منگل 7 رمضان 1447هـ
#خبریں

رمضان تقویٰ اور اصلاحِ نفس کا مہینہ، رات بھربازاروں میں گھومنے سے گریزضروریروزہ بھوک پیاس نہیں بلکہ اصلاح نفس کانام : مولانا ریاض احمد قادر ی حسامی

اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایک بار پھر ماہِ رمضان المبارک جیسی عظیم نعمت سے نوازا ہے۔ یہ وہ مہینہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے تقویٰ، صبر، مجاہد نفس اور اصلاحِ باطن کے لیے منتخب فرمایا ہے، نہ کہ غفلت، نمائش، خرید و فروخت کی دوڑ اور رات بھر کی آوارہ گردی کے لیے۔ اللہ رب العزت سورہ بقرہ آیت نمبر183میں فرماتا ہے کہ ” ”اے ایمان والو! تم پر اسی طرح روزے فرض کئے گئے ہیں جیسے تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے تاکہ تم پرہیزگار بن جاؤ“۔ یعنی روزے فرض کیے گئے تاکہ تم میں تقویٰ پیدا ہو۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ اگر رمضان میں بھی ہماری زندگی میں بازار، ایکسپوز، آفرز، ہنگامہ آرائی اور لہو و لعب غالب رہے تو تقویٰ کہاں پیدا ہوگا؟ رسولِ اکرم صلعم نے ارشاد فرمایاکہ”جب رمضان آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور شیاطین کو جکڑ دیا جاتا ہے (صحیح بخاری، صحیح مسلم)۔جب شیاطین قید ہوں، تو پھر یہ بے راہ روی، بے حیائی، شور و غوغا اور غیر مہذب طرزِ عمل کہاں سے آ رہا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ جب نفس بے لگام ہو جائے تو وہ شیطان کا کام بھی خود کرنے لگتا ہے۔ ان خیالات کااظہار مسجد محمودہ شاستری پورم میں نماز جمعہ سے قبل مولانا ریاض احمد قادری حسامی(ناظم مدرسہ اسلامیہ ریاض العلوم،فلک نما) نے کیا۔ آج افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ رمضان المبارک کو بعض لوگوں نے شاپنگ فیسٹیول بنا دیا ہے۔ خصوصاً شہر حیدرآباد میں راتوں کو بازار کھلے رہتے ہیں، سڑکوں پر ہجوم، ٹریفک جام، بے پردگی، شور شرابا اور غیر سنجیدہ ماحول عام ہو چکا ہے۔ حالانکہ یہ سب رمضان کی روح کے منافی ہے۔ یہاں ایک نہایت بصیرت افروز بات حضرت مولانا عاقل ؒ کی یاد آتی ہے کہ جب ان کے زمانے میں رمضان کے موقع پر لاڈ بازار رات بھر کھول دیا گیا تو آپؒ نے درد بھرے انداز میں فرمایاتھا کہ ”رات تمام لاڈ بازار رہے گا،اب کیا کیا لاڈاں ہوتے ہیں، نہیں معلوم!“۔ یہ جملہ دراصل ایک گہری تنبیہ تھا کہ اگر رمضان میں بھی خواہشات، نمائش اور تفریح کا دروازہ کھول دیا جائے تو پھر نفس کن کن خرافات میں مبتلا ہوگا، اس کا اندازہ نہیں۔حضور صلعم نے ارشاد فرمایا کہ ”جس نے روزہ رکھا مگر جھوٹ بولنا، بے ہودہ گفتگو اور غلط کام نہ چھوڑے، تو اللہ کو اس کے بھوکا پیاسا رہنے کی کوئی حاجت نہیں (صحیح بخاری)۔یاد رکھیے روزہ صرف پیٹ کا نہیں ہوتا، بلکہ آنکھ کا روزہ (گناہ سے بچنا)، زبان کا روزہ(جھوٹ، غیبت اور فضول باتوں سے پرہیز)،اور دل کا روزہ(حسد، کینہ اور دنیا کی بے جا محبت سے نجات)۔جو شخص دن میں روزہ رکھے اور رات کو بے مقصد بازاروں، نمائشوں اور ہنگاموں میں وقت ضائع کرے، وہ رمضان کی برکتوں سے محروم رہ جاتا ہے۔لہٰذا رمضان کو لہو و لعب، خرافات اور بے راہ روی کا مہینہ نہ بناؤ، بلکہ اسے تلاوتِ قرآن، نماز، تراویح، ذکر و استغفار، صلہ رحمی اور غرباء و مساکین کی مدد کا مہینہ بناؤ۔آخر میں اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اے اللہ! ہمیں رمضان المبارک کی حقیقی قدر عطا فرما،ہمیں تقویٰ، پرہیزگاری اور اصلاحِ نفس کی توفیق دے،ہمارے شہروں، بازاروں اور معاشرے کو فتنوں اور خرافات سے محفوظ فرما اور اس مہینہ کو ہمارے لیے نجات اور کامیابی کا ذریعہ بنا۔

رمضان تقویٰ اور اصلاحِ نفس کا مہینہ، رات بھربازاروں میں گھومنے سے گریزضروریروزہ بھوک پیاس نہیں بلکہ اصلاح نفس کانام : مولانا ریاض احمد قادر ی حسامی

سابق رکن اسمبلی آنجہانی سمیا کے فرزند

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے