ہفتہ 21 رجب 1447هـ
#مضامین

شب برات کی فضیلت‘ بدعات اور صحیح طرز عمل

مولانا محمد ریاض احمد قادری حسامی (ناظم مدرسہ اسلامیہ ریاض العلوم فلک نما)


قرآن شریف اور شب برات

قرآن مجید شب برات میں نازل ہوا۔ اللہ تعالیٰ سورۂ دخان میں فرماتا ہے:

"حم وَالْكِتَابِ الْمُبِينِ إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةٍ مُبَارَكَةٍ إِنَّا كُنَّا مُنْذِرِينَ”
(الدخان: 1-3)

ترجمہ: "حم! قسم ہے اس روشن کتاب کی، بے شک ہم نے اسے ایک مبارک رات میں نازل کیا، بیشک ہم ڈرانے والے ہیں۔”

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ "فِي لَيْلَةٍ مُبَارَكَةٍ” (مبارک رات میں) سے مراد شب برات ہے۔ لیکن سورۂ قدر میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

"إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ”
(القدر: 1)

ترجمہ: "بے شک ہم نے اس (قرآن) کو شب قدر میں نازل کیا۔”

ان دونوں آیات کو ہم اس طرح جمع کر سکتے ہیں کہ شب برات میں لوحِ محفوظ سے قرآنِ کریم کو بیت العزت (آسمانِ دنیا) پر منتقل کرنے کا حکم ہوا اور پھر شبِ قدر میں اسے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر بتدریج نازل کیا گیا۔


شب برات، فیصلوں کی رات : قرآنِ کریم میں شب برات کو "فیصلوں کی رات” قرار دیا گیا ہے:

"فِيْهَا يُفْرَقُ كُلُّ أَمْرٍ حَكِيمٍ” (الدخان: 4) ترجمہ: "اسی رات ہر حکمت والے کام کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔”

یعنی اللہ تعالیٰ سال بھر کے ہونے والے تمام امور کا فیصلہ فرشتوں کے سپرد کر دیتا ہے، جیسے:

  • زندگی اور موت کے فیصلے
  • رزق کی تقسیم
  • خوشحالی اور تنگدستی کے معاملات
  • حج کرنے والوں کے نام

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"اے عائشہ! کیا تم جانتی ہو کہ اس رات میں کیا ہوتا ہے؟” میں نے عرض کیا: "اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں۔” تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اس رات میں سال بھر میں پیدا ہونے والے اور مرنے والے لکھے جاتے ہیں، اور بندوں کے رزق مقرر کیے جاتے ہیں۔” (بیہقی)


شب برات کی فضیلت احادیث کی روشنی میں

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شب برات کو مغفرت، رحمت اور نجات کی رات قرار دیا ہے۔ مختلف احادیث میں اس رات کی عظمت و برکت بیان کی گئی ہے:

  1. حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    "جب شعبان کی پندرھویں رات آتی ہے تو اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور تمام لوگوں کو بخش دیتا ہے، سوائے مشرک اور کینہ رکھنے والے کے۔” (ابن ماجہ، بیہقی)
  2. حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    "پانچ راتوں میں دعا رد نہیں کی جاتی: (1) جمعہ کی رات، (2) رجب کی پہلی رات، (3) شعبان کی پندرھویں رات (شب برات)، (4) عید الفطر کی رات، (5) عید الاضحیٰ کی رات۔” (بیہقی)
  3. حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    *”جب شعبان کی پندرھویں رات ہو، تو رات میں عبادت کرو اور دن میں روزہ رکھو، کیونکہ اللہ تعالیٰ اس رات میں آسمان دنیا پر نزول فرماتا ہے اور ارشاد فرماتا ہے:
    • ہے کوئی مغفرت طلب کرنے والا کہ میں اسے بخش دوں؟
    • ہے کوئی رزق مانگنے والا کہ میں اسے عطا کروں؟
    • ہے کوئی مصیبت زدہ کہ میں اسے نجات دوں؟
      یہ سلسلہ صبح صادق تک جاری رہتا ہے۔”* (ابن ماجہ)
  4. حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
    "ایک رات میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بستر پر نہ پایا۔ میں تلاش میں نکلی تو دیکھا کہ آپ جنت البقیع (قبرستان) میں موجود ہیں اور مومنوں کے لیے دعا فرما رہے ہیں۔” (بیہقی)

