اردوشاعری انقلاب برپا کرسکتی ہے
ٹولی چوکی حیدرآباد میں منعقدہ تہنیتی و مشاعرہ سے مقررین کا خطاب
حیدرآباد۔10/جنوری ( پریس نوٹ) بزم ادب حیدرآبادکے زیر اہتمام کل سہ پہر خضرا کالونی ٹولی چوکی حیدرآباد میں تہنیتی تقریب و موضوعاتی مشاعرہ کا انعقاد عمل میں آیا۔تقریب کی صدارت ایم اے نعیم چیرمین تنظیم اصلاح معاشرہ وازالہ منکرات نے کی اورکہنہ مشق شاعر، ادیب و نقاد ڈاکٹر روف خیر صدر مشاعرہ تھے۔تلنگانہ اردو اکیڈیمی کی جانب سے کارنامہ حیات ایوارڈ پانے والے شعراء ظفر فاروقی اور واحد نظام آبادی کو اصلاح معاشرہ و ازالہ منکرات کی ذیلی تنظیم بزم ادب حیدرآباد کی جانب سے تہنیت پیش کی گئی۔ ممتاز شاعر وصحافی سعداللہ خان سبیل نے بحسن و خوبی نظامت کے فرائض انجام دئے۔ ایم اے نعیم نے تقریب کی غرض و غایت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ تنظیم کا مقصد اصلاح معاشرہ کے ساتھ اردو زبان کا فروغ بھی ہے کیونکہ اسلام کا علمی ذخیرہ عربی زبان کے بعد سب سے زیادہ اردو زبان میں ہے اسی مقصد کے تحت تنظیم نے دو سال قبل بزم ادب کا قیام عمل میں لایااور اس کی ذمہ داری متحرک و فعال صحافی شاعر وادیب سعداللہ خان سبیل کو دی گئی اور وہ بخوبی اس کو نبھارہے ہیں ۔نثر کے بہ نسبت نظم کے ذریعہ اصلاح کا موثر کام ہوسکتا ہے اس لئے بزم ادب ہر ماہ موضوعاتی معاشرے منعقد کرتی ہے سال میں ایک بار بڑے پیمانے پر بزم کا شاندار مشاعرہ منعقد ہوتا ہے۔ تنظیم کا ترجمان ماہنامہ "اصلاح معاشرہ وازالہ منکرات” بھی باقاعدگی سے شائع ہوتا ہے جو فروغ اردو کا ایک ذریعہ ہے۔مولاناممشاد علی صدیقی سرپرست تنظیم نے اس موقع پرخطاب کرتے ہوئے کہا کہ اصلاح معاشرہ انبیاءکرام کی سنت ہے اور فی زمانہ اس کی شدید ضرورت ہے۔ تنظیم اصلاح معاشرہ وازالہ منکرات تحریری وتقریری شکل میں اصلاح کا کام کررہی ہے۔آج اگرچہ کہ کلمہ گو افراد کی کمی نہیں ہے لیکن دین اسلام پر عمل کرنے والوں کا فقدان ہے۔ نمازوں کی پابندی ،سلام کو عام کرنا،گھروں میں دینی ماحول پیدا کرنا ہے، خواتین میں دینی تعلیمات کو پھیلانا ہے تنظیم کا خاص مقصد ہے ۔ اس ضمن میں مختلف علماء کی مدد سے تنظیم نے چھ سو صفحات پر مشتمل کتاب ” اصلاح معاشرہ وازالہ منکرات ” مدوین کی ہے ۔اسی کی ساتھ ساتھ بزم ادب فروغ اردو کے لئے مقدور بھر کوشش کررہی ہے۔
قاری محمد عثمان کی قرات کلام سے اس پروگرام کا آغازہوا۔ ڈاکٹر روف خیر،ظفر فاروقی، واحد نظام آبادی،سعداللہ خان سبیل ، شاہ نواز ہاشمی، رفیق جگر نے اپنا کلام پیش کیا۔




English 





































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































