منگل 7 رمضان 1447هـ
#تلنگانہ

ٹال مٹول: ایک خاموش رکاوٹحیدرآباد کے مسلم معاشرے کے لیے ایک اصلاحی اور رہنمائی پر مبنی مضمون

ٹال مٹول (Procrastination) ایک ایسی عادت ہے جو خاموشی سے انسان کی صلاحیت، وقت اور امکانات کو متاثر کرتی ہے۔ یہ کوئی فوری طور پر ظاہر ہونے والی کمزوری نہیں، بلکہ آہستہ آہستہ پروان چڑھنے والا رویہ ہے۔ اس مضمون کا مقصد کسی فرد یا طبقے کو تنقید کا نشانہ بنانا نہیں، بلکہ معاشرتی بہتری کے لیے ایک سنجیدہ مکالمہ پیش کرنا ہے۔

ہمارا شہر حیدرآباد اپنی تہذیبی روایات، رواداری اور علمی ورثے کے لیے جانا جاتا ہے۔ مسلم معاشرہ اس شناخت کا ایک اہم حصہ ہے، جو فطری طور پر قناعت، ملنساری اور برداشت جیسی اقدار رکھتا ہے۔ تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ معاشرے کے بعض طبقات میں وقت کی منصوبہ بندی اور عملی نظم و ضبط کی کمی پائی جاتی ہے۔ صبح دیر سے آغازِ کار، دن کے اہداف کا غیر واضح ہونا، اور غیر ضروری مصروفیات میں قیمتی وقت صرف ہو جانا—یہ سب عوامل مجموعی ترقی کی رفتار کو متاثر کرتے ہیں۔

ٹال مٹول دراصل کام کو مسلسل مؤخر کرنے کا نام ہے، اور مؤخر کیے گئے فیصلے اکثر ضائع شدہ مواقع میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ “بعد میں کر لیں گے” کا رویہ وقت کے ساتھ “اب موقع نہیں رہا” میں بدل جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ٹال مٹول کو ایک خاموش مگر مؤثر رکاوٹ سمجھا جاتا ہے، جو بغیر شور کیے ترقی کے عمل کو سست کر دیتی ہے۔

یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ مسلم معاشرے میں تعلیم یافتہ، محنتی اور عملی افراد کی کمی نہیں۔ مختلف شعبۂ ہائے زندگی میں ایسے افراد موجود ہیں جنہوں نے نظم و ضبط، وقت کی قدر اور مستقل مزاجی کے ذریعے نمایاں مقام حاصل کیا ہے۔ اصل مسئلہ صلاحیت یا ذہانت کا نہیں، بلکہ اجتماعی سطح پر منظم عادات کو اپنانے کا ہے۔

اگر ہم اُن برادریوں کا مشاہدہ کریں جو تعلیم، معاشی ترقی اور پیشہ ورانہ منصوبہ بندی میں آگے بڑھی ہیں، تو ایک قدر مشترک نظر آتی ہے: وقت کی مؤثر تنظیم، واضح اہداف اور تسلسل کے ساتھ عمل۔ ان تجربات سے سیکھنا کسی بھی معاشرے کے لیے ترقی کا فطری راستہ ہوتا ہے اور اس میں احساسِ کمتری کی کوئی گنجائش نہیں۔

اسلامی تعلیمات بھی وقت کی قدر، نظم اور عمل پر زور دیتی ہیں۔ روزمرہ زندگی میں نظم و ضبط اپنانا، مقصد کے ساتھ کام کرنا اور ذمہ داری کا احساس رکھنا وہ اصول ہیں جو فرد اور معاشرے دونوں کو مضبوط بناتے ہیں۔

معاشرتی بہتری کے لیے بڑے دعوؤں سے زیادہ چھوٹے مگر مستقل اقدامات اہم ہوتے ہیں۔ دن کے چند واضح اہداف طے کرنا، وقت پر آغازِ کار، غیر ضروری مصروفیات میں کمی، اور سیکھنے کے عمل کو جاری رکھنا—یہ وہ سادہ اقدامات ہیں جو بتدریج مثبت تبدیلی کا سبب بن سکتے ہیں۔

یہ مضمون کسی جذبات کو مجروح کرنے کے لیے نہیں، بلکہ ایک تعمیری سوچ کی دعوت ہے۔ ہمارا معاشرہ صلاحیتوں سے بھرپور ہے، نوجوانوں میں ذہانت اور بزرگوں میں تجربہ موجود ہے۔ ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ ٹال مٹول کی جگہ نظم و ضبط، اور غیر یقینی کی جگہ واضح سمت کو دی جائے۔ اسی سے فرد بھی آگے بڑھے گا اور معاشرہ بھی

ٹال مٹول: ایک خاموش رکاوٹحیدرآباد کے مسلم معاشرے کے لیے ایک اصلاحی اور رہنمائی پر مبنی مضمون

اللہ نے شب معراج کی شب آپؐ

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے