ہدایت الہٰی دنیا وآخرت کی سب سے بڑی نعمت : مولانا محمدریاض احمد قادری حسامی
انسانیت کو سب سے بڑی ضرورت ہمیشہ سے ہدایت کی رہی ہے۔ اگر انسان ہدایتِ الٰہی سے محروم ہو جائے تو اُس کے پاس دنیا کی ساری دولت، علم اور طاقت ہونے کے باوجود وہ گمراہی کے اندھیروں میں بھٹکتا رہے گا۔ان خیالات کااظہار مسجد محمودہ شاستری پور م میں نماز جمعہ سے قبل اپنے خطاب میں مولانا حافظ محمد ریاض احمد قادری حسامی( ناظم مدرسہ اسلامیہ ریاض العلوم فلک نما) نے کیا۔
انہوں نے کہاکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا ’’یقیناً تمہارے پاس اللہ کی طرف سے نور اور واضح کتاب آ گئی ہے‘‘۔ اس آیتِ مبارکہ میں ’’نور‘‘ سے مراد حضور اکرم کی مقدس نبوت ہے اور ’’کتاب‘‘ سے مراد قرآن مجید ہے۔ یہ دونوں چیزیں اللہ کی طرف سے انسانیت کے لیے سب سے بڑی رحمت اور سب سے اہم رہنمائی کا ذریعہ ہیں۔
مولانا نے قرآن و حدیث کے حوالوں سے بتایا کہ حضور صلعم کی نبوت کا آغاز اُس وقت سے ہے جب حضرت آدمؑ ابھی اپنی تخلیق کے مراحل میں تھے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی روایت پیش کرتے ہوئے انہوں نے بتایاکہ حضور اکرم صلعم سے پوچھا گیا: ’’یا رسول اللہ! آپ کی نبوت کب سے ہے؟’’ تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’جب حضرت آدم علیہ السلام ابھی روح اور جسم کے درمیان تھے، اُس وقت بھی میں نبی تھا۔‘‘اسی طرح ایک اور حدیثِ پاک میں آیا ہے کہ نبی صلعم نے فرمایا: ’’میں اُس وقت بھی خاتم النبیین تھا جب حضرت آدم علیہ السلام ابھی اپنی مٹی میں تھے۔‘‘یہ حقیقت اس بات کو واضح کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ازل ہی سے محمد صلعم کو نبوت کے لیے منتخب فرما لیا تھا اور وہ تمام انبیاء کے سردار ہیں۔مولانا نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کی مشہور روایت پیش کی جس میں فرمایا گیا کہ ’’اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے میرے نور کو پیدا فرمایا۔اس روایت سے واضح ہوتا ہے کہ ساری کائنات کی تخلیق سے پہلے اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب محمدصلعم کے نور کو وجود بخشا۔ یہی نور دراصل تمام مخلوقات کی اصل ہے اور یہی نور اللہ کی سب سے محبوب مخلوق کی پہچان ہے۔
مولانا نے کہا کہ جب حضرت آدم علیہ السلام نے اپنی لغزش کا احساس کیا تو اللہ سے دعا کی:’’اے ہمارے رب! ہم نے اپنے نفس پر ظلم کیا۔ اگر تو ہماری مغفرت نہ فرمائے اور رحمت نہ کرے تو ہم خسارہ میں ہوں گے۔‘‘مفسرین نے لکھا ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام نے یہ دعا حضور صلعم کے وسیلے سے کی۔ انہوں نے اللہ سے عرض کیا :’’اے رب! میں محمد ﷺ کے وسیلے سے دعا کرتا ہوں، جنہیں تو نے سب سے زیادہ محبوب بنایا ہے۔‘‘اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا :’’تم نے سچ کہا اے آدم! اگر محمد ﷺ نہ ہوتے تو میں تمہیں بھی پیدا نہ کرتا۔ میں نے تمہاری توبہ قبول کرلی۔‘‘۔
مولانا حافظ محمد ریاض احمد قادری حسامی نے کہا کہ مسلمان کے لیے سب سے بڑا سرمایہ یہ ہے کہ وہ اللہ کی ہدایت پر ایمان لائے، محمد صلعم کی نبوت اور ان کی سنت کو اپنی زندگی کا حصہ بنائے اور قرآن مجید کی تعلیمات پر عمل کرے۔انہوں نے کہا کہ آج کے دور میں انسانیت گمراہی، فتنوں، نفسانی خواہشات اور سائنسی ترقی کے باوجود روحانی و اخلاقی زوال کا شکار ہے۔ اس اندھیرے سے نکلنے کا واحد راستہ قرآن و سنت سے وابستگی ہے۔




English 


































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































