والدین کی خوشنودی میں دنیاوآخرت کی کامیابی پوشیدہ : مولانا محمد ریاض احمد قادری حسامی
معاشر ہ میں اولڈیج ہوم کلچر میں تیزی سے اضافہ اور ضعیف والدین سے بے رخی افسوسناک
حیدرآباد (راست)والدین کی خدمت انسان کی دنیا و آخرت سنوار دیتی ہے جبکہ ان کی نافرمانی اور دل آزاری انسان کو بربادی کی طرف لے جاتی ہے۔ان خیالات کا اظہارنماز جمعہ سے قبل مسجد محمودہ، شاستری پورم میں اپنے خطاب میں مولانا محمد ریاض احمد قادری حسامی( ناظم مدرسہ اسلامیہ ریاض العلوم فلک نما) نے کیا۔انہوں نے سورہ بنی اسرائیل کی آیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا’’اور تیرے رب نے فیصلہ کر دیا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور والدین کے ساتھ بھلائی کرو۔ اگر ان میں سے ایک یا دونوں تیرے سامنے بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان کو اُف تک نہ کہو اور نہ جھڑکو بلکہ ان سے ادب کی بات کرو۔
‘‘مولانا نے موجودہ دور کی کئی برائیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ آج اولاد اکثر والد کو نظرانداز کرتی ہے، حالانکہ وہ دن رات محنت کر کے اولاد کے لیے رزق مہیا کرتا ہے۔ اسی طرح بعض بچے والدہ یا والد میں سے کسی ایک کا ساتھ دے کر دوسرے کو ذلیل کرتے ہیں جو سراسر ظلم اور اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا سبب ہے۔مولانا نے افسوس کااظہار کرتے ہوئے کہاکہ آج کل اولڈ ایج ہومز میں اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے، اور افسوس کی بات یہ ہے کہ زیادہ تر پڑھے لکھے اور باشعور سمجھے جانے والے افراد ہی اپنے والدین کو بڑھاپے میں ان مراکز کے حوالے کر رہے ہیں۔
یہ رویہ نہ صرف غیر اسلامی ہے بلکہ اخلاقی و انسانی اقدار کے بھی سراسر منافی ہے۔اسلامی تعلیمات میں والدین کو بڑھاپے میں سہارا دینا سب سے بڑی نیکی قرار دیا گیا ہے، لیکن آج کا معاشرہ مغربی طرزِ زندگی سے متاثر ہو کر والدین کو بوجھ سمجھنے لگا ہے۔اولڈ ایج ہومز میں جانے والے زیادہ تر والدین کا سب سے بڑا دکھ یہی ہوتا ہے کہ جن اولاد کے لیے وہ زندگی بھر محنت کرتے رہے، وہی اولاد بڑھاپے میں سہارا بننے کے بجائے بے رُخی کا مظاہرہ کرتی ہے۔پڑھے لکھے افراد کے والدین کو چھوڑنے کی ایک بڑی وجہ مادی لالچ، مصروف طرزِ زندگی اور جائیداد کی ہوس ہے۔انہوں کہاکہ ہم چھوٹی چھوٹی باتو ںکولیکر ایک دوسرے پر مقدمات دائر کررہے ہیں یہاں تک کہ اولاد بھی اپنے والدین کے خلاف مقدمہ دائرکرتے ہوئے انہیں پریشان کررہی ہے۔
کچھ اولاد پرانی سختیوں کو یاد کر کے والدین سے انتقام لینے لگتی ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ والدین کی سختی بھی تربیت اور اولاد کی بھلائی کے لیے ہوتی ہے۔مولانا نے کہا کہ بڑھاپے میں والدین کو سہارا دینا اولاد کی سب سے بڑی ذمہ داری ہے، مگر آج افسوس کہ شادی کے بعد کئی بچے والدین کو بھول جاتے ہیں۔انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ والدین کے ساتھ ادب و اطاعت لازم ہے،ان کے سامنے آواز بلند نہ کی جائے،بڑھاپے میں ان کی خدمت کی جائے اوروالدین کے بعد بھی ان کے دوستوں اور تعلق داروں کا احترام کیا جائے۔
مولانا محمد ریاض احمد قادری حسامی نے آخر میں کہا کہ والدین جنت کا ذریعہ ہیں، اس لیے انہیں خوش رکھو۔ جائیداد یا دنیاوی لالچ کی خاطر والدین کو ناراض مت کرو۔ اگر والدین کی دعائیں مل گئیں تو دنیا و آخرت سنور جائے گی اور اگر وہ ناراض ہو گئے تو سب کچھ ہوتے ہوئے بھی زندگی برباد ہو جائے گی۔




English 


































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































