ہفتہ 21 رجب 1447هـ
#تلنگانہ

“عربی اور اُردو زبان میں نیشنل یونیورسٹیز ہر ریاست میں قائم کی جائیں” – پارلیمنٹ میں بیرسٹر اویسی کاجامع اور مدلل مطالبہ ۔۔کیء تجاویز پیش ۔۔۔

حیدرآباد -12-دسمبر(چوایس نیوز )
کل ہند مجلس اتحاد المسلمین کے صدر و رکن پارلیمان حیدراآباد ،بیرسٹر اسدالدین اویسی نے پارلیمنٹ کے ایوان زیریں لوک سبھا کے اجلاس میں گزشتہ روز ایک اہم خطاب کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ مختلف ریاستوں میں عربی اور اردو زبان میں اعلیٰ معیار کی نیشنل یونیورسٹیاں قائم کی جائیں۔ بیرسٹر
اویسی نے کہا کہ عربی اور اردو دونوں زبانیں نہ صرف ہماری ثقافتی و ادبی وراثت کا اہم حصہ ہیں بلکہ عالمی سطح پر ان زبانوں کا اہم رول ہے۔ انہوں نے اس موقع پر کہا:

“عربی اور اُردو ہماری ثقافتی تہذیب کی بنیادی ستونیں ہیں۔ عربی ایک عالمی سطح پر اہم زبان ہے، جسے اقوام متحدہ کی ایک سرکاری زبان کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے، جبکہ اُردو نہ صرف بھارت کی ۲۲ سرکاری زبانوں میں شامل ہے بلکہ اس کا تعلق آزادی کے تحریک اور ہمارے ادبی ورثے سے گہرا ہے۔”
بیرسٹر
اویسی نے زور دیتے ہوئے کہا کہ:
“آج کل اردو بولنے والوں کی تعداد میں کمی آ رہی ہے، اور عربی کی تعلیم کے مواقع محدود ہیں۔ ایسے میں یہ نہ صرف زبانوں کے تحفظ کا سوال ہے بلکہ تعلیم کے مساوی مواقع، ثقافتی بقاء اور عالمی کامیابی کے مواقع بھی ہیں۔”
بیرسٹر
اویسی نے مطالبہ کیا کہ مرکزی اور ریاستی حکومتیں مل کر ہر ریاست میں عربی اور اُردو کے لیے قومی سطح کی یونیورسٹیاں قائم کریں, تاکہ ان زبانوں میں اعلیٰ تعلیم، تحقیق اور ثقافتی مطالعہ کو فروغ ملے۔
ان کا کہنا تھا کہ عربی زبان کے عالمی تعلقات، سفارتی اور بین الاقوامی مواقع کے لیے اہم کردار ہے، اور اُردو بھارت کے ادبی ورثے کا حصہ رہی ہے۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ تعلیم تک مساوی رسائی کے لیے زبان کا فروغ ضروری ہے، خاص طور پر اُن طلبہ کے لیے جو عربی یا اردو کے ذریعے تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ واضح رہے کہ
ملک میں اردو اور عربی دونوں کی تعلیم کے حوالے سے اس سے پہلے کئی بار بحث رہی ہے کہ بہتر کالج، فیکلٹی، تحقیق اور مالی وسائل کی ضرورت ہے تاکہ یہ زبانیں زندہ اور قابلِ عمل رہیں، خاص طور پر جب کچھ یونیورسٹیوں میں اردو ڈیپارٹمنٹس کو مستقل فیکلٹی نہ ہونے جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ بیرسٹر اویسی نے اس سلسلہ میں مدلل تجاویز پیش کیں ۔واضح رہے کہ
عربی اور اُردو زبانوں کے تحفظ اور فروغ کے مطالبات کے باوجود ملک میں لسانی تنوع اور تعلیمی پالیسیوں پر مختلف آراء موجود ہیں، جن میں متعدد زبانوں کے فروغ، تحفظ اور مساوی نمائندگی کے لیے سیاسی و تعلیمی حلقوں کی حمایت اور تنقید دونوں شامل ہیں۔ (چوایس نیوز)

“عربی اور اُردو زبان میں نیشنل یونیورسٹیز ہر ریاست میں قائم کی جائیں” – پارلیمنٹ میں بیرسٹر اویسی کاجامع اور مدلل مطالبہ ۔۔کیء تجاویز پیش ۔۔۔

وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی کی سابق مرکزی

“عربی اور اُردو زبان میں نیشنل یونیورسٹیز ہر ریاست میں قائم کی جائیں” – پارلیمنٹ میں بیرسٹر اویسی کاجامع اور مدلل مطالبہ ۔۔کیء تجاویز پیش ۔۔۔

تلنگانہ پنچایت انتخابات کے پہلے مرحلے میں

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے