ہفتہ 21 رجب 1447هـ
#تلنگانہ

نیا سال، نئے حوصلے، نئی امیدیں: مثبت حکمت عملی اور ٹھوس لائحہ عمل وقت کی اہم ضرورت

تحریر: ڈاکٹر محمد قطب الدین ابو شجاع (ماہر نفسیات، امریکہ)
تعارفِ مصنف
ڈاکٹر محمد قطب الدین ابو شجاع ہندوستانی نژاد امریکی شہری ہیں اور گزشتہ نصف صدی سے امریکہ میں ایک کامیاب ماہرِ نفسیات کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ آپ کا شمار ان شخصیات میں ہوتا ہے جو مغرب کی چکا چوند میں رہ کر بھی اپنی قوم اور وطن کی فکر سے غافل نہیں رہے۔ آپ مسلمانوں کی تعلیمی، ملی اور سماجی ترقی کے لیے درجنوں اداروں کی سرپرستی کر رہے ہیں اور آپ کی فکر کا اصل مرکز مسلم نوجوانوں کی نفسیاتی اور عملی تربیت ہے۔
وقت کی دہلیز اور ہماری ذمہ داری
سال 2026 کا سورج طلوع ہو چکا ہے۔ دنیا کے نقشے پر وقت کی ایک نئی لکیر کھینچ دی گئی ہے۔ اسلامی سال کا آغاز محرم الحرام سے ہوتا ہے، لیکن عصری تقاضوں اور عالمی نظامِ اوقات کے پیشِ نظر جنوری 2026 کا یہ آغاز ہمارے لیے احتساب اور منصوبہ بندی کا لمحہ ہے۔
آج عالمِ اسلام اور بالخصوص ہندوستان کے مسلمان جن خدشات اور مسائل کے سائے میں زندگی بسر کر رہے ہیں، وہ کسی بینا شخص سے چھپے نہیں ہیں۔ شام، فلسطین، سوڈان اور لیبیا کے زخم ہوں یا ہندوستان میں مسلمانوں کی مذہبی شناخت اور سماجی بائیکاٹ کی کوششیں—بظاہر ایسا لگتا ہے کہ سب کچھ ختم ہونے والا ہے۔ لیکن کیا ایک صاحبِ ایمان ان حالات سے گھبرا کر مایوس ہو سکتا ہے؟ ہرگز نہیں!
؎ غافل تجھے گھڑیال یہ دیتا ہے منادی گردوں نے گھڑی عمر کی اک اور گھٹا دی
قرآنِ کریم کی سورہ عصر ہمیں بتاتی ہے کہ زمانہ گواہ ہے کہ انسان خسارے میں ہے، سوائے ان کے جو ایمان لائے، نیک عمل کیے اور حق و صبر کی تلقین کی۔ اللہ رب العزت نے فرمایا: "وقت کو برا مت کہو، میں ہی زمانہ ہوں”۔ اس لیے زمانے کو برا بھلا کہنے سے بہتر ہے کہ ہم نئے سال میں نئی حکمت عملی تیار کریں۔
2025 کا جائزہ: ایک حوصلہ افزا داستان
مایوسی کے ان بادلوں میں 2025 کا سال ایک چاندی کی لکیر ثابت ہوا۔ ہندوستانی مسلمانوں، خاص کر نوجوانوں نے ثابت کیا کہ اگر ارادہ پختہ ہو تو حالات کا رخ موڑا جا سکتا ہے۔

  1. ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت (AI)
    2025 وہ سال تھا جب ہمارے نوجوانوں نے محض ٹیکنالوجی کا استعمال نہیں کیا بلکہ اسے تخلیق کیا۔ "آل انڈیا مسلم ڈیولپمنٹ کونسل” (AIMDC) کی فہرست میں وہ نوجوان ابھرے جنہوں نے AI کے ذریعے زراعت اور صحت کے مسائل حل کیے۔ آئی بی ایم (IBM) جیسے اداروں کے تعاون سے لاکھوں مسلم نوجوانوں نے ڈیٹا سائنس اور کوانٹم کمپیوٹنگ میں مہارت حاصل کی، جو اب ملک کی معاشی ترقی کا حصہ بن رہے ہیں۔
  2. کھیلوں کا میدان اور خواتین کا وقار
    2025 میں مسلم لڑکیوں نے ایشین شوٹنگ چیمپئن شپ میں دو گولڈ میڈل جیت کر تاریخ رقم کی۔ مریم محمود جیسی کھلاڑیوں نے "فیمیل ایتھلیٹ آف دی ایئر” کا اعزاز پا کر ثابت کیا کہ حجاب اور حیا ترقی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بلکہ وقار کی علامت ہیں۔
  3. تعلیمی اور انتظامی کامیابیاں
    سول سروسز (UPSC) میں مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اور کارپوریٹ لیڈرشپ میں نوجوانوں کی شمولیت نے یہ پیغام دیا کہ اب ہم صرف جذباتی نعروں کے پیچھے نہیں بھاگتے، بلکہ ٹھوس لائحہ عمل کے ساتھ ملک کی خدمت کر رہے ہیں۔
    ؎ ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں
    2026 کے عالمی چیلنجز: ایک نفسیاتی تجزیہ
    نئے سال میں ہمارے سامنے کچھ نئے اور سنگین چیلنجز موجود ہیں جن کا مقابلہ کرنے کے لیے ہمیں ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر نہیں بیٹھنا چاہیے۔
    اسلاموفوبیا اور ڈیجیٹل شناخت: سوشل میڈیا پر پھیلی نفرت اور ‘ڈیپ فیک’ (Deepfake) ٹیکنالوجی کا مقابلہ کرنے کے لیے ہمیں "ڈیجیٹل لٹریسی” اور اخلاقی پختگی کی ضرورت ہے۔
    معاشی خود مختاری:
    اب وقت آگیا ہے کہ ہم صرف ‘ملازمت’ تلاش کرنے والے نہ بنیں بلکہ ‘ملازمت دینے والے’ بنیں۔ 2026 کا دور اسکل بیسڈ اکانومی کا ہے۔
    اخلاقی بحران: جدید دور کی چکا چوند میں اپنی اسلامی اخلاقیات کو برقرار رکھنا سب سے بڑا چیلنج ہے۔
    ؎ تجھ کو دریا دلی دکھانی ہے، اپنے حصے کی آگ پانی ہے تو اگر وقت کو نہیں بدلے گا، تجھ کو وقتوں کی نوحہ خوانی ہے
    عملی لائحہ عمل: تعمیرِ ذات سے تعمیرِ ملت تک
    سورہ رعد میں اللہ نے فرمایا: "جو لوگوں کو فائدہ پہنچاتا ہے وہ زمین میں ٹھہر جاتا ہے”۔ 2026 میں کامیابی کے لیے ہمیں درج ذیل نقشہِ قدم پر چلنا ہوگا:
  4. وقت کی تنظیم (Time Management):
    لاکھوں نوجوان راتوں کو سڑکوں پر اور چائے خانوں میں وقت ضائع کرتے ہیں۔ یہ ایک اجتماعی نقصان ہے۔ ہمیں اپنے وقت کا ایک ایک منٹ منظم کرنا ہوگا۔
  5. خدمتِ خلق: بلا تفریق مذہب و ملت انسانیت کی خدمت کو اپنا مقصد بنا لیں۔ یہی وہ راستہ ہے جو اللہ کو سب سے زیادہ پسند ہے۔
    ؎ یہی ہے عبادت، یہی دین و ایماں کہ کام آئے دنیا میں انساں کے انساں
  6. تعلیمی برتری: آپ جس میدان میں بھی کام کر رہے ہوں، اس میں آپ سے زیادہ قابل کوئی دوسرا نہیں ہونا چاہیے۔ اپنی موجودگی کا احساس دلائیں کہ "میرے بغیر یہ کام ممکن نہیں”۔ 4 کامیابی کی چیک لسٹ (Daily Action Plan)
    (ہر نوجوان اسے اپنی ڈائری کا حصہ بنائے)
  • کیا میں نے آج کی پانچوں نمازیں وقت پر ادا کیں؟
  • کیا میں نے آج کم از کم ایک نیا ہنر (AI یا کوئی تکنیکی ہنر) سیکھا؟
  • کیا میں نے سوشل میڈیا پر لایعنی کاموں میں وقت ضائع تو نہیں کیا؟
  • کیا میں نے آج کسی ضرورت مند کی مدد کی؟
  • کیا میں نے آج کے دن کا محاسبہ کیا؟
    اختتامی پیغام:
    امید کی شمع
    بھارتی مسلمانوں کو موجودہ حالات میں ہمت اور حوصلے کے ساتھ زندگی گزارنا ہے۔ مایوسی کفر ہے اور حرکت زندگی۔ اللہ تعالیٰ قادرِ مطلق ہے اور دنیا کی تمام چیزیں اس کے قبضہ قدرت میں ہیں۔
    ؎ خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا
    میں ہندوستان کے نوجوانوں، لڑکیوں اور عورتوں سے التجا کرتا ہوں کہ وہ وقت کی قدر کریں، منظم رہیں اور اپنی منزل پر توجہ مرکوز کریں۔ اگر ہم بدل جائیں تو حالات بدل سکتے ہیں۔
    ؎ تیرے عزم و عمل سے ہی بدلے گی زمین یہی ہے وقت کی آواز اور یہی ہے حق کا یقیں
    دعا ہے کہ 2026 کا یہ سال آپ سب کے لیے کامیابی، امن اور وقار کا سال ثابت ہو۔ آمین۔
    ڈاکٹر محمد قطب الدین ابو شجاع (ماہر نفسیات، امریکہ)
نیا سال، نئے حوصلے، نئی امیدیں: مثبت حکمت عملی اور ٹھوس لائحہ عمل وقت کی اہم ضرورت

کانگریس کی سیاست کا محور اقتدار نہیں

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے