ہفتہ 21 رجب 1447هـ
#تلنگانہ

سدا سواپیٹ میں جماعت اسلامی ہند کا اجتماع

سدا سیوا پیٹ 31/دسمبر(روز نامہ پٹریاٹک ویوز ) جماعت اسلامی ہند شاخ سداسیوا بیٹ کی جانب سے مدینہ مسجد میں حقوق ہمسایہ کے عنوان پر ایک اجتماع عام منعقد کیا گیا. جس میں مہمان خصوسی کی کی حیثیت سے مولانا مفتی اسلم قاسمی صدر جمعیت علمائے ہند ضلع سنگاریڈی اور ماز محمد صاحب ناظم ضلع جماعت اسلامی ہند ناگر کرنول نئے شرکت کرتے ہوئے خطاب کیا. اور کہا کہ اج حقوق ہمسایہ کے عنوان پر جماعت اسلامی ہند کی جانب سے ملک گیر سطح پر یہ جو مہم چلائے جا رہی ہے. ہمارے معاشرے کے اندر تبدیلی لائی جا سکے. اسلام دنیا کا واحد مذہب ہے جس میں پڑوسیوں کے لیے بہت سارے حقوق رکھے گئے ہیں. احادیث میں ایا ہے کہ اگر کسی شخص کی کسی حرکت کی وجہ سے اگر اس کا پڑوسی ناراض ہو تو وہ مومن نہیں رہے گا. اور اس کی عبادت ناقابل قبول رہیں گی. اس موقع پر ماز محمد صاحب نے اپنے خطاب میں کہا کہ ایک دفعہ تمام صحابیوں نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ ایک اچھا پڑوسی بننے کے لیے کیا کرنا چاہیے. اس موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اچھا پڑوسی بننے کے لیے اگر اپ کا پڑوسی اپ سے کچھ مدد طلب کرے اور تم اس کی مدد کرو تو تم اچھے پڑوسی ہو. اگر کسی ادمی کو زندگی میں تین چیزیں مل جائے تو وہ خوش نصیب ہوگا. پہلا اچھا پڑوسی دوسرا اچھا گھر تیسرا اچھی سواری. ماز محمد صاحب نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ ہم لوگ جہاں کہیں بھی رہیں کتنے دیر کے لیے رہیں اس وقت تک بھی ہم تمام پڑوسیوں کا خیال رکھیں. اج کل شہروں کے علاقے میں اپارٹمنٹ کا کلچر سے پڑوسیوں سے تعلقات ختم ہوتے جا رہے ہیں. لیکن ہم لوگوں کو چاہیے کہ ہم اپنے پڑوسیوں سے ملاقات کرتے ہوئے ان کا حال جاننے کی کوشش کریں اگر وہ کسی پریشانی یا تکلیف میں ہو تو ان کی مدد کرنے کی پوری کوشش کرے. اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کا ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ نبی کے زمانے میں ایک عورت جو خود عبادت گزار تھی نماز روزے ادا کرتی تھی لائکن وہ پڑوسیوں سے گالی گلوچ کرتی تھی. تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ عورت جہنمی ہے. اگر ہم سے ہمارے پڑوسی محفوظ نہیں ہے ان کو تکلیف ہوتی ہے تو ہماری تمام عبادتیں رائے گا جائیں گی. اس لیے ہمیں پڑوسیوں کے جذبات کا خیال رکھنا چاہیے. اگر ہمارے گھروں میں کچھ اچھا پکوان پکایا جائے تو پڑوسیوں تک پہنچایا جائے اگر اگر ہماری استطاعت نہیں ہے تو پڑوسیوں تک اس پکوان کی خوشبو نہ پہنچنے پائے. اگر ہمارے گھر میں کسی قسم کے پھل لائیں تو اس میں بھی پڑوسیوں کا خیال رکھے ورنہ ان پھلوں کی چھلکے ایسی جگہ پھینکے جس پر پڑوسی کی نظر نہ پڑے. اس موقع پر انہوں نے مزید کہا کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی عبادتوں کو دکھا کر لوگوں کو اپنے دین کی طرف نہیں بلایا بلکہ اپنے اخلاق کو دکھا کر لوگوں کو دین کی دعوت دی. اج کے زمانے میں لوگ نماز روزے حج کو ہی دین سمجھ رہے ہیں یہ تو صرف 25 فیصد دین ہے ماہ باقی 75 فیصد دین تو ہمارے اخلاق اور اپنوں کے حقوق ہیں. جلسے کا اغاز محمد مجاہد محی الدین کی تلاوت و ترجمانی سے کیا گیا. نظامت کے فرائض محمد شکیب احمد نے انجام دیے. اس موقع پر امیر مقامی جماعت اسلامی ہند الحاج محمد امجد حسین صاحب ، محمد اشفاق حسین صدر خدمت بینک ، شیخ غوث پاشاہ مقامی صدر مجلس اتحاد المسلمین کے علاوہ کثیر تعداد میں لوگ موجود تھے.

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے