عبادات کا مقصد اللہ کی قربت اور روحانی پاکیزگی کا حصول : مولانا ریاض احمد قادری حسامی
بندگی رب کا اصل مقصد صرف عبادت کی ادائیگی نہیں بلکہ اس کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی قربت حاصل کرنا ہے۔ عبادات انسان کو روحانی طور پر مضبوط اور قلبی طور پر پاکیزہ بناتی ہیں۔ نماز، روزہ، زکوٰۃ اور حج محض ظاہری اعمال یا مذہبی رسمیں نہیں، بلکہ یہ وہ عظیم ذرائع ہیں جن کے ذریعے بندہ اپنے رب سے قرب حاصل کرتا ہے اور اپنی روح کو دنیاوی آلائشوں سے پاک کرتا ہے۔ان خیالات کااظہار مسجد محمودہ شاستری پورم میں نماز جمعہ سے قبل اپنے خطاب میں مولانا محمد ریاض احمد قادری حسامی (ناظم مدرسہ اسلامیہ ریاض العلوم) نے کیا۔مولانا نے کہا کہ عبادت دراصل انسان اور خالق کے درمیان تعلقِ محبت و اطاعت کا مظہر ہے۔ جب بندہ اخلاصِ نیت کے ساتھ سجدہ کرتا ہے، روزہ رکھتا ہے یا زکوٰۃ ادا کرتا ہے تو اس کے دل میں عاجزی، شکرگزاری اور اللہ پر توکل کے جذبات پروان چڑھتے ہیں۔ یہی وہ کیفیات ہیں جو انسان کو روحانی بلندی کی جانب لے جاتی ہیں۔انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج کے دور میں بہت سے لوگ عبادات تو انجام دیتے ہیں مگر ان میں اخلاصِ نیت کی کمی ہے۔ اگر عبادت دکھاوے، شہرت یا کسی دنیاوی مفاد کے لیے کی جائے تو اس کا کوئی روحانی اثر باقی نہیں رہتا۔مولانا نے اس موقع پر نبی اکرم صلعم کی مشہور حدیثِ مبارکہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ’’اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے‘‘۔یعنی اللہ تعالیٰ کے نزدیک ہر عمل کی قبولیت اس کی نیت پر منحصر ہے۔انہوں نے وضاحت کی کہ عبادت کا معیار اللہ کے نزدیک نیت کی پاکیزگی سے طے ہوتا ہے، نہ کہ اس کی ظاہری شکل و صورت سے۔مولانا ریاض احمدقادری حسامی نے کہاکہ جس طرح جسم کے لیے غذا ضروری ہے، اسی طرح روح کے لیے عبادت لازمی ہے۔ جو شخص ذکر، نماز، تلاوت اور دعاؤں سے غافل ہوجاتا ہے، وہ رفتہ رفتہ روحانی کمزوری اور قلبی غفلت کا شکار ہوجاتا ہے۔ عبادت محض مخصوص ایام یا مواقع تک محدود نہیں بلکہ مؤمن کی زندگی کا مسلسل اور دائمی حصہ ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ عبادت سے انسان کے اندر صبر، تحمل، عفو و درگزر اور اخلاقی پاکیزگی کے اوصاف پیدا ہوتے ہیں۔انہوں نے نوجوان نسل سے مخاطب ہوتے ہوئے نصیحت کی کہ وہ عبادت کو صرف فرض کی ادائیگی سمجھ کر نہ انجام دیں بلکہ دل کی گہرائیوں سے اللہ کی رضا اور خوشنودی کے لیے کریں۔ جب نیت خالص ہو تو معمولی عمل بھی ربِ کریم کے نزدیک عظیم بن جاتا ہے، اور جب نیت میں کھوٹ ہو تو بڑے سے بڑا عمل بھی بے اثر رہ جاتا ہے۔مولانا نے کہا کہ اخلاص نیت انسان کے اعمال میں برکت پیدا کرتا ہے، اس کے دل کو سکون دیتا ہے اور اسے اللہ کے خاص بندوں میں شامل کردیتا ہے۔آخر میں مولانانے دعا کی کہ’’اے اللہ! ہمیں اپنی عبادات میں اخلاص عطا فرما، ہماری نیتوں کو درست کر، ہمارے دلوں کو اپنی یاد سے معمور کر، اور ہمیں اپنے قرب و رضا سے نواز۔




English 





































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