شب برات میں نہ بخشے جانے والے لوگ

احادیث میں ایسے چند بدقسمت لوگوں کا بھی ذکر آیا ہے جنہیں اس رات بھی معافی نہیں ملتی، جیسے:

  1. مشرک (اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کرنے والا)
  2. کینہ پرور (دوسروں سے دشمنی اور بغض رکھنے والا)
  3. قطع رحمی کرنے والا (رشتہ داروں سے تعلق توڑنے والا)
  4. ماں باپ کا نافرمان
  5. شراب نوشی کرنے والا
  6. بدکاری میں مبتلا شخص

(بیہقی، ترمذی، ابن ماجہ)


شب برات کے روزے کی فضیلت

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شعبان کے مہینے میں بکثرت روزے رکھے اور فرمایا: "شعبان میرا مہینہ ہے، اور رمضان اللہ کا مہینہ ہے۔” (بیہقی)

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"جب شعبان کی پندرھویں شب ہو تو رات میں قیام کرو اور دن میں روزہ رکھو، کیونکہ اللہ تعالیٰ اس رات میں غروب آفتاب کے وقت سے آسمان دنیا پر نزول فرماتا ہے اور صبح تک مغفرت و رحمت کی بارش فرماتا ہے۔” (ابن ماجہ)

شب برات: اہلِ سنت والجماعت (دیوبند) کے عقائد کی روشنی میں بدعات اور صحیح طرزِ عمل

اہلِ سنت والجماعت (دیوبند) کا عقیدہ ہے کہ دین میں ہر وہ چیز جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم، صحابہ کرام، تابعین اور ائمہ مجتہدین کے زمانے میں نہ تھی، اور بعد میں اسے عبادت یا دین کا حصہ سمجھ کر اپنایا گیا، وہ بدعت ہے۔ بدعت کا مطلب دین میں کسی ایسی چیز کا اضافہ کرنا ہے جو نبی کریم ﷺ کے زمانے میں موجود نہ تھی، اور اسے دین کا لازمی جزو سمجھا جانے لگے۔

شب برات ایک بافضیلت رات ہے، لیکن اس رات میں بعض غیر مستند اعمال اور رسومات کو عبادت کا درجہ دے دیا گیا ہے، جو دین میں زیادتی کے مترادف ہے۔


شب برات میں ہونے والی بدعات

1. قبرستان کی زیارت کو لازم سمجھنا

قبرستان جانا جائز ہے، مگر شب برات کی رات خاص طور پر قبرستان جانے کی کوئی تاکید یا حکم نہیں۔ کچھ لوگ اس رات قبرستان میں اجتماع کرتے ہیں اور اسے دین کا حصہ سمجھتے ہیں، جو کہ بدعت ہے۔

2. مردوں کی روحوں کے گھروں میں آنے کا عقیدہ

یہ عقیدہ کہ شب برات میں مردوں کی روحیں گھروں میں آتی ہیں اور ان کے لیے کھانے تیار کیے جاتے ہیں، سراسر غلط اور غیر اسلامی نظریہ ہے۔ اسلام میں اس کی کوئی بنیاد نہیں۔

3. مخصوص کھانے (حلوہ اور شیرینی) کی رسم

بعض لوگ شب برات میں خاص طور پر حلوہ یا شیرینی پکانے کو لازمی سمجھتے ہیں، حالانکہ شریعت میں اس کی کوئی حقیقت نہیں۔ کھانے پینے کا دین سے کوئی تعلق نہیں جب تک کہ اسے عبادت یا لازم نہ سمجھا جائے۔

4. دو روزے رکھنے کو فرض سمجھنا

رسول اللہ ﷺ شعبان کے مہینے میں بکثرت روزے رکھتے تھے، لیکن شب برات کے ساتھ خاص طور پر 14 اور 15 شعبان کے روزے کو لازم سمجھنا بدعت ہے۔ اگر کوئی نفلی روزہ رکھے تو یہ مستحب ہے، لیکن اسے دین کا ضروری حصہ بنانا غلط ہے۔

5. مخصوص نوافل اور 100 رکعت نماز کا عقیدہ

شب برات میں بعض لوگ مخصوص نمازیں (مثلاً 100 رکعت نفل، 12 رکعت نفل وغیرہ) پڑھنے کو ضروری سمجھتے ہیں، حالانکہ نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام سے ایسی کوئی نماز ثابت نہیں۔

6. آتش بازی اور غیر شرعی رسومات

کچھ لوگ شب برات کو خوشی کی رات سمجھ کر آتش بازی کرتے ہیں، پکنک مناتے ہیں اور فضول تفریحات میں مشغول ہو جاتے ہیں، جو کہ سراسر غلط ہے۔ یہ رات عبادت اور استغفار کی ہے، نہ کہ لہو و لعب کی۔


صحیح طرزِ عمل

اس مبارک رات میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبادت کرنے اور دعا مانگنے کی ترغیب دی۔

توبہ و استغفار:
یہ رات توبہ اور اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرنے کی رات ہے، اس لیے زیادہ سے زیادہ استغفار کریں۔

نوافل پڑھنا (بغیر کسی خاص تعداد کے):
کوئی بھی نفلی عبادت (مثلاً تہجد کی نماز) ادا کی جا سکتی ہے، لیکن کسی مخصوص تعداد (مثلاً 100 رکعت) کو لازم سمجھنا غلط ہے۔

قرآن مجید کی تلاوت:
قرآن کی تلاوت ایک بہترین عبادت ہے، جو کسی بھی وقت اور کسی بھی رات کی جا سکتی ہے۔

درود شریف پڑھنا:
نبی کریم ﷺ پر درود بھیجنا ہر وقت باعثِ برکت ہے، خاص طور پر ایسی بابرکت رات میں۔

صدقہ و خیرات:
اگر کوئی اپنی خوشی سے اللہ کی رضا کے لیے صدقہ کرنا چاہے تو یہ ایک مستحب عمل ہے، لیکن اسے لازم یا شب برات کی رسم نہ بنایا جائے۔

دن میں روزہ رکھنا (اگر ممکن ہو، لیکن لازم نہ سمجھا جائے):
اگر کوئی شخص نفلی روزہ رکھنا چاہے تو رکھ سکتا ہے، لیکن 15 شعبان کے روزے کو ضروری سمجھنا غلط ہوگا۔

رات کو اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کرنا:
یہ ایک رات ہے جس میں اللہ تعالیٰ کی رحمتیں نازل ہوتی ہیں، اس لیے انفرادی طور پر اللہ تعالیٰ سے دعا کرنی چاہیے۔

بدعات سے پرہیز:
تمام غیر شرعی کاموں اور بدعات سے بچنا ہی اصل سنت پر عمل کرنا ہے۔


نتیجہ

شب برات کی فضیلت اپنی جگہ مسلم ہے، لیکن اسے بدعات سے پاک رکھنا ضروری ہے۔ ہمیں چاہیے کہ نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام کے طریقے پر چلتے ہوئے اس رات کو عبادت اور استغفار میں گزاریں، نہ کہ خودساختہ رسومات میں۔

شب برات رحمت، مغفرت اور نجات کی رات ہے۔ اس رات میں اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنا، دعا مانگنا، استغفار کرنا، تلاوتِ قرآن کرنا، نفل نماز پڑھنا اور روزہ رکھنا افضل اعمال میں سے ہیں۔ یہ ایک عظیم موقع ہے کہ ہم اپنے گناہوں کی معافی طلب کریں اور آئندہ کے لیے نیک زندگی گزارنے کا عزم کریں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس بابرکت رات سے بھرپور فیض حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے

شب برات کی فضیلت‘ بدعات اور صحیح طرز عمل

رعیتو بھروسہ کے تحت کسانوں کو فی

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے