ہفتہ 21 رجب 1447هـ
#تلنگانہ

مومن کے لیے سب سے بڑی نعمت ایمان اور شکر کا جذبہ : مولانا ریاض احمد قادری حسامی

حیدرآباد 10 اکٹوبر (پٹریاٹک ویوز) بندہ مومن کے لیے سب سے بڑی نعمت ایمان اور شکر کا جذبہ ہے۔ جس دل میں شکر بستا ہے وہاں مایوسی، ناشکری اور بے صبری کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ان خیالات کااظہارمسجد محمودہ شاستری پورم میں نماز جمعہ سے قبل اپنے خطاب میں مولانا ریاض احمد قادری حسامی( ( ناظم مدرسہ اسلامیہ ریاض العلوم فلک نما) نے کیا۔ مولانا نے قرآن کریم کی آیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’’اگر تم شکر ادا کرو گے تو میں تمہیں مزید عطا کروں گا، اور اگر ناشکری کرو گے تو میرا عذاب سخت ہے۔‘‘انہوں نے وضاحت کی کہ شکر صرف زبان سے کہنے کا نام نہیں بلکہ دل کی کیفیت اور عمل کا اظہار ہے۔ جس قوم یا فرد نے شکر کا رویہ اپنایا، اللہ نے ان پر نعمتوں کے دروازے کھول دیے، اور جو ناشکری میں مبتلا ہوئے، ان پر خوف، بھوک اور محرومی مسلط کر دی گئی۔نبی کریم ﷺ نے فرمایاکہ’’جس نے صبح اس حال میں کی کہ اس کا جسم تندرست ہے، اس کے دل میں امن ہے، اور اس کے پاس ایک دن کا کھانے کا سامان موجود ہے، تو گویا پوری دنیا اس کے لیے جمع کر دی گئی۔(سنن ترمذی، ابن ماجہ، مشکوٰۃ المصابیح)۔مولانا نے اس حدیث کی روشنی میں کہا کہ صحت، امن اور ایک دن کا رزق ۔ یہ تین چیزیں حاصل ہوں تو انسان دنیا کے سب سے خوش نصیب افراد میں شامل ہے۔ یہی شکر گزاری کی اصل روح ہے کہ بندہ اپنے حال پر راضی رہے، حرص و طمع سے بچے، اور ہمیشہ اپنے رب کا شکر ادا کرے۔مولانا نے نبی اکر مؐ کی سیرتِ طیبہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ حضور صلعم باوجود اس کے کہ آپؐ کے تمام گناہ معاف کیے جا چکے تھے، راتیں عبادت میں گزارتے اور فرماتے کہ ’’کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں‘‘۔یہی شکر کا اعلیٰ ترین مقام ہے کہ انسان نعمت کے بدلے نہیں بلکہ اللہ کی محبت میں شکر ادا کرے۔انہوں نے حضرت ایوب علیہ السلام کی آزمائشوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جب ان سے مال، اولاد اور صحت سب چھن گیا، تب بھی آپؑ نے صبر اور شکر کا دامن نہیں چھوڑا۔ اسی صبر کے بدلے اللہ تعالیٰ نے انہیں پہلے سے زیادہ نعمتوں سے نوازا۔ مولانا نے کہاکہ صبر اور شکر دونوں ہی ایمان کی جڑ ہیں۔مولانا قادری حسامی نے حضرت ابو قلابہؒ کا ایمان افروز واقعہ بیان کرتے ہوئے بتایا کہ اگرچہ ان کے ہاتھ پاؤں اور بینائی جاتی رہی، پھر بھی وہ اللہ کا شکر ادا کرتے رہتے اور فرماتے’’ اللہ کا شکر ہے کہ اس نے مجھے ان مصیبتوں سے بچایا جن میں بہت سے لوگ مبتلا ہیں۔‘‘یہی ایمان کی وہ قوت ہے جو جسم کے مفلوج ہونے کے باوجود دل کو زندہ رکھتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ شکر صرف ’’الحمد للّٰہ‘‘ کہنے کا نام نہیں بلکہ یہ احساس ہے کہ ہر نعمت کے پیچھے ربّ کا فضل ہے۔ جو شخص والدین، اساتذہ، دوستوں اور قوم و ملت کے لیے شکر گزار ہوتا ہے، وہ دراصل اللہ ہی کا شکر ادا کرتا ہے۔ رسول اللہ صلعم نے فرمایا:’’جو لوگوں کا شکر ادا نہیں کرتا، وہ اللہ کا بھی شکر گزار نہیں بن سکتا۔‘‘مولانا نے موجودہ دور کی بے اطمینانی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ آج انسان کے پاس آسائشیں تو ہیں مگر دل کا سکون نہیں، کیونکہ ہم نعمتوں کو نعمت سمجھنا بھول گئے ہیں۔ اگر ہم اپنی زبان، دل اور عمل سے شکر کا نظام قائم کر لیں تو ہمارے گھروں اور معاشروں میں سکون لوٹ آئے گا۔خطبہ کے آخر میں مولانا نے دعا کی کہ اے اللہ! ہمیں حقیقی شکر ادا کرنے والا بنا، ناشکری، تکبر اور بے صبری سے محفوظ فرما، اور ہمیں صابر و شاکر بندوں میں شامل کر۔

مومن کے لیے سب سے بڑی نعمت ایمان اور شکر کا جذبہ : مولانا ریاض احمد قادری حسامی

فاطمہ اولڈ ایج ہوم فلک نما کا

مومن کے لیے سب سے بڑی نعمت ایمان اور شکر کا جذبہ : مولانا ریاض احمد قادری حسامی

اے سی پی و سرکل انسپکٹر فلک

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے