وندے ماترم پر دباؤ غلط، حب الوطنی کو مذہب سے نہ جوڑا جائے : مولانا ریاض قادری حسامی
توحید کا بنیادی عقیدہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ وحدہٗ لاشریک ہے۔ اسلام میں عبادت کی تمام اقسام سجدہ، دعا، نذر، قربانی، خوف و امید اور بھروسہ،صرف اللہ کے لئے مخصوص ہیں۔ کسی اور مخلوق کو الوہیت کا درجہ دینا یا اس کے لئے ایسے کلمات کہنا جو عقیدہ توحید سے ٹکراتے ہوں، یہ دین کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے۔
ان خیالات کا اظہار مولانا محمد ریاض احمد قادری حسامی( ناظم مدرسہ اسلامیہ ریاض العلوم، فلک نما )نے مسجد محمودہ شاستری پورم میں نمازِ جمعہ سے قبل خطاب کرتے ہوئے کیا۔مولانا نے واضح کیا کہ مسلمان وندے ماترم یا کوئی بھی ایسا ترانہ پڑھنے سے گریز کرتے ہیں، جس کے بعض اشعار ان کے عقیدے سے متصادم ہوں، تو یہ ان کا آئینی اور بنیادی حق ہے۔
بھارت کا آئین ہر شہری کو مذہبی آزادی کی ضمانت دیتا ہے، اس لئے کسی بھی فرد کو ایسے جملے یا اشعار پڑھنے پر مجبور کرنا جو ان کے مذہب کے خلاف ہوں، سراسر آئین کی خلاف ورزی ہے۔مولانا نے اپنے خطاب میں ہندوستانی پارلیمنٹ میں اس موضوع پر گزشتہ دنوں ہونے والی بحث کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ملک کے کئی سیکولر اراکینِ پارلیمنٹ نے صاف طور پر کہا کہ حب الوطنی دل کا جذبہ ہے، کسی ترانے کی جبری قرأت اس کی پیمائش نہیں۔
آئین کسی بھی شہری کو مجبور نہیں کرتا کہ وہ کوئی مخصوص نعرہ، گیت یا ترانہ پڑھے۔تعددیت، دستور کی روح ہے،جبری قوم پرستی نہیں۔انہوں نے کہاکہ ہم اس ملک کے برابر کے شہری ہیں، ہماری وفاداری پر سوال اٹھانا توہینِ آئین ہے۔ وندے ماترم کے بعض اشعار ہمارے عقیدے کے خلاف ہیں، اسے نہ پڑھنا آئینی حق ہے اور اس سے میری حب الوطنی کم نہیں ہوتی۔
انہوں نے کہاکہ اس ملک کی آزادی کی لڑائی میں مسلمانوں کا خون شامل ہے، کسی کو یہ حق نہیں کہ ہمیں حب الوطن ثابت کرنے کے لئے کاغذ دکھانے پڑیں۔مولانا نے اس مسئلہ کو بنگال انتخابات سے جوڑ کر کہا کہ یہ انتخابی فائدہ حاصل کرنے کے لئے مذہبی جذبات کو بھڑکانا، مخصوص نعروں کو مسلط کرنا اور حب الوطنی کی نئی تعریفیں گھڑنا سیاسی ہتھکنڈا ہے۔وندے ماترم کا مسئلہ زیادہ تر سیاسی ایجنڈا کے طور پر اچھالا جاتا ہے، ورنہ ملک کے متعدد غیر مسلم آئینی ماہرین بھی کہہ چکے ہیں کہ جبری قوم پرستی جمہوریت کے خلاف ہے۔
مولانا نے کہا کہ مسلمانوں نے ہمیشہ اس وطن کو اپنا گھر سمجھا ہے۔انہوں نے کہا کہ ماب لنچنگ، زبردستی نعرے لگوانا، مذہبی آزادیوں پر پابندیاں، عبادت گاہوں پر قبضے، یہ سب ملک کے امن اور یکجہتی کو متاثر کر رہے ہیں۔مگر اس کے باوجود مسلمان صبر و حکمت کے ساتھ اپنے وطن میں جمے ہوئے ہیں۔انہوں نے کہاکہ ملک سے اربوں روپے لوٹ کر بھاگنے والے کوئی مسلمان نہیں تھے۔ ملک چھوڑنے والے نہیں، ملک بنانے والے مسلمان ہیں۔ مولانا نے کہا کہ رسول اللہ صلعم نے مکہ اور مدینہ سے محبت کا اظہار کیا، اور وطن سے محبت ایمان کا حصہ قرار دیا گیا۔
مسلمان بھی اسی تعلیم پر عمل کرتے ہوئے اپنے وطن کو عزت اور محبت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔انہوں نے آخر میں کہا کہ آج کے تعلیمی اداروں میں جو ماحول پیدا کیا جا رہا ہے، اس پر امت کو سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے تاکہ بچوں کی ایمانی شناخت متاثر نہ ہو۔نصاب کی آڑ میں نظریاتی دباؤ نہ ڈالا جائے اور مدارس، اسکولوں اور کالجوں میں ایسا ماحول ہو جو مذہبی آزادی اور آئینی اقدار کی پاسداری کرے۔ مولانا نے آخر میں دعا کی کہ اللہ ملک میں امن، انصاف اور بھائی چارہ قائم رکھے اور ہر شہری کو اپنے مذہبی تشخص کے ساتھ زندگی گزارنے کی آزادی عطا فرمائے۔




English 





































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































