ہفتہ 21 رجب 1447هـ
#تلنگانہ

نئی نسل کی تربیت وقت کی سب سے اہم و بڑی ذمہ داری: مولانا محمد ریاض احمد قادری حسامی

حیدرآباد(راست)موجودہ دور میں مسلمانوں کی سب سے بڑی واہم ذمہ داری اپنی نئی نسل کی دینی اور اخلاقی تربیت ہے۔ہمیں یہ حقیقت تسلیم کرنی ہوگی کہ اسلام کا مستقبل ہماری نئی نسل کی اصلاح اور تربیت پر منحصر ہے۔ اگر ہم نے انہیں قرآن، سنت، اور اسلامی اقدار سے جوڑنے میں ناکامی کی تو نہ صرف دین کو نقصان ہوگا بلکہ امت بھی اخلاقی زوال کا شکار ہو جائے گی۔

ان خیالات کااظہار مسجد اکبری( بڑی مسجد)، منگل ہاٹ حیدرآباد میں ’’دینی تعلیم کی اہمیت اور مسلمانوں کی ذمہ داریاں‘‘ عنوان سے منعقدہ جلسہ سے مولانا محمد ریاض احمد قادری حسامی( ناظم مدرسہ اسلامیہ ریاض العلوم و خلیفہ مولانا جعفر پاشا ثانی)ؒ، نے کیا۔انہوںنے افسوس کااظہارکرتے ہوئے کہا کہ آج مسلم نوجوان قتل، نشہ، بددیانتی، سود، اور دیگر معاشرتی و اخلاقی جرائم میں ملوث ہو رہے ہیں۔

انہوں نے اس بات پرتشویش کااظہار کیا کہ جیلوں میں مسلم نوجوانوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے، لیکن ملت ان کے حالات سے غافل ہے۔موبائل فون، انٹرنیٹ اور ٹی وی جیسی سہولیات، اگرچہ وقت کی ضرورت ہیں، مگر ان کے غلط استعمال نے ہماری اولاد کو دین اور اقدار سے دور کر دیا ہے۔

مولانا نے والدین کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ گھروں میں غیر اخلاقی مواد تک بچوں کی رسائی نے انہیں ایمان و اخلاق کی راہ سے بھٹکا دیا ہے۔مولانا نے کہاکہ والدین اگر تعلیم کے ساتھ تربیت کو نظرانداز کریں تو ان کی اولاد دین سے دور اور معاشرتی برائیوں کا شکار ہوجائے گی۔ خاص طور پر مسلم بچیوں کے ارتداد اور غیر اسلامی رجحانات کی بڑھتی ہوئی شرح پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ اگر ماں باپ خود دینی ماحول سے ناواقف ہوں، تو اولاد دین کے بارے میں کیسے شعور حاصل کرے گی۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ مسلم معاشرے میں جہیز کی لعنت بھی ایک ایسا ناسور ہے جو دین و شریعت کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے اور اس کی وجہ سے کئی بچیاں زندگی بھر رشتوں سے محروم رہ جاتی ہیں۔مولانا نے کہا کہ بچوں کو مساجد، مکاتب اور دینی اجتماعات سے جوڑا جائے۔ قرآن کریم کی تعلیم، تجوید اور حفظ پر توجہ دی جائے۔ بیٹیوں کی دینی تربیت، اسلامی محافل میں شمولیت اور ان کے اندر صبر، حیا، اور عزم جیسی صفات پیدا کی جائیں تاکہ وہ آنے والے وقت میں مثالی مسلمان خواتین بن سکیں۔

مولانا نے ایک اہم واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایک مرتبہ مولانا عاقلؒ سے کسی نے سوال کیا کہ بھارت میں مسلمان اتنی مشکلات کا شکار کیوں ہیں؟ جس پر انہوں نے جواب دیا تھا کہ ہم نے 1000 سال حکومت کی، لیکن اسلام کے حسن و اخلاق اور نبی اکرم صلعم کی سیرت کو دوسروں تک نہیں پہنچایا۔ ہم نے دعوت و تبلیغ کی بجائے صرف حکمرانی پر توجہ دی، اس کا نتیجہ آج ہم نفرت اور تعصب کی صورت میں بھگت رہے ہیں۔

مولانا ریاض حسامی نے پرزور انداز میں کہا کہ ہر مومن اپنی جگہ پر دین اسلام کا نمائندہ اور داعی ہے۔ اس کی زبان، اس کے اعمال، اور اس کا کردار دعوت دین کا ذریعہ ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم نے آج اصلاح نہیں کی تو آنے والا وقت موجودہ دور سے بھی زیادہ سخت، خطرناک، اور ایمان کے لیے آزمائشی ہوگا۔

مولانا نے آخر میں کہاکہ اگر مسلم امت اپنی نئی نسل کو ایمان، علم، اور کردار کی دولت سے آراستہ نہیں کرے گی تو وہ صرف دنیا میں ہی نہیں بلکہ آخرت میں بھی خسارے میں رہے گی۔ والدین ، علماء، اساتذہ، اور سماجی جہدکاروں کوبیدار ہونا ضروری ہے۔

نئی نسل کی تربیت وقت کی سب سے اہم و بڑی ذمہ داری: مولانا محمد ریاض احمد قادری حسامی

خادم قوم و ملت مولانا غیاث احمد

نئی نسل کی تربیت وقت کی سب سے اہم و بڑی ذمہ داری: مولانا محمد ریاض احمد قادری حسامی

05 اگست 2025

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے