ہفتہ 21 رجب 1447هـ
#تلنگانہ

تلنگانہ میں سیلاب، عوامی مشکلات پر کے ٹی آر کی تشویش: حکومت فوری طور پر حرکت میں آئے

حیدرآباد: بھارت راشٹرا سمیتی (بی آر ایس) کے ورکنگ پریزیڈنٹ کے ٹی آر نے کہا کہ تلنگانہ میں ہورہی مسلسل بارشوں اور سیلابی صورتحال سے عوام کی زندگی اجیرن بن گئی ہے، مگر حکومت کی طرف سے کوئی مؤثر قدم نظر نہیں آرہا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ریاستی حکومت فوری طور پر اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد کرے اور راحت و بچاؤ کارروائیوں کو تیز کرے۔

کے ٹی آر نے کہا کہ کاماریڈی، میدک، راجنا سرسلہ، محبوب آباد، ورنگل، کھمم اور عادل آباد سمیت کئی اضلاع میں عوام سخت مشکلات سے دوچار ہیں۔ اہم شاہراہیں اور پل ٹوٹ چکے ہیں، درجنوں گاؤں پانی میں گھر گئے ہیں، کئی مقامات پر بجلی کی فراہمی بھی بند ہوچکی ہے اور عوام کو کھانے پینے جیسی بنیادی سہولتیں بھی دستیاب نہیں ہیں۔

انہوں نے کاماریڈی ضلع کے نِظام ساگر منڈل میں بوجہ گڈیسے واگو میں پھنسے 10 مزدوروں اور میدک کے ہوولی گھانپور تاندہ میں درجنوں قبائلی خاندانوں کو فوری بچانے کا مطالبہ کیا۔ کے ٹی آر نے کہا کہ اگر ضرورت پڑے تو این ڈی آر ایف اور ایس ڈی آر ایف ٹیموں کی مدد لی جائے، جیسا کہ بی آر ایس حکومت کے دور میں ہیلی کاپٹرز کے ذریعے متاثرین کو بچایا گیا تھا۔

کے ٹی آر نے موجودہ حکومت پر الزام لگایا کہ وہ عوامی مشکلات کو نظرانداز کرتے ہوئے دیگر ریاستوں کی سیاست میں مصروف ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ اور کابینہ کے ارکان فوری طور پر عوامی مسائل پر توجہ دیں، ریلیف کیمپ قائم کریں، متاثرہ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کریں، انہیں کھانا، پینے کا پانی اور طبی سہولتیں فراہم کریں، ساتھ ہی سڑکوں، پلوں اور بجلی کے ڈھانچے کی مرمت جنگی بنیادوں پر کرائی جائے۔

انہوں نے بی آر ایس کارکنوں سے اپیل کی کہ اگر حکومت ناکام ثابت ہو تو وہ عوام کی مدد کے لئے میدان میں اُتریں اور اس مشکل گھڑی میں عوام کے ساتھ کھڑے رہیں۔

تلنگانہ میں سیلاب، عوامی مشکلات پر کے ٹی آر کی تشویش: حکومت فوری طور پر حرکت میں آئے

30 اگسٹ کو ترجمان قادریت مولاناڈاکٹر رضوان

تلنگانہ میں سیلاب، عوامی مشکلات پر کے ٹی آر کی تشویش: حکومت فوری طور پر حرکت میں آئے

سر سلہ ضلع میں گمبھیراؤ پیٹ کے

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے