18/ڈسمبر ”یوم بین الاقوامی اقلیتی حقوق“ کے موقع پر
تلنگانہ ریاستی برسر اقتدار کانگریس حکومت گذشتہ (2) سال میں مختلف اقلیتی حقوق فراہم کرنے میں ناکام ثابت
٭…… تلنگانہ اردو اکیڈمی سے وابستہ 130 ملازمین گذشتہ (8) ماہ سے اپنی تنخواہوں سے محروم
٭……تلنگانہ اُردو اکیڈمی کے تحت چلائے جانے والے (30) کمپیوٹرسنٹرس بھی گذشتہ (10) سالوں سے غیر کارکرد
٭……تلنگانہ اُردو اکیڈمی کی جانب سے ریاستی چھوٹے اخبارات و رسائل کو گذشتہ ایک سال سے مالی امداد کی عدم اجرائی
نظام آباد:17/ڈسمبر (رفیق شاہی کی خصوصی رپورٹ) ملک کی (29) ویں ریاست ”تلنگانہ“ کی 2/جون 2014ء کو تشکیل کے بعد دوسری مرتبہ تلنگانہ میں ریاستی اسمبلی انتخابات کا ماہ نومبر 2023ء کے دوران منعقد ہوئے۔ اس موقع پر قومی سطح کی شناخت رکھنے والی قدیم سیاسی جماعت ”کانگریس“ پارٹی کی جانب سے مختلف انتخابی منشور کے ذریعہ ریاستی رائے دہندوں کیلئے ”تلنگانہ اقلیتی ڈکلیریشن“ کا اعلان کیا گیا کیونکہ موجودہ ریاست تلنگانہ میں اقلیتوں کی جملہ آبادی 14%پر مشتمل ہے۔ اس اعلان کردہ انتخابی اقلیتی ڈکلریشن میں اقلیتوں کیلئے سالانہ بجٹ میں (4) ہزار کروڑ، شادی مبارک اسکیم میں (1) لاکھ روپئے کے علاوہ ایک تولہ سونا، سبسیڈی کے ذریعہ کاروبار کیلئے سالانہ ایک ہزار کروڑ کی فراہمی اور ریاستی اقلیتی طلباء وطالبات کیلئے تعلیمی وظائف(دسویں تا پی ایچ ڈی) 10ہزار تا 5لاکھ روپئے مختص کرنے کا منشور میں رائے دہندوں کو راغب کرنے کیلئے سنہرے دعوے کئے گئے۔ مگر افسوس کہ تلنگانہ ریاست میں کانگریس حکومت برسرا قتدار آئے آج 2سال مکمل ہوچکے ہیں مگر ریاستی اقلیتی حقوق یعنی کہ 18/ڈسمبر”یوم بین الاقوامی اقلیتی حقوق“ کے موقع پر موجودہ تلنگانہ ریاستی برسر اقتدارکانگریس حکومت مختلف اقلیتی حقوق کو پامال کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی۔ یہاں اس امر کا انکشاف لازمی ہوگا کہ موجودہ ریاستی وزیر اعلیٰ اے ریونت ریڈی کی جانب سے جاریہ ہفتہ کے دوران صرف ایک گھنٹے کیلئے ”نمائشی فٹ بال میچ“ کا شہر حیدرآباد میں انعقاد عمل میں لایا گیا اور اس فٹ بال میچ پر جملہ 10کروڑ روپئے کا ریاستی عوامی خزانے کو زائد بوجھ کا سامنا کرنا پڑا۔ اس طرح تلنگانہ اُردو اکیڈمی کے تحت گذشتہ کئی سالوں سے چلائے جانے والے جملہ 30کمپیوٹرسنٹرس اور کتب خانے سے وابستہ جملہ (130) ملازمین متعلقہ حکام کی عدم توجہ و لاپرواہی کے باعث گذشتہ (8) ماہ سے اپنی تنخواہوں سے محروم ہوگئے ہیں اور وہ اس وقت کسمپرسی کی حالات سے دوچار ہوگئے ہیں یہاں تک کہ وہ اپنے گھریلو ضروری اخراجات کیلئے دوسروں سے قرضہ جات حاصل کرنے پر مجبور ہوچکے ہیں۔ یعنی حالات آج ایسے ہوچکے ہیں کہ کوئی پرسان حال نہیں ہے ان ملازمین کا۔ اسی طرح تلنگانہ اُردو اکیڈمی نے ریاستی سطح کے چھوٹے اردو اخبارات و رسائل کیلئے مالی امداد برائے سال 2025ء کیلئے درخواستیں طلب کی گئیں مگر ایک سال ختم ہونے جارہا ہے۔ مگر افسوس کہ ان اخبارات و رسائل مدیران کو آج بھی مالی امداد کی عدم اجرائی کے باعث متعلقہ حکام کے اس جاریہ رویہ پر اپنی ناراضگی کا اظہار کیاجارہا ہے۔ اس کے علاوہ تلنگانہ ریاست کی پہلی برسر اقتدار ٹی آر ایس حکومت میں ریاستی اقلیتوں کے نونہالوں کیلئے ریاستی سطح پر 2015ء کے دوران جملہ (205) ریاستی اقلیتی اقامتی اسکولس /کالجس کا قیام عمل میں لایا گیا مگر یہاں پر متعلقہ حکام کی طرف سے جملہ (2,669) تدریسی و غیر تدریسی اسٹاف کی جائیدادیں مخلوعہ ہونے کا آرٹی آئی قانون کے تحت پوچھے گئے سوال میں اس اہم بات کا انکشاف ہوا ہے۔ واضح رہے کہ اس وقت تلنگانہ حکومت میں محکمہ اقلیتی بہبود وزیر محمد اظہر الدین، محکمہ اقلیتی بہبود سکریٹری بی شفیع اللہ، حکومت تلنگانہ کے اقلیتی بہبود مشیر اعلیٰ محمد علی شبیر، نائب صدر ٹمریز فہیم قریشی، تلنگانہ اردو اکیڈمی صدر نشین طاہر بن حمدان اور محکمہ اقلیتی فینانس کارپوریشن کے چیرمین عبید اللہ کوتوال جیسے متحرک و سرگرم معزز قائدین فائز ہیں پھر بھی وہ موجودہ ریاستی مختلف اقلیتی حقوق سے کی جارہی ناانصافیوں اور متاثرہ ملازمین اور ریاستی سطح کے چھوٹے اردو اخبارات و رسائل کے مدیران کو سالانہ مالی امداد فراہم کرنے میں بالکل ناکام ثابت ہوچکے ہیں۔یہاں اس بات کا ذکر ضروری ہوگا کہ متعلقہ حکام اردو اکیڈمی کے منشور میں جملہ 22اُردو زبان کے فروغ کے متعلق اسکیمات کا ذکر کیا گیا ہے جس کے برعکس عہدیدار اپنی من مانی کرتے ہوئے ریاستی چھوٹے اخبارات و رسائل کو ہر سال (5) مرتبہ اشتہار ات کی اجرائی اور مالی امداد دینے کا ذکر کیا گیا ہے اس کے برخلاف متعلقہ حکام ان چھوٹے اخبارات و رسائل کو اشتہارات دینے سے گریز کررہے ہیں اور اس کے بجائے اردو اکیڈمی کی جانب سے یہ اشتہارات ریاستی بڑے اخبارات کو جاری کئے جارہے ہیں جو کہ اردو اکیڈیمی کے منشور میں شامل نہیں ہے۔ برسرا قتدار کانگریس حکومت کو چاہئے کہ وہ اپنے انتخابی منشور میں کئے گئے ریاستی اقلیتوں کیلئے وعدوں کو پورا کریں اوراُردو اکیڈمی ملازمین کے مسائل سے واقفیت حاصل کریں اور کمپیوٹرسنٹرس اور کتب خانوں کو جدید طرز پر اپ ڈیٹ کرتے ہوئے طلباء وطالبات کیلئے دوبارہ آغاز کیاجائے۔ اور فوری طورپر ان ملازمین کی تنخواہوں کی اجرائی کیلئے اقدامات کئے جائیں۔ اس سلسلہ میں جب متعلقہ حکام سے ربط کرنے پر کوشش جاری ہے۔ آجائے گی۔ اپرول کیلئے بھیجا گیا ہے۔ اس طرح کی بات کہی جاتی ہے جو عہدیداروں کی کارکردگی پر سوال کھڑے کرتی ہے۔




English 





































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































