میں ایک خود مختار رہنما ہوں۔ میرے پس پردہ کوئی نہیں
میرے سامنے صرف عوام ہیں۔سماجی تلنگانہ کا حصول میرا منشا و مقصد: محبوب نگر میں کویتا کا پریس کانفرنس سے خطاب
صدر تلنگانہ جاگروتی کلواکنٹلہ کویتا نے کہا کہ وہ ایک آزاد اور خود مختار رہنما ہیں۔ان کے پس پردہ یا پیچھے کوئی نہیں ہے۔ ان کے سامنے صرف عوام ہیں۔ وہ محبوب نگر میں پریس کانفرنس سے خطاب کر رہی تھیں۔ کے کویتا نے کہا کہ عوام پر ان کے نظریات اور موقف کی اصل سمت جلد ہی ان کی جدوجہد سے واضح ہو جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ سیاست میں نئی راہیں اختیار کرنے والوں پر الزامات، شکوک و شبہات اور تضحیک معمول کی بات ہے۔ کانگریسی لیڈرس کہتے ہیں کہ میں بی جے پی کی بی ٹیم ہوں۔ بی جے پی قائدین کہتے ہیں کہ میں کانگریس کی بی ٹیم ہوں اور بی آر ایس کے قائدین مجھ پر ان کے لحاظ سے تنقید کرتے ہیں مگر میرا راستہ اور میری راہیں واضح ہے
جو کہ عوام کا راستہ یا عوام کی راہ ہے۔ کے کویتا نے چیف منسٹر ریونت ریڈی پر شدید تنقید کی اور کہا کہ پانی، فنڈس اور تقررات کے معاملات میں ریاستی حکومت صریح ناانصافی کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ محبوب نگر کے ساتھ تاریخی ناانصافی کی جا رہی ہے۔ چیف منسٹر کو یہ بات سمجھنی چاہئے کہ عوام انہیں کبھی معاف نہیں کریں گے۔ صدر تلنگانہ جاگروتی نے بتایا کہ گروپ 1 کے تقررات عمل میں لائے گئے. آٹھ نان لوکل امیدواروں کو ملازمت فراہم کی گئی۔ انہوں نے اس معاملہ میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو مکتوب تحریر کی ہیں۔کویتا نے کہا کہ حکومت نے2.5 لاکھ کروڑ روپئے قرض حاصل کیالیکن انتخابی وعدوں اور چھ ضمانتوں پر عمل آوری کے لئے کوئی اقدامات روبہ عمل نہیں لائے۔کویتا نے اعلان کیا کہ تلنگانہ جاگروتی کی جانب سے جلد ہی ایک شیڈو کابینہ تشکیل دی جائے گی جو حکومت کے ہر محکمہ پر نظر رکھے گی۔ عوامی مسائل کو اجاگر کیا جائے گا اور ارباب مجاز سے جواب طلب کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ وہ خود بھی ایک تحریک کی مظلوم کارکن ہیں۔ تحریک کے دھوکہ کھائے ہوئے کارکنوں میں سے وہ ایک ہیں مگر وہ ہار ماننے والی نہیں ہیں۔ ان کاسفر تمام مظلوم کارکنوں کے حق کے حصول کے لئے جاری و ساری رہے گا۔انہوں نے افسوس ظاہر کیا کہ ریاست میں آج بھی عام عوام کو بہتر علاج و معالجہ اور معیاری تعلیم کی سہولتیں میسر نہیں ہیں۔جرچڑلہ کے سرکاری اسپتال میں طبی سہولیات کی عدم فراہمی کے باعث ایک نوجوان کسان کی جان چلی گئی۔ یہ وہ تلنگانہ نہیں ہے جس کے لئے ہم نے قربانیاں دی تھیں۔ آج غریبوں کے لئے تعلیم اورعلاج دونوں مشکل ہو گئے ہیں۔ امرا کے بچے بیرون ممالک میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ غریبوں کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ کویتا نے کہا کہ ہم نے صرف جغرافیائی تلنگانہ حاصل کیا ہے۔ سماجی تلنگانہ کا حصول ابھی بھی باقی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اب جدوجہد عوامی عزت نفس، مساوی مواقع اور ترقی میں حصے داری کے لئے ہوگی۔ صدر تلنگانہ جاگروتی نے کہا کہ ریاست میں بی سی،ایس سی، ایس ٹی اور اقلیتوں کو حکومت میں نمائندگی ختم کر دی گئی ہے یہاں تک کہ موجودہ کابینہ میں نہ ہی مسلمان کو شامل کیا گیا ہے اور نہ ہی ایس ٹی قائدین کو۔ یہ انتہائی افسوسناک امر ہے۔ کویتا نے مطالبہ کیا کہ کابینہ میں مسلمانوں کو نمائندگی دی جائے۔ مجالس مقامی اداروں کے انتخابات میں طبقاتی ریزرویشن کو نافذ کیا جائے۔ بی سی ریزرویشن کے لئے تمام جماعتوں کو دہلی لے جایا جائے اور مرکز پر دباؤ ڈالا جائے۔ انہوں نے چیف منسٹر ریونت ریڈی کو مشورہ دیا کہ اگر وہ پالا مورو- رنگا ریڈی پروجیکٹ مکمل کریں گے تو انہیں نیک نامی حاصل ہوگی۔ یہ عوامی پروجیکٹ ہے۔ اسے محض سیاسی وجوہات کی بنا پر روک کر رکھنا عوام کے ساتھ سراسر نا انصافی ہے۔ کویتانے کہا کہ اگر آندھرائی حکومت کرشنا ندی کے پانی کو موڑنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو محبوب نگر کی نہریں خشک ہو جائیں گی۔ اگر حکومت نے بروقت اقدامات روبہ عمل نہیں لائے تو یہاں کے عوام کو پینے کے لئے پانی بھی نصیب نہیں ہوگا۔ کویتا نے حکومت سے پرزور مطالبہ کیا کہ فیس ری ایمبرسمنٹ کے بقایہ جات کی ادائیگی عمل میں لائی جائے۔ خواتین کو وعدہ کے مطابق ماہانہ 2500 روپئے مالی امداد دی جائے۔ غریب لڑکیوں کی شادی میں ایک تولہ سونا دیا جائے۔ نوجوانوں کے لئے جاب کیلنڈر پر فوری عمل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ جاگروتی ایک عوامی اور غیر سیاسی تنظیم ہے۔ ہمارا مقصد صرف عوامی مسائل کی یکسوئی کے لئے آواز اٹھانا ہے۔ ہم نے تحریک کے دوران جو کردار ادا کیا ہے وہ تلنگانہ کی تاریخ میں ایک روشن باب ہے۔ کویتا نے یاد دلایا کہ متحدہ ریاست میں جاگروتی کے دباؤ کے باعث ہی ڈاکٹر بی آر امبیڈکر کے مجسمہ کو اسمبلی میں نصب کیا گیا تھا اور بتکماں تہوار کو ریاستی تہوار کا درجہ دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ تلی ہماری شناخت ہے۔ حکومتیں بدلتی رہتی ہیں مگر تلنگانہ تلی نہیں بدلتی۔ گزٹ کی آڑ میں نئی تلنگانہ تلی مت لائیے۔ عوام پرانی و قدیم تلنگانہ تلی سے ہی وابستہ ہیں اور ہم بھی اسی کو سلام کرتے ہیں۔ آخر میں کویتا نے اعلان کیا کہ سماجی تلنگانہ ان کی تحریک کا بنیادی مقصد ہے۔ہم ایسا تلنگانہ چاہتے ہیں جہاں ہر طبقہ کو عزت، مساوی مواقع ملیں۔ یہی میرا خواب ہے اور یہی میری جدوجہد ہے۔




English 


































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































