ہفتہ 21 رجب 1447هـ
#حیدرآباد

حیدرآباد، 18 دسمبر: بی آر ایس کی ایم ایل سی کے. کویتا نے کانگریس حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے موسیٰ ندی بیوٹیفکیشن پروجیکٹ سے متعلق جھوٹ اور تضادات کو بے نقاب کیا۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کویتا نے الزام لگایا کہ کانگریس حکومت عوام، اسمبلی اور دیگر اہم حلقوں کو پروجیکٹ کے مقاصد، فنڈنگ اور تفصیلات کے بارے میں گمراہ کر رہی ہے۔

کویتہ نے بتایا کہ کانگریس حکومت نے 19 ستمبر 2024 کو ورلڈ بینک کو اطلاع دی کہ پروجیکٹ کی ڈی پی آر تیار ہے، لیکن 4 اکتوبر کو حکومت نے ایک آرڈر جاری کرتے ہوئے 160 کروڑ روپے کنسلٹنٹ کمپنیوں کو ڈی پی آر بنانے کے لیے دیے۔ اس کے باوجود، 17 دسمبر کو اسمبلی میں حکومت نے کسی بھی ڈی پی آر کی موجودگی سے انکار کر دیا۔

کانگریس حکومت کی عوام دشمن پالیسی:
ایم ایل سی کویتا نے کہا کہ موسیٰ پروجیکٹ کے نام پر 16,000 سے زائد خاندانوں کو بے گھر کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے تاکہ رئیل اسٹیٹ اور کمرشل پروجیکٹس کو فروغ دیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ اس پروجیکٹ کا اصل مقصد عوام کی فلاح و بہبود کے بجائے رئیل اسٹیٹ مافیا کو فائدہ پہنچانا ہے۔

ورلڈ بینک قرضوں پر سوالات:
کویتہ نے سوال کیا کہ ریاست پر پہلے ہی 1.28 لاکھ کروڑ روپے کا قرض ہے، پھر کانگریس حکومت موسیٰ پروجیکٹ کے لیے مزید 4,100 کروڑ روپے کا قرض کیوں لے رہی ہے؟ انہوں نے کانگریس حکومت پر الزام لگایا کہ وہ ریاست کے مستقبل کو گروی رکھ رہی ہے اور بیرونی اداروں کے ہاتھوں تلنگانہ کی معیشت کو کمزور کر رہی ہے۔

ایم ایل سی کویتا نے کہا، "ہم کانگریس حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ڈی پی آر اور پروجیکٹ کی مکمل تفصیلات عوام کے سامنے پیش کرے۔ اگر حکومت ایسا نہ کرے تو اسمبلی میں استحقاق کی تحریک پیش کی جائے گی۔”

کویتہ نے کہا، "ہم موسیٰ ندی کے اطراف رہنے والے غریب خاندانوں کے ساتھ کھڑے ہیں اور ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائیں گے۔ یہ پروجیکٹ عوامی فلاح کا نہیں بلکہ دھوکہ دہی کا منصوبہ ہے، جسے بی آر ایس ہرگز کامیاب نہیں ہونے دے گی۔”ایم ایل سی کویتا نے کہا کہ بی آر ایس عوام کے حقوق اور ریاست کے وسائل کی حفاظت کے لیے ہمیشہ آواز بلند کرتی رہے گی اور کانگریس حکومت کے جھوٹ اور تضادات کو بے نقاب کرتی رہے گی۔

تلنگانہ میں ہکّا سینٹرز اور منشیات پر

تلنگانہ میں پی جی میڈی****کل سیٹوں کے

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے