساتھ 104 "ینگ انڈیا اسکولز” کے قیام کی منظوری دے دی ہے۔
ڈپٹی چیف منسٹر نے مزید کہا کہ کوٹی ویمنز کالج کو تاریخی خاتونِ حریت چاکلی ایلاّما کے نام سے منسوب کیا گیا ہے اور وہاں 500 کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیرات شروع کی گئی ہیں۔ اسی طرح عثمانیہ یونیورسٹی میں تمام مطلوبہ سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں اور بی سی کیڈر میں تقرریاں عمل میں لائی گئی ہیں۔
انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ پچھلی ایک دہائی سے تلنگانہ میں تعلیم اور طب کے شعبے کو نظرانداز کیا گیا تھا، مگر موجودہ حکومت آئندہ 50 سے 100 برسوں کی ضرورتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ان دونوں شعبوں کو مضبوط بنانے کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ تعلیمی ترقی کے لیے حکومت کے ساتھ ساتھ نجی اداروں کو بھی آگے آنا ہوگا، اور حکومت نجی تعلیمی اداروں کے مسائل کے حل کے لیے بھی پُرعزم ہے۔




English 

































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































