غزہ کی فضاء زہر آلود، غذائی و دوائی قلت عروج پر — حیدرآباد کے ڈاکٹرس کا چشم دید بیان
حیدرآباد، 24؍ اگست: غزہ کا 75 فیصد علاقہ اسرائیلی قبضہ میں جاچکا ہے جبکہ باقی 25 فیصد صرف بین الاقوامی دباؤ کی وجہ سے بچا ہوا ہے۔ عالمی سطح پر اسرائیل کی مذمت کے باوجود وہاں کے عوام بھوک، پیاس اور گولیوں کے سائے میں موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا ہیں۔ غذائی امداد کے سینکڑوں ٹرکس سرحد پر رکے ہوئے ہیں جنہیں غزہ میں داخل ہونے نہیں دیا جارہا۔
یہ انکشاف حیدرآباد کے دو ڈاکٹرس ڈاکٹر یوسف الدین شیخ اور ڈاکٹر محمد اسلم نے کیا جو دکن میڈیکل کالج کے فارغ التحصیل ہیں۔ میڈیا پلس آڈیٹوریم میں خطاب کرتے ہوئے لندن میں مقیم آرتھوپیڈک سرجن ڈاکٹر یوسف الدین شیخ نے بتایا کہ مسلسل میزائل حملوں نے فضاء کو زہر آلود کردیا ہے، 90 فیصد اسپتال تباہ ہوچکے ہیں اور جو باقی ہیں وہ بجلی کے بغیر صرف جنریٹرس پر چل رہے ہیں۔ ’’اکثر نازک ترین سرجریز موبائل فون کی روشنی میں کی جارہی ہیں۔ حتیٰ کہ خون روکنے کے لئے روئی کے پیڈ تک دستیاب نہیں‘‘۔
ڈاکٹر محمد اسلم، جو طویل عرصہ غزہ میں زخمیوں کے علاج کے بعد امریکہ واپس ہوئے، نے زوم کے ذریعہ بتایا کہ غذائی قلت کے باعث مہنگائی آسمان کو چھو رہی ہے۔ ’’دس ڈالر کی چیز دو سو ڈالر میں ملتی ہے، ایک امدادی ٹرک کو غزہ میں داخل کرنے کے لئے تیس ہزار ڈالر رشوت لی جاتی ہے، کئی بار یہ ٹرکس لوٹ بھی لئے جاتے ہیں‘‘۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے دفاتر اور ان کے رضاکار بھی حملوں کا شکار ہوئے ہیں۔
دونوں ڈاکٹرس ڈاکٹرس آف رحمن تنظیم سے وابستہ ہیں جو کئی ممالک میں انسانی خدمات انجام دیتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ فلسطینی ڈاکٹرس اور ان کے اہل خانہ بھی نشانے پر ہیں، لیکن ان کا ایمان اور حوصلہ قابلِ تقلید ہے۔ غذائی قلت کی وجہ سے غیرملکی ڈاکٹرس کا وزن بھی 30 تا 40 کلو کم ہوگیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ غزہ کے نوجوان گزشتہ دو دہائیوں سے ناکہ بندی کے سبب علاقے سے باہر نہیں نکل سکے۔ اذیت، بھوک اور ہلاکتوں کے باوجود ان کا جذبہ عبادت متاثر نہیں ہوتا۔ ڈاکٹرس آف رحمن نے فلسطینی میڈیکل طلبہ کے لئے آن لائن کوچنگ کا انتظام کیا ہے اور 300 سے زائد طلبہ کو دنیا کے مختلف میڈیکل کالجوں میں داخلے دلوائے ہیں۔
یہ اجلاس ویسٹرن ہاسپٹل کے زیراہتمام منعقد ہوا، جس میں حیدرآباد کے معروف ڈاکٹرس ڈاکٹر متین الدین سلیم، ڈاکٹر مصطفی فیصل، ڈاکٹر عارف، ڈاکٹر مرتضی، ڈاکٹر صفی اللہ، ڈاکٹر حسینی اور ڈاکٹر عاطف اسمعیل شریک تھے۔ ڈاکٹرس نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ غزہ پر سے پابندیاں ہٹانے کے لئے مزید مؤثر کردار ادا کیا جائے اور فلسطین کے لئے دعاؤں کی درخواست کی۔




English 


































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































