اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا
عالم اسلام کی عظیم علمی و روحانی شخصیت ، سلسلہ نقشبندیہ کے امام حضرت اقدس مولانا حافظ پیر ذوالفقار احمد نقشبندی نوراللہ مرقدہ کو میں اور مجھ جیسے کروڑں طالب علموں نے آپ کی کتابوں سے جانا آپکی کتابوں میں سب سے پہلے میں نے جن سے استفادہ کیا ان میں : خطبات فقیر ، عشق رسول صلی اللہ علیہ و سلم ، قرآن مجید کے ادبی اسرار و رموز ، خواتین اسلام کے کارنامے ، اہل دل کے تڑپا دینے والے واقعات ، عمل سے زندگی بنتی ہے ، حیاء اور پاکدامنی ، شرم و حیا ، گھریلو جھگڑوں سے نجات ، وغیرہ ہیں ان کتابوں سے ہم لوگوں نے حضرت جی پیر صاحب کی شخصیت کو جانا حضرت کی کتابوں سے خواتین نے بھی خوب استفادہ کیا ۔ حضرت جی کی تحریر میں اللہ تعالٰی نے ایسا جادو رکھا کہ جن گھروں میں آپ کی تحریریں پہنچی ہیں وہ گھرانے اللہ اور اس کے محبوب پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے عاشق ہوگئے ۔ انداز تحریر بہت آسان عوام و خواص سب ہی مستفید ہوتے ۔ میں زمانہ طالب علمی اول عربی ہی سے آپ کی کتابیں بڑے شوق سے خریدتا تھا اور ہمارے گھر کے تمام افراد مرد و خواتین سب اس سے خوب استفادہ کرتے اس طرح آپ سے بے پناہ محبت ہوگئی تھی ۔اس وقت سوشل میڈیا اس طرح عام نہیں تھا اور حضرت جی کی ایک تصویر بھی نہیں تھی ۔ دل آپ کے دیدار کا بہت شوق رکھتا تھا بالآخر وہ وقت آیا کہ سن 2011ء کو حضرت جی ہندوستان تشریف لائے ، ہندوستان کے مختلف ریاستوں کے ساتھ ساتھ ہماری ریاست دکن کو بھی یہ شرف حاصل ہوا کہ سلسلہ نقسبندیہ کے امام دکن حیدرآباد تشریف لائے اور ہزاروں لاکھوں علماء ، صلحاء ، صوفیاء ، عوام و خواص ، دنشوران مرد و خواتین سب کو آپ کے دیدار و علمی خطابات سے مستفید ہونے موقع عنایت فرمایا ۔اللہ تعالٰی کے فضل و کرم سے احقر کے نصیب میں بھی آپ کے دیدار اور قیمتی علمی و اصلاحی خطابات کو سننے کا خوب موقع ملا ۔ سب سے پہلے حضرت جی کو میں نے عیدگاہ بلالی (ہاکی گراؤنڈ ، مانصاحب ٹینک ) میں دیکھا اور آپ نے جیسے ہی خطاب کا آغاز کیا ، اللہ اکبر کیفیت بدل گئی۔ آپ کے کچھ خطابات سن رکھا تھا ، آپ کی آواز کا جادو دل پر پڑتا تھا لیکن جب براہ راست سامعین میں رہ کر تو اس کیفیت میں اور اضافہ ہوگیا تھا ۔آپ کا خطاب انتہائی مؤثر ، مدلل ، دلوں کو گرمانے والا ،تمہید بہت شاندار ، جس لفظ و عنوان سے بات شروع ہوتی گھنٹوں اسی پر بولتے ،آیات قرآنی و احادیث مبارکہ سے لبریز ، بیچ بیچ میں عربی انگریزی جملے ، اصطلاحات اور عبارتیں پھر ان کی تشریح ، ہر لفظ کی تحقیق ، مشکل الفاظ کی وضاحت ، انداز بیاں بہت سہل ، تمہید ایسی دلچسپ و عمدہ کہ سامعین ہمہ تن گوش ہوجائیں اللہ اکبر الفاظ نہیں ہے۔
میں نے اس وقت کئی اکابر علماء کرام کو دھاڑے مار کر روتا ہوا دیکھا ۔ دوران دعا تو کئی اللہ والے رو رو کر وجد میں آگئے ۔ غرض آپ کے اس سفر سے آپکی محبت میں اور اضافہ ہوگیا تھا اس کے بعد سے آج تک بندہ حضرت جی نور اللہ مرقدہ کی کتابوں اور بیانات سے خوب استفادہ کرتا رہتا ہے ۔مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جب میں دوم عربی میں تھا ( اس وقت آئینڈرائڈ موبائل کا زمانہ نہیں تھا تو کتابیں ہی سفر کے ساتھی ہوتے تھے آج کل آئینڈرائڈ موبائل نے ہمیں کتابوں سے بہت دور کردیا ہے ۔ اللہ تعالٰی ہمیں کتابوں سے خوب محبت اور مطالعہ کا شوق و ذوق عطاء فرمائے ۔ آمین ) تو میں تانڈور سے حیدرآباد ٹرین سے آتا جاتا تھا ، جب گھر جانا ہو تو کوئی نہ کوئی نئی کتاب خرید کر گھر لے جانا اور میری مختصر سے لائبریری کی زینت بنانے کا بڑا شوق تھا ، اس طرح گھر کے افراد بھی ان کتابوں سے استفادہ کرتے تھے تو میں نے حضرت جی رحمہ اللہ کی تین کتابیں الگ الگ عناوین پر خریدی اور ٹرین میں بیٹھا ، بیجاپور ٹرین جو نامپلی سے نکل کر بیجاپور جاتی ہے تو ایک معمر دیندار خاتون کی نظر حضرت جی کی ان کتابوں پر پڑھی (وہ خاتوں دکن کی معروف دینی درسگاہ سے بچپن میں کچھ تعلیم حاصل کی تھی ) انہوں نے کہا بیٹا ذرا ایک کتاب دیجئے میں نے ایک ضخیم کتاب دی معذرت مجھے ان کتابوں کے نام یاد نہیں ہے ۔وہ پڑھتی رہی مستقل تین گھنٹے بعد جب میرا اسٹیشن تانڈور آیا تو میں اپنا سامان سمیٹھ کر اپنی جگہ سے اٹھا اور محترمہ سے کتاب مانگنے لگا آپ جان سکتے ہیں کہ زمانہ طالب علمی میں کتابیں خریدنا کس قدر مشکل بات تھی ۔جب میں نے کتاب مانگی وہ معمر خاتون کتاب کو بند کرتے ہوئے گویا ایسا انداز اختیار کیں کہ وہ کتاب ان کو دے دی جائے ، میں نے رسما و اخلاقا کہا کہ آپ یہ کتاب رکھ لیں ، انہوں نے فورا کہا ٹھیک ہے بیٹا اللہ تعالٰی خوش رکھیں دعائیں دینے لگیں اور پھر مصروف مطالعہ ہوگئیں ۔اس خاتون نے پہلی مرتبہ حضرت جی کا نام سنا تھا آپ کی تحریر کو دیکھا تھا اس قدر اثر ہوا کہ انہوں نے کتاب ہی رکھ لیا ۔اس واقعہ کو بتانے کا مقصد حضرت جی کے زور قلم و تاثیر تحریر کو بتانے کے سوا کچھ نہیں ہے ۔
یقینا اللہ تعالٰی نے حضرت جی پیر صاحب نور اللہ مرقدہ کو بے انتہاء صلاحیتوں سے نواز تھا ۔ دنیا بھر کے کئی ممالک میں آپ نے کتاب و حکمت کی تعلیمات کے ساتھ ساتھ تزکیہ نفوس کا بڑا کام کیا ۔ محبت الہی ، حب رسول ، عظمت صحابہ و اولیاء ، امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا پر اثر انداز ، آپ کے بیانات کے اندر بہتا تھا ۔ پتھر دل انسان بھی آنسو بہانے پر مجبور ہو جاتے تھے ، معصوم بچوں کی طرح روتے ۔
آپ کی ولادت : 11/اپریل 1953 کو صوبہ پنجاب ،جھنگ پاکستان کے ایک دیندار گھرانے میں ہوئی ۔آپ کو علوم عصریہ میں بڑی مہارت تھی ، آپ کی تعلیم اسکولوں اور کالجوں میں ہوئی ۔ آپ نے کئی عصری کورس کئے 1972ء میں بی ایس سی الیکٹریکل انجینئر کی ڈگری حاصل کرکے اسی شعبے سے وابستہ ہو گئے ، پہلے اپرنٹس الیکٹریکل انجینئر، پھر اسسٹنٹ الیکٹریکل انجینئر بنے، اس کے بعد چیف الیکٹریکل انجینئر بن گئے۔
آپ باضابطہ روایتی طرز پر جاری مدرسہ سے علم حاصل نہیں کیا تھا ، ابتدائی دینیات، فارسی اور عربی کی کتابیں پڑھیں تھیں ، قرآن کریم بھی حفظ کیا ، جب آپ لاہور یونیورسٹی میں زیر تعلیم تھے اس دوران سلسلہ نقشبندیہ کے نامور بزرگ سید زوار حسین شاہ صاحب سے ملاقات ہوئی ان سے آپ نے مکتوبات مجدد الف ثانی سبقا سبقا پڑھی ان سے اپنا روحانی تعلق قائم کیا ۔ پیر سید زوار حسین شاہ صاحب رحمہ اللہ کے انتقال کے بعد خواجہ غلام حبیب نقشبندی مجددی رحمہ اللہ سے 1980ء بیعت ہوئے ، 1983ء میں خلافت سے سرفراز ہوئے۔ اس دوران حضرت جی نے جامعہ رحمانیہ جہانیاں منڈی اور جامعہ قاسم العلوم ملتان سے دورۂ حدیث کی اعزازی ڈگری بھی حاصل کی ، درس نظامی کی کئی کتابیں آپ نے انفرادی طور پر پڑھیں ، کئی کتابیں زیر درس رہیں ، آپ کے شمائل ترمذی کے مکمل دروس سنا ہوں ماشاءاللہ انداز تدریس نہایت عمدہ تھا۔ آپ حنفی المسلک اہل سنت والجماعت میں سے تھے ، دارالعلوم دیوبند اور اکابر دارالعلوم سے گہری اور سچی عقیدت رکھتے تھے ، دارالعلوم کے ہم مشرب تھے ، ان کے خلفاء میں جو دارالعلوم دیوبند کے اساتذہ کرام ہیں ان کا بے انتہاء ادب و احترام کرتے تھے ۔گویا آپ دور حاضر کہ حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی رحمہ اللہ تھے ۔ جس طرح حاجی امداد اللہ مہاجر مکی رحمہ اللہ کو اس دور کے کبار علماء نے تصوف و سلوک میں اپنا استاذ بنایا تھا بلکل اسی طرح آج کے کبار علماء نے آپ کو راہ سلوک و تزکیہ میں اپنا مقتدا و امام بنایا تھا ۔2013_2014ء 500 بااثر مسلم شخصیات کی فہرست میں آپ کا نام شامل تھا ۔200سے زائد کتابیں تصنیف کیں ۔ دنیا بھر میں آپ کے خلفاء و مریدین ہیں ۔ ہندوستان میں آپ کے مشہور خلفاء میں : حضرت مولانا محمد طلحہ صاحب قاسمی ، حضرت مولانا مفتی محمد سلمان صاحب بجنوری ، قائد جمعیۃ حضرت مولانا محمود اسعد صاحب مدنی ، حضرت مولانا خلیل الرحمٰن سجاد صاحب نعمانی ، حضرت مولانا صلاح الدین صاحب سیفی ، حضرت مولانا مفتی اسماعیل صاحب قاسمی ، حضرت مولانا سید احمد ومیض ندوی صاحب ، حضرت مولانا مفتی شفیع صاحب ، حضرت مولانا مفتی انیس احمد صاحب آزاد بلگرامی ، وغیرہم (دامت برکاتہم ) شامل ہیں۔
14/دسمبر 2025ء کو اس دارفانی سے کوچ کر گئے۔إنا لله وإنا إليه راجعون
اللہ تعالٰی آپ کی خدمات کو اپنی بارگاہ میں بے حد قبول فرمائے ، بال بال مغفرت فرمائے ۔ آپ کے افراد خاندان خاص طور پر فرزندان حضرت مولانا محمد حبیب اللہ صاحب نقشبندی و حضرت مولانا محمد سیف اللہ صاحب نقشبندی و دنیا بھر میں موجود خلفاء ، مریدین ، متوسلین ،محبین ، متعلقین ، معتقدین و مستفیدین کو صبر جمیل عطاء فرمائے۔آمین ۔
مفتی محمد جمال الدین تانڈوری (تلنگانہ)




English 


































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































