تلنگانہ میں موسلادھار بارش، ریاست بھر میں انتظامیہ ہائی الرٹ، چیف منسٹر کی ہدایت، کئی مواضعات کا زمینی رابطہ منقطع۔
حیدرآباد- 27/ اگست
( نامہ نگار )
حیدرآباد: وزیراعلٰی تلنگانہ اے ریونت ریڈی نے بروز چہارشنبہ ریاست بھر میں تمام انتظامیہ کو انتہائی چوکس رہنے کی ہدایت دی ہے کیونکہ تلنگانہ کے بعض حصوں میں منگل کی شب سے بارش کا سلسلہ جاری ہے۔ ریاست کے بعض علاقوں میں گزشتہ رات سے جاری بارش کے سبب نشیبی علاقے زیر آب آگئے اور کئی مواضعات کا زمینی رابطہ منقطع ہوگیا۔ شدید بارش کی وجہ سے ندیاں، نالے، تالاب ابل پڑے اور نشیبی علاقوں کی سڑکیں سیلاب سے زیر آب آگئیں۔ میدک اور سنگاریڈی اضلاع میں شدید سے انتہائی شدید بارش کے نتیجہ میں چند علاقوں میں رہائشی مقامات میں پانی داخل ہوگیا۔ چند سڑکوں کو نقصان پہونچا جس کی وجہ سے گاڑیوں کی آمد و رفت میں خلل پڑا۔ نارائن کھیڑ۔ کانگٹی روڈ کے اوپر سے پانی بہہ رہا ہے جس کے نتیجہ میں ٹرافک کو روک دیا گیا۔ ضلع کاماریڈی میں لکشما پور گاؤں میں ایک کلورٹ بہہ گیا۔ ضلع میدک کے پدا شنکرم پیٹ میں کل رات سے سب سے ز یادہ 20.4 سنٹی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ جبکہ ٹیکمال میں 20.1 اور رامائم پیٹ میں 17.9 سنٹی میٹر بارش ہوئی۔ شدید بارش کا گنیش تہوار پر بھی اثر پڑا۔ وقفہ، وقفہ سے جاری بارش کے نتیجہ میں ریاست کے ٹاونس اور مواضعات میں گنیش مورتیوں کی تنصیب کا عمل متاثر ہوا۔ گریٹر حیدرآباد کے کئی مقامات پر منگل کی شب سے بارش ہورہی ہے جس کے سبب عام زندگی درہم برہم ہوگئی۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی نے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ وہ قدیم اور بوسیدہ مکانات سے عوام کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے اقدامات کریں۔ محکمہ برقی کے عہدیداروں کو بلاخلل برقی سربراہی کو یقینی بنانے کیلئے مناسب ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ اور انہیں گنیش بھکتوں کی سلامتی کو یقینی بنانے کے اقدامات پر زور دیا گیا۔ چیف منسٹر نے حائیڈرا، جی ایچ ایم سی، اسٹیٹ ڈیزاسٹر ریسپانس فورس، فائر سرویس اور پولیس محکمہ جات کو تال میل کے ذریعہ کام کرنے اور شدید بارش کے دوران عوام کو درپیش مشکلات سے بچانے کی ہدایت دی ہے۔ موسلادھار بارش سے نشیبی کازویز، کلورٹس، ندیوں اور نالوں میں پانی کے بھاری بہاؤ کے پیش نظر چیف منسٹر نے عہدیداروں کو ان سیلاب کے علاقوں میں گاڑیوں کی آمد ورفت کو روکنے کی ہدایت دی۔ ریونت ریڈی نے تجویز پیش کی کہ محکمہ آبپاشی کے عہدیداروں کو تالابوں، جھیلوں اور دیگر ذخائر آب پرقریبی نظر رکھنا چاہیے اور موسلا دھار بارش کی صورت میں ان تالابوں اور ذخائر آب کے پشتوں میں شگاف پڑسکتے ہیں جس سے تباہی ہوگی دراڑوں کو روکنے کیلئے مناسب اقدامات کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اس موسم میں وبائی امراض کے پھیلنے کا بھی بڑا خطرہ رہتا ہے۔ اس لئے میونسپل کارپوریشنوں، بلدیات، گرام پنچایتوں اور سانیٹیشن عملہ کو صفائی پر توجہ دینا چاہیے اور اس سلسلہ میں چوکسی اختیار کرنی چاہیے۔ عملہ کو بارش کے پانی کی نکاسی کے لئے باقاعدہ اقدامات کرنا چا ہیے۔ محکمہ صحت و طبابت کے عہدیداروں کو ہاسپٹلوں میں ادویات کا مناسب ذخیرہ رکھنے کی ہدایت دی گئی اور انہیں سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں میڈیکل کیمپ منعقد کرنا چاہئے تاکہ موسمی وبائی امراض کو پھیلنے سے روکا جائے۔ محکمہ موسمیات نے جئے شنکر بھوپال پلی، ملگ، بھدرا دری کتہ گوڑم، ہنمکنڈہ، جنگاؤں، کریم نگر، کھمم، کمرم بھیم آصف آباد، منچریال، نلگنڈہ، پداپلی، سوریا پیٹ، ورنگل، محبوب آباد، اور یدادری بھونگیر میں کہیں کہیں شدید بارش کی پیش قیاسی کی ہے۔




English 


































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































