ہفتہ 21 رجب 1447هـ
#تلنگانہ

مسلم خواتین کی عزت مجروح کرنے پر بہار چیف منسٹر کے خلاف جماعت اسلامی شعبہ خواتین کریم نگر کا صداے احتجاج۔ سخت کارروائی کا مطالبہ

کریمنگر 23 دسمبر (اسٹاف رپورٹر)
جماعتِ اسلامی ہند شعبہ خواتین ضلع کریمنگر کی جانب سے مسلم خواتین و طالبات نے تلنگانہ چوک پر ایک پُرامن احتجاجی مظاہرہ منظم کیا۔ یہ احتجاج بہار کے وزیرِ اعلیٰ نتیش کمار کے حالیہ رویّے کے خلاف تھا، جہاں سرٹیفکیٹ تقسیم کی تقریب کے دوران ڈاکٹر نصرت پروین کے حجاب کو بہار کے چیف منسٹر نیتیش کمار نے کھینچنے کر ڈاکٹر نصرت پروین کی ذاتی وقار اور حدود کو مجروح کرنے کا واقعہ پیش آیا۔ جس پر ملک گیر سطح پر احتجاج کیے جا رہیں ہیں۔ سیدہ ساجدہ بیگم اسٹیٹ سیکریٹری شعبہ خواتین نے اس عمل کو خواتین کی عزت، مذہبی آزادی اور نجی زندگی پر براہِ راست حملہ قرار دیا۔ خواتین نے گیتا بھون چوراستہ کے قریب احتجاج کیا اور بعد ازاں ٹو ٹاؤن پولیس کو ایک تحریری عرضداشت پیش کی، ازاد قبل احتجاج عائشہ سلطانہ ضلعی صدر، واقعہ کی سخت مذمت کے ساتھ قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔ محترمہ عمرانہ رکن شعبہ خواتین نے کہا کہ مسلم خواتین اپنے آئینی حقوق پر کسی قسم کی مداخلت قبول نہیں کریں گی اور قانونی راستے سے انصاف کے حصول کے لیے پرعزم ہیں۔ صابقہ کارپوریٹر افرا تحریم نے کہاکہ آئندہ ایسی تقریبات میں خواتین کے وقار اور مذہبی آزادی کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔۔ ایڈوکیٹ ادیبہ رحمان نے کہا کہ یہ واقعہ کئی آئینی و قانونی دفعات کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے:

آئینِ ہند کا آرٹیکل 21
ہر شہری کو زندگی اور شخصی آزادی کا حق دیتا ہے، جس میں نجی زندگی (Right to Privacy) بھی شامل ہے۔ کسی خاتون کے لباس، خصوصاً مذہبی شناخت سے وابستہ حجاب کے ساتھ زبردستی چھیڑ چھاڑ اس حق کی صریح خلاف ورزی ہے۔

آرٹیکل 25 – مذہبی آزادی
ہر فرد کو اپنے مذہبی عقائد پر عمل کرنے کی آزادی حاصل ہے۔ حجاب مذہبی علامت ہونے کے باعث اس میں مداخلت مذہبی آزادی پر قدغن سمجھی جا سکتی ہے۔
دفعہ 74: عورت کی عزت پر حملہ یا اس کی توہین۔
دفعہ 79: کسی خاتون کی عزت مجروح کرنے کے ارادے سے الفاظ، حرکات یا اشارات۔ ان دفعات کے تحت مقدمہ درج کرنے کی قانونی بنیاد موجود ہے۔ مزید کہا کہ سپریم کورٹ متعدد فیصلوں میں یہ واضح کر چکی ہے کہ خواتین کی جسمانی خودمختاری اور مذہبی شناخت کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے، خواہ معاملہ کسی عوامی تقریب ہی میں کیوں نہ پیش آیا ہو۔ احتجاج میں شریک خواتین نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوے کہا کہ نتییش کمار کے خلاف فوجداری مقدمہ درج ہو۔اس موقع سلطانہ صاحبہ اور زرینہ صاحبہ کے علاوہ ناظم شہر جماعت اسلامی ہند کریم نگر امیر مقامی محمد خیرالدین، عارف عرفان و دیگر ذمہ داران بھی موجود تھے

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے