ہفتہ 21 رجب 1447هـ
#تلنگانہ

تلنگانہ کی تہذیب و ثقافت کو مٹانے کی منظم سازشیں، کویتا کی کانگریس پر شدید تنقید

حیدرآباد، 13 دسمبر (پٹریاٹک ویوز) بی آر ایس کی رکن قانون ساز کونسل، کےکویتا نے آج تلنگانہ کی ثقافت کو مٹانے کی کوششوں پر کانگریس حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ اپنی رہائش گاہ پر ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کویتا نے کہا کہ تلنگانہ کی ثقافت کو ختم کرنے کے لیے ایک منظم سازش کی جا رہی ہے، جس کا مقصد عوامی امنگوں کو کچلنا ہے۔

کویتا نے بتایا کہ تلنگانہ تلی کے مجسمہ سے بتکماں کو ہٹانے جیسے اقدامات اسی سازش کا حصہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ تحریک کے دوران عوامی سطح پر مقبول نشانات پر ہونے والے حملے تلنگانہ کے عوام کے جذبات کے خلاف ہیں۔ کویتا نے کانگریس قیادت، خاص طور پر راہول گاندھی سے سوال کیا کہ کیا یہ تمام اقدامات ان کی منظوری سے ہو رہے ہیں؟ کیا وہ تلنگانہ کے عوام کی ثقافت اور وراثت سے کھیلنے کی حمایت کرتے ہیں؟

بی آر ایس کے قائد نے گاندھی خاندان کو یاد دلاتے ہوئے کہا کہ بتکماں تلنگانہ کی ثقافت کا ایک لازمی جزو ہے، جسے ماضی میں اندرا گاندھی، سونیا گاندھی اور راہول گاندھی نے خود منایا تھا۔ انہوں نے کہا کہ آج تلنگانہ کی شناخت کو مٹانے کی کوششوں پر کانگریس کی خاموشی ایک سوالیہ نشان ہے۔

کویتا نے مزید کہا کہ راہول گاندھی، جو بھارت جوڑو یاترا کے دوران بتکماں کھیل چکے ہیں، آج تلنگانہ کی ثقافت پر ہونے والے حملوں پر خاموش کیوں ہیں؟ ان سے اس بارے میں جواب طلب کیا جائے گا۔

انہوں نے وزیراعلیٰ ریونت ریڈی کی جانب سے کیے جانے والے من مانی اقدامات پر بھی شدید تنقید کی اور کہا کہ یہ عوام کی امنگوں کے خلاف ہیں۔ کویتا نے اعلان کیا کہ تلنگانہ جاگرتی کل ایک گول میز کانفرنس کا انعقاد کرے گی، جس میں تلنگانہ کی ثقافت پر ہونے والے حملوں کے خلاف حکمت عملی تیار کی جائے گی اور ان سازشوں کے خلاف لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔

کویتا کی اس پریس کانفرنس نے تلنگانہ کی ثقافت کو بچانے کی لڑائی میں ایک نیا موڑ پیدا کر دیا ہے، جس میں بی آر ایس نے کانگریس اور حکومت کے اقدامات کے خلاف اپنی آواز بلند کی ہے۔

تلنگانہ کی تہذیب و ثقافت کو مٹانے کی منظم سازشیں، کویتا کی کانگریس پر شدید تنقید

ہائی کورٹ نے اداکار الو ارجن کو

تلنگانہ کی تہذیب و ثقافت کو مٹانے کی منظم سازشیں، کویتا کی کانگریس پر شدید تنقید

حکومت چاول کے مل مالکان کے خلاف

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے