ہفتہ 21 رجب 1447هـ
#تلنگانہ

ریاستیحکومت سے ٹھوس اقدامات کا مطالبہبیدر، 23 دسمبر(نامہ نگار

ریاستی حکومت کی جانب سے مختلف گارنٹی اسکیمیں نافذ کیے جانے کے باوجود قرض کے بوجھ، حد سے زیادہ بارش، خشک سالی اور فصلوں کے نقصان کے سبب کسانوں کی خودکشیوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ نیشنل کرائم ریکارڈس بیورو (NCRB) کی رپورٹ کے مطابق کسانوں کی خودکشی کے معاملات میں کرناٹک ملک بھر میں دوسرے نمبر پر ہے، جو انتہائی تشویشناک امر ہے۔
سال 2023-24 سے نومبر 2025 تک ریاست میں مجموعی طور پر 2,809 کسانوں نے خودکشی کی۔ ان میں سے 2,422 اہل مقدمات کو معاوضہ کے لیے منظور کیا گیا، جبکہ اب تک 2,170 متاثرہ خاندانوں کو فی خاندان 5 لاکھ روپے کے حساب سے مجموعی طور پر 108.50 کروڑ روپے ادا کیے جا چکے ہیں۔ تاہم اب بھی 233 کسان خاندان معاوضہ سے محروم ہیں۔
گزشتہ پانچ برسوں (2020 تا 2025) کے دوران کلیان کرناٹک خطہ کی چار اضلاع میں تقریباً 756 کسانوں نے خودکشی کی۔ فصلوں کو مناسب امدادی قیمت نہ ملنے اور قرض کے شدید دباؤ کے باعث کسانوں کی معاشی حالت مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہے۔ اس پس منظر میں مرکز و ریاستی حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ فوری طور پر قرض سے نجات کا قانون نافذ کیا جائے اور 2+15 فیصد فارمولے کے تحت کم از کم امدادی قیمت (MSP) کو قانونی حیثیت دی جائے۔
یہ بھی بتایا گیا کہ دیہی بینکوں میں کسانوں کو بروقت قرض فراہم نہیں کیا جا رہا ہے۔ قرض کی تجدید نہ ہونے کی صورت میں 14 فیصد سود اور تجدید شدہ قرض پر 4 فیصد سود وصول کیا جا رہا ہے، جس کے باعث کسان نجی مائیکرو فائنانس اداروں کے چنگل میں پھنس رہے ہیں اور بالآخر خودکشی پر مجبور ہو رہے ہیں۔
کسانوں کے اہم مطالبات
ایم ایس سوامی ناتھن کمیشن کی رپورٹ کو مکمل اور مؤثر طور پر نافذ کیا جائے۔
جامع اراضی اصلاحات کے تحت ہر خاندان کو 5 ایکڑ زمین فراہم کی جائے۔
زمین اور رہائش سے محروم افراد کے مسائل کا مستقل حل نکالا جائے۔
40 تا 50 برسوں سے کاشت کرنے والے کسانوں کو فوری پٹہ دیا جائے۔
زرعی پیداوار کو لاگتِ پیداوار کی بنیاد پر قیمت مقرر کی جائے۔
آبپاشی سے محروم کسانوں کی زمینوں کو پانی فراہم کیا جائے۔
ریاستی حکومت کے اعلان کے مطابق گنے پر فی ٹن 150 روپے کی ترغیبی رقم فوری ادا کی جائے۔
ریاست کے تمام کسانوں کے مکمل قرضے معاف کیے جائیں۔
ناقص بیجوں کی فروخت پر سخت پابندی عائد کی جائے۔
کھاد کی بروقت اور مناسب مقدار میں فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔
آخر میں حکومت سے پرزور مطالبہ کیا گیا کہ ان جائز اور عوامی مطالبات پر فوری مداخلت کرتے ہوئے ٹھوس فیصلے کیے جائیں تاکہ کسانوں کو انصاف مل سکے۔
اس موقع پر ویلفیئر پارٹی آف انڈیا کے ریاستی صدر طاہر حسین، ضلع صدر مبشر شندے اور قائدین سید ابراہیم، جاوید علی، شفیع الدین، شرنپا، سراج الدین، امین الدین اور عبدل موجود تھے

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے