ملکِ بھارت میں حضرت خواجہ غریب النوازؓ کے احسانات عُظمیٰ لائق صد تقلید، مولانا قاضی عبدالرزاق نقشبندی اور اسدالعلماء مولانا محسن پاشاہ نقشبندی کا اجمیر شریف میں خطاب-
اجمیر شریف -28/ ڈسمبر(پریس نوٹ)امیر امارت امت اسلامیہ حضرت مولانا الحاج قاضی محمد عبدالرزاق نقشبندی مجددی قادری چشتی مداری جمیع السلاسل بانی و صدر ایس ایس اُو نے کہاکہ برِّصغیر ہند خصوصاً ملکِ بھارت کی روحانی ، سماجی اور اخلاقی تاریخ میں عطائے رسولؐ ہندوالولی خواجہء خواجگان حضرت سیدنا خواجہ معین الدین حسن چشتیؒ المعروف خواجہ غریب النوازؓ کا کردار قابل تقلید واتباع اور ناقابلِ فراموش ہے۔ آپؒ نے بارہویں صدی میں اجمیر شریف کو اپنی قیام گاہ بنا کر محبت ، اخوت ، رواداری اور خدمتِ خلق کا وہ پیغام عام کیا جس نے دلوں کو مسخر کرلیا اور صدیوں تک انسانیت کی رہنمائی کرتا رہا مولانا قاضی الحاج محمد عبدالرزاق نقشبندی نے 27 / ڈسمبر بروز ہفتہ بعد نماز عشاء صوفیکل ہاؤز ،اجمیر شریف میں جشن خواجہ غریب النواز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا جس کی نگرانی گدی نشین و خادم بارگاہ بارگاہ حضور خواجہ غریب النوازؒ صاحب زادہ مختار عالم نیازی نے کی جبکہ جناب ڈاکٹر محمد عبدالحق کلیم چشتی قادری کے جی این گروپ،تالاب کٹہ حیدرآباد نے نظامت و محفل کا اہتمام کیا تھا۔ بھارت سیوارتن ایوارڈ یافتہ اسدالعلماء تنویر صحافت مولانا محمد محسن پاشاہ انصاری قادری نقشبندی مجددی مولوی کامل الحدیث جامعہ نظامیہ و جنرل سیکریٹری کُل ہند سنی علماء مشائخ بورڈ محبوب نگر تلنگانہ نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ حضرت خواجہ غریب النوازؓ نے ذات پات ، مذہب اور زبان کے امتیاز کے بغیر تمام انسانوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے کی تعلیم دی ۔ آپؒ کا پیغام “محبت سب کے لئے ہے ، عداوت کسی سے نہیں” آج بھی بھارت کی گنگا جمنی تہذیب کی بنیاد حضرت خواجہ سرکارؒ ہے۔ آپؒ کے اخلاقِ حسنہ، درویشی، صبر و استقامت اور عوامی خدمت نے معاشرے کے محروم اور کمزور طبقات کو عالیشان سہارا دیا۔
خواجہ صاحبؒ کی خانقاہ امن و آشتی کا مرکز بنی جہاں بھوکے کو کھانا، غمزدہ کو دلاسہ اور بے سہارا کو آسرا ملتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ آپؒ کی درگاہ آج بھی ہندو ، مسلم ، سکھ، عیسائی سمیت تمام مذاہب کے ماننے والوں کے لئے عقیدت اور امید کا مرکز ہے۔ یہ بین المذاہب ہم آہنگی حضرت خواجہ غریب النوازؓ کی سب سے بڑی روحانی میراث ہے۔اہلِ علم و دانش کا کہنا ہے کہ اگر آج بھارت میں مذہبی رواداری، باہمی احترام اور سماجی ہم آہنگی کی روشن مثالیں نظر آتی ہیں تو اس میں خواجہ غریب النوازؓ کی تعلیمات کا نمایاں حصہ ہے۔ آپؒ کے احسانات صرف مذہبی نہیں بلکہ قومی و سماجی سطح پر بھی ہیں، جنہوں نے انسانیت کو جوڑنے کا کام کیا۔ مولانا محسن پاشاہ نقشبندی نے آخر میں عوام سے اپیل کرتے ہوئے کہاکہ آج ضرورت اس امر کی ہیکہ تمام لوگ حضرت خواجہ غریب النوازؓ کے پیغامِ محبت و انسانیت کو اپنی عملی زندگی میں اپنائیں تاکہ ملک میں امن و امان ، بھائی چارہ اور باہمی احترام کو مزید فروغ دیا جاسکے اور دشمنان بھارت ہمارے اتحاد و اتفاق کے سامنے ماند پڑسکیں ۔ محفل سماع، آخر میں صلوۃ وسلام اور مولانا محسن پاشاہ نقشبندی کی رقت آمیز دعا پر کانفرنس کا اختتام ہوا – سبھی شرکاء کے لنگر غریب نواز رحمہ اللہ بہترین حیدرآبادی بکرے کے گوشت کی بریانی کا انتظام کیا گیا تھا جس میں سینکڑوں افراد بلالحاظ مذہب و ملت نے استفادہ کیا – اس موقعہ پر جناب محمد عبدالواسع چشتی انجینیئر حیدرآباد، جناب قاضی محمد کلیم الدین قادری چشتی جنرل سیکریٹری کُل ہند بزم محبان اولیاء اللہ و دیگر حضرات مہمانان خصوصی موجود تھے –




English 


































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































