ہفتہ 21 رجب 1447هـ
#مضامین

عصری درسگاہوں میں دینی تعلیم کا دعویٰ اور المیہ

مولانا محمد ریاض احمد قادری حسامی

ناظم مدرسہ اسلامیہ ریاض العلوم۔ فلک نما

اسلامی تعلیمات میں تعلیم کی اہمیت کو قرآن اور حدیث میں بہت زیادہ اجاگر کیا گیا ہے۔ علم کا حصول ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے، اور تعلیم کو دین اور دنیا کی کامیابی کی بنیاد کہا گیا ہے۔ قرآن پاک اور احادیث کے ذریعہ علم کی اہمیت ظاہر ہوتی ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’اور کہہ دیجیے کہ اے میرے رب! میرے علم میں اضافہ فرما‘‘۔ (سورہ طٰہٰ: ۱۱۴) قرآن مجید کا پہلا حکم ہی پڑھنے سے متعلق ہے: ’’پڑھیے! اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا‘‘ (سورہ العلق: ۱)اس آیت سے یہ واضح ہوتا ہے کہ علم کا حصول اسلامی تعلیمات کا بنیادی حصہ ہے۔ حصول علم کیلئے ہی محمد ﷺ نے دار ارقم اور اسی طرح صفہ ‘ کو مدرسہ کی شکل دی جہاں نہ صرف بچوں کو تعلیم دی جاتی بلکہ بڑوں، بوڑھوں، مرد و خواتین یہاںاللہ کے فرامین سنتے اور عمل کرتے اور رسول ﷺ کی صحبت میں رہتے جس سے تعلیمی اداروں کی بھی اہمیت اجاگر ہوتی ہے اور ان کا مقام بھی ظاہر ہوتا ہے کہ تعلیمی ادارے مسلمانوں کیلئے کس قدر اہمیت کے حامل ہیں۔

لیکن افسوس ہوتا ہے کہ تعلیمی اداروں میںاعلیٰ معیاری تعلیم ‘کے نام پر بڑھتی ہوئی بے راہ روی ایک نازک مسئلہ بن چکی ہے، جہاں کالجز اور اسکولوں میں مسلمان لڑکے اور لڑکیاں پارٹیز کے نام پر ناچ گانا کر رہے ہیں۔ اس رویے کے نتیجے میں دینی اور معاشرتی تباہیاں جنم لے رہی ہیں۔ یہ بات قابل افسوس ہے کہ والدین اپنی برباد ہوتی نسلوں کے لیے تالیاں بجا رہے ہیں اور شاباشی دے رہے ہیں۔یہ نئی نسل کے مستقبل کے لیے ایک خطرہ ہے۔

حضرت عبدالرحمن بن عمر، جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے بیٹے تھے، نے شراب نوشی کا ارتکاب کیا۔ شراب نوشی اسلامی تعلیمات کے مطابق ایک سنگین گناہ ہے اور اس پر شرعی حد ( ۸۰؍ کوڑوں کی سزا) نافذ کی جاتی ہے۔ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اپنے بیٹے کی شراب نوشی کے بارے میں علم ہوا تو انہوں نے اسے بھی دوسرے مسلمانوں کی طرح سزا دینے کا حکم دیا۔حضرت عبدالرحمن پر شراب نوشی کی حد نافذ کی گئی اور ان پر ۸۰؍ کوڑے مارے گئے۔ اس کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کے بیٹے کو ایک درس عبرت بنانے کے لیے مزید ایک فیصلہ کیا۔ کچھ روایات میں ذکر ہے کہ حضرت عبدالرحمن حد کے بعد بیمار پڑ گئے اور اسی بیماری کے سبب انتقال کر گئے۔ جب انہیں دفنایا گیا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک خواب دیکھا جس میں ان پر عذاب نازل ہو رہا تھا۔خواب میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو نظر آیا کہ فرشتے حضرت عبدالرحمن کی قبر پر کوڑے مار رہے ہیں اور انہیں عذاب دیا جا رہا ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے علماء سے اس خواب کی تعبیر پوچھی، تو انہیں بتایا گیا کہ یہ عذاب حضرت عبدالرحمن کی شراب نوشی کی وجہ سے ہو رہا ہے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ’’میرے بیٹے نے دنیا میں اپنی سزا پوری نہیں کی، اس لیے قبر میں اسے عذاب ہو رہا ہے۔‘‘لہٰذا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حکم دیا کہ قبر پر کوڑے مارے جائیں تاکہ دنیا والوں کے لیے عبرت ہو اور وہ جان سکیں کہ دنیا میں کیے گئے اعمال کا اثر آخرت میں بھی ہوتا ہے۔ کوڑے قبر پر اس نیت سے مارے گئے تاکہ عذاب قبر میں کمی ہو اور لوگوں کو یہ پیغام پہنچے کہ شریعت کے احکام کی خلاف ورزی کے سنگین نتائج ہو سکتے ہیں۔ (البدایہ والنہایہ از ابن کثیر)

شرعی احکام پر عمل کرنا ہر مسلمان پر واجب ہے، چاہے وہ خلیفہ کا بیٹا ہو یا کوئی عام شخص۔دنیاوی سزا کے باوجود قبر میں بھی عذاب کا سامنا ہو سکتا ہے، اور یہ عذاب اعمال کے مطابق ہوتا ہے۔

علم کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے، یہ بات واضح ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علم کی طلب کو جہالت کے خاتمے کے لیے بنیادی حیثیت دی تھی۔ آج کی علمی درسگاہیں بے شرمی، بے حیائی، اور فحاشی و عریانیت کو فروغ دے رہی ہیں، جس سے نسلوں کی بربادی ہو رہی ہے۔ دینی تعلیم اور اخلاقی معیار کی بنیاد پر اسکولوں اور کالجوں میں داخلہ لیاجانے کا ایک دور چل پڑا ہے، توقع بھی یہی کی جاتی ہےکہ نوجوان نسل کی اخلاقی اور دینی بنیادوں کی حفاظت کی جا سکےگی۔لیکن افسوس اس کے برعکس مارڈنائزیشن کےنام پر بے شرمی کے مظاہرے ہورہے ہیں جو قابل فکر ہے۔ مذہب اسلام نے علم کو دو اقسام میں تقسیم کیا گیا ہے: علم نافع اور علم غیر نافع۔ علم نافع وہ ہے جو انسان کو دینی اور دنیوی اعتبار سے فائدہ پہنچائے، جبکہ علم غیر نافع وہ ہے جو انسانی زندگی کے لیے نقصان دہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم علم نافع کی طلب اور علم غیر نافع سے پناہ مانگتے تھے۔

موجودہ دور میں عصری علوم جیسے طب، انجینئرنگ، قانون، ادب اور معاشیات، علم نافع کی فہرست میں شامل ہیں۔ یہ علوم انسانی ضروریات کو پورا کرنے اور معاشرتی مسائل کے حل میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ لیکن اس بات کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کہ بعض باطل قوتیں اسکولوں اور کالجوں کو ایمان و اسلام سے دور کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔عصری تعلیم کی ضرورت آج کے دور میں بڑھ گئی ہے، لیکن یہ بہت اہم ہے کہ یہ دین کے ساتھ سمجھوتہ کیے بغیر ہو۔ والدین کوچاہئے کہ وہ اپنے بچوں کے لیے تعلیمی اداروں کا انتخاب کرتے وقت محتاط رہیں، کیونکہ تھوڑی سی غفلت بھی بچوں کی ایمانی بنیادوں پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔کالجز اور اسکولوں کے ذمہ داروں کو چاہئے کہ وہ یوٹیوبرز اور سلیبرٹیز کو’ لاکھوں روپئے دیکر مدعو کرنےاور بڑا سرمایہ چند گھنٹوں کیلئے خرچ کرنے کے بجائے علماء کو تقاریب کا حصہ بنائیں جس سے لڑکے لڑکیوں کی اصلاح ہو سکے ۔ اس طرح نہ صرف طلباء کے لیے زندگی کا اصل مقصد واضح ہوگا بلکہ یہ ہمارے لیے ایک صدقہ جاریہ بھی بنے گا۔اس صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے، والدین، تعلیمی ادارے، اور معاشرہ سب کو مل کر اس چیلنج کا مقابلہ کرنا ہوگا، تاکہ ہم اپنی آنے والی نسلوں کو ایک بہتر اور محفوظ مستقبل فراہم کر سکیں۔ یہ وقت ہے کہ ہم اپنی دینی اور اخلاقی ذمہ داریوں کا احساس کریں اور اپنی نسلوں کی حفاظت کے لیے ٹھوس اقدامات کریں۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ نے بہترین معلم کے طور پر بھیجا۔ آپ نے انسانیت کو علم، حکمت، اخلاق اور دین سکھایا۔ آپ کی تعلیمات میں انسانیت کی فلاح و بہبود کا پیغام ہے اور آپ نے ہر پہلو میں ایک معلم کا بہترین نمونہ پیش کیا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تربیت کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ صحابہ کرام نے دنیا کے مختلف خطوں میں جاکر اسلام کی روشنی پھیلائی اور آپ کی تعلیمات کو عملی نمونہ بن کر دنیا کے سامنے پیش کیا۔

موجودہ دور میں معلّمین اور تعلیمی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ طلبہ کو علم کے ساتھ ساتھ اچھے اخلاق، اسلامی اقدار اور دین کی روشنی میں تربیت فراہم کریں۔ اس کے علاوہ، تعلیمی ادارے اس بات کا خیال رکھیں کہ تعلیمات قرآن و سنت کے مطابق ہوں اور طلبہ کو اسلام کی حقیقی روح سے روشناس کرائیں۔

بعض عصری ادارے دین کا استعمال اپنے مفاد کے لئے کرتے ہیں، بطور چارہ دین، اسلام، اخلاق، تربیت،حافظ، عالم کے پرکشش اور متاثر کن سلوگن لگاتے ہیں، اس کے پیچھے صرف ایک ہی مقصد ہوتا ہے، اور وہ ہے ’’موٹا منافع‘‘۔ تعلیمی اخراجات کو گراں بار کرنے کے لئے مختلف بہانے ڈھونڈے جاتے ہیں، طرح طرح کے ٹرمس اینڈ کنڈیشن لاگو کئے جاتے ہیں، ان کی ’’دینداری‘‘ اور ’’اعلیٰ اخلاقی اقدار‘‘ کا اندازہ اس وقت لگایا جاسکتا ہے جب کوئی پریشان حال سرپرست ان سے سوال کرے۔ اس طرح کے ادارے ملت پر ’’دینی تعلیم‘‘ کا احسان جتانے میں بھی نہیں چوکتے، جس کی قیمت قوم چکا ہی نہیں سکتی۔ چونکہ ایسے ادارے اعلیٰ معیاری تعلیم فراہم کرنے میں ناکام ہوتے ہیں اس لئے دین کا سہارا لیتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر وہ موٹا منافع نکال دیا جائے تو کیا وہ دینی تعلیم اپنے اداروں میں برقرار رکھ سکیں گے؟ واللہ اعلم۔ جو ادارے تعلیم میں ایسے ہوں، ان سے اخلاق و تربیت کی امید بے جا ہے۔ یہاں معاملہ صرف کمرشیل بنیاد پر ’’لین دین‘‘ کا ہوتا ہے۔ البتہ یہ کام دینی مدارس اور علمائے دین انتہائی کسمپرسی میں بھی پورے خلوص و للہیت کے ساتھ برسوں سے کرتے آرہے ہیں، اگرچہ بعض دینی مدارس کے کردار پر بھی کلام کیا جاسکتا ہے، لیکن ان چند مدارس کی وجہ سے پورے مدارس کو بدنام نہیں کیا جاسکتا۔ شاطر عصری ادارے اسی چیز کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دینی مدارس کے خلاف پروپیگنڈہ کرتے ہیں اور شر کا محاذ کھول دیتے ہیں تاکہ ان کا اپنا کاروبار چل سکے۔ بعض عصری ادارے بچوں کو حافظ قرآن بنانے کے نام پر والدین و سرپرستوں کو اپنی چرب زبانی کے ذریعہ مائل و قائل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں، محض اپنے مفاد کے لئے۔ لیکن یہ ادارے ہزاروں روپے کی فیس وصول کرنے کے باوجود حفظ قرآن کی تکمیل میں ناکام رہتے ہیں۔ اگر کہیں حفظ مکمل ہو بھی جاتا ہے تو وہ حفظ کے روایتی اصول اور تدریسی نصاب کے مطابق نہیں ہوتا۔ قرآن کی تعلیم میں درست طریقہ یہ ہے کہ سبق، آموختہ اور پارہ کی ترتیب پر مکمل عمل کیا جائے، لیکن اکثر جگہوں پر اس ترتیب کو نظرانداز کرتے ہوئے صرف اسباق یاد کرائے جاتے ہیں، جس سے بچے امامت یا تراویح پڑھانے کے قابل نہیں ہوپاتے اور احساس کمتری کا شکار ہو جاتے ہیں۔ یہ صورتحال بچوں کو دینی خدمت یا عالمیت کے بجائے صرف عصری تعلیم کی طرف مائل کر دیتی ہے، جس سے دین کی بنیادوں پر ان کا اعتماد متزلزل ہو جاتا ہے۔

حالانکہ قرآن کو یاد کرنے کے فضائل اور اجر و ثواب کے بارے میں احادیث میں بہت سی اہم باتیں بیان کی گئی ہیں۔ قرآن کو حفظ کرنے والے کو دنیا اور آخرت میں بلند مقام دیا جاتا ہے، لیکن اگر کوئی قرآن حفظ کر کے بھول جائے، تو اس کے بارے میں تنبیہ بھی کی گئی ہے۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’وہ شخص جو قرآن کو حفظ کرتا ہے اور اس پر عمل کرتا ہے، اس کے والدین کو قیامت کے دن ایک تاج پہنایا جائے گا جس کی روشنی سورج کی روشنی سے زیادہ ہوگی۔‘‘(سنن ابوداؤد)

ایک اور حدیث میں آپ ﷺ نے فرمایا: ’’قرآن پڑھنے والا اور اس پر عمل کرنے والا قیامت کے دن انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین کے ساتھ ہوگا‘‘۔ (صحیح بخاری) قرآن بھول جانے پر وعید بھی بیان کی گئی ہے۔ جو شخص قرآن کو یاد کرتا ہے، اس پر لازم ہے کہ وہ مسلسل تلاوت کرتا رہے تاکہ اسے بھول نہ جائے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’اپنے علم کی حفاظت کرو، کیونکہ جس شخص نے قرآن سیکھا اور پھر اسے بھلا دیا، وہ قیامت کے دن گناہ کی حالت میں اٹھایا جائے گا۔‘‘ (سنن ترمذی)

حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’جو شخص قرآن یاد کرے اور پھر اسے بھلا دے، وہ قیامت کے دن اندھا اٹھایا جائے گا۔‘‘ (سنن ابوداؤد) لہٰذا، قرآن کو حفظ کرنا ایک عظیم عمل ہے، لیکن اسے بھلا دینے پر گناہ کی وعید ہے۔ اس عظیم نعمت کو ضائع ہونے سے بچانے کے لیے ضروری ہے کہ اسے یاد رکھنے کے لیے مسلسل تلاوت کی جائے۔اس طرح کے ناقص تدریسی طریقے اور اداروں کی جانب سے دینی تعلیم کی ناقدری نے دینی مدارس کو نقصان پہنچایا ہے۔ آج بھی شہر و ریاست میں اس حوالے سے کافی انتشار پایا جاتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حفظ قرآن کے صحیح اصولوں پر عمل کیا جائے تاکہ بچوں کو قرآن کی تعلیم سے مکمل فائدہ حاصل ہو اور وہ دین کے بہترین خادم بن سکیں۔ والدین و سرپرستوں کو چاہیے کہ جس طرح عصری اداروں کے انتخاب میں اچھے سے اچھے ادارے کا انتخاب کرتے ہیں اسی طرح دینی تعلیم کو ایک اہم فریضہ سمجھتے ہوئے مدارس کے انتخاب میں بھی اچھے سے اچھے اداروں کا انتخاب کریں۔

عصری درسگاہوں میں دینی تعلیم کا دعویٰ اور المیہ

11 اکٹوبر 2024 اردو

عصری درسگاہوں میں دینی تعلیم کا دعویٰ اور المیہ

حضرت عبدالقادر جیلانی ؒ کی تعلیمات امت

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے