سال نو کے موقع پر رقص وسرور کی محفلیں سجانا اور کیک کاٹنا غیر اسلامی عمل : مولانا جعفرپاشاہ
مسلمانوں کو مکمل اجتناب کرنے مولانا جعفر پاشاہ کی اپیل
حیدرآباد 30دسمبر (راست) سالِ نو کا مطلب حقیقی طور پر زندگی سے سابقہ سال کا گزر جانا یعنی انسانی عمر سے ایک سال کا کم ہو جانا ہے، سالِ نو کی آمد کے نام سے اغیار کی دیکھا دیکھی میں نوجوان نسل بالخصوص مسلمان غیر شرعی تقریبات منعقد کرتے ہوئے غیر شرعی اعمال کا ارتکاب کر رہے ہیں جس سے اجتناب ضروری ہے۔ ان خیالات کا اظہار مولانا محمد حسا م الدین ثانی عاقل جعفر پاشاہ نے اپنے صحافتی بیان میں نوجوانوں سے اپیل کی کہ سال نو کے موقع پر شراب کباب، حقہ، رقص و سرور کی محفلیں، بے حیائی و عریانیت کے تمام مراکز سے بالکل اجتناب کریں اورمولانا نے کہا کہ اس طرح کے حرکات مسلمان لڑکے لڑکیوں کیلئے ہلاکت کے سامان ہیں۔مولانا نے والدین پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ والدین کی ذمہ داری ہے کہ اپنے بچوں کی اچھی طرح حفاظت کریں، انہیں بچپن ہی سے اسلامی و اخلاقی عادات کا پابند بنائیں۔جشن سال نو کے حسین نام سے جتنے بھی ایونٹ کیے جاتے ہیں، اس میں خیر کا کوئی پہلو نظر نہیں آتا، لہٰذا والدین بھی خود اس سے پرہیز کریں اور اپنے نوجوانوں کو بھی اس سے دور رہنے کی تلقین کریں۔انہوں نے کہا کہ زندگی کا ہر لحظہ ولمحہ لا قیمت ہے، اس لئے اسے حیات مستعار سمجھتے ہوئے خدائے تعالیٰ کی اطاعت و فرمانبرداری میں صرف کریں اور اپنی بچی ہوئی زندگی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نقش قدم پر چلتے ہوئے گزاریں۔گزرے ہوئے سال کا اختتام اور نئے سال کے آغاز پر ہر انسان کو اپنا احتساب کرنا ہوگا کہ وہ گذشتہ عمر کے لمحات کس حال میں گزارے، اگر گناہ و جرائم کے ارتکاب میں گزارے ہوں تو اسے چھوڑ دے باقی آنے والی زندگی کو غنیمت جانتے ہوئے اپنی بے راہ روی اور خدا سے بغاوت کی روش ترک کردیں۔ مولانا نے سال نو پرمسلمانوں کی جانب سے غیر اسلامی حرکات و گناہوں کا ارتکاب کئے جانے پر افسوک کا اظہار کیا اور کہا کہ نئے سال کے نام پر فحاشیت و عریانیت عام ہو چکی ہے۔مولانے کہا کہ اسلام میں ناچ گانا حرام ہے قران و حدیث میں شراب نوشی کی ممانعت پر سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں گھروں میں دیکھا جا رہا ہے کہ غیروں کی مشابہت اختیار کرتے ہوئے کیک کاٹے جا رہے ہیں حدیث شریف میں آتا ہے کہ تو جس قوم کی مشابہت اختیار کرتا ہے وہ انہی میں سے ہو جاتا ہے یہ جو 31 دسمبر کی رات رقص و سرور کی محفلیں سجانا کیک کاٹنا ناچ گانا کرنا یہ تمام یہود و نصاری کی عادتیں ہیں اگر کوئی مسلمان ان عادتوں میں ملوث ہے تو اسلام سے بہت دور ہے اس کو چاہیے کہ اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا ہو اللہ اور اس کے رسول کے بتائے ہوئے دین پر چلیں اور یہود و نصاری کے طریقے کی مخالفت کریں۔




English 





































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































