کانگریس نے اقلیتوں کو ہمیشہ مایوس کیا، عوام کی توجہ ہٹانے کے لئے نفرت پھیلا رہی ہے: کے ٹی آر کا بیان
حیدرآباد 11نومبر (پٹریاٹک ویوز)کارگزار صدر بی آر ایس اور رکن اسمبلی سرسلہ کے تارک راماراؤ (کے ٹی آر) نے آج ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کانگریس پر شدید تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس قائدین نے محبت کی دکان کھولنے کا دعویٰ تو کیا تھا، لیکن اب جب وہ اپنے وعدوں کو پورا کرنے میں ناکام ہوگئے ہیں تو عوام کی توجہ ہٹانے کے لئے نفرت پھیلا رہے ہیں۔ کے ٹی آر نے تلنگانہ میں اقلیتوں کے ساتھ کئے گئے وعدوں کو پورا نہ کرنے پر کانگریس حکومت کو سخت الفاظ میں تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ کانگریس ہمیشہ سے اقلیتوں کے حقوق کے نام پر سیاست کرتی رہی ہے لیکن حقیقت میں انہیں مایوس ہی کیا ہے۔
یہ بیان کے ٹی آر نے بھارت کے پہلے وزیر تعلیم مولانا ابوالکلام آزاد کے یوم پیدائش کے موقع پر تلنگانہ بھون میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے دیا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ کانگریس خود کو "محبت کی دکان” کہتی ہے، لیکن وہ دراصل منافرت سے بھری ہوئی ہے۔ تقریب کے دوران کے ٹی آر نے غریب مسلم طلبہ میں اسٹڈی مٹیریل بھی تقسیم کیا اور کانگریس کے ماضی اور حال کی سیاست پر کڑی تنقید کی۔
کے ٹی آر نے کانگریس پارٹی کے ان وعدوں کا حوالہ دیا جو انہوں نے انتخابات سے پہلے عوام کو دیے تھے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس نے انتخابات سے قبل چھ ضمانتیں دیں تھیں، لیکن اقتدار میں آنے کے بعد ایک بھی وعدہ پورا نہیں کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کانگریس حکومت نے تمام طبقات کو یکسر نظر انداز کردیا ہے اور ان کے حقوق کی پامالی کی ہے۔ کانگریس حکومت نے دریائے موسیٰ کی بحالی کے پروجیکٹ کے تحت 16 ہزار مکانات منہدم کرنے کی بات کی جسے کے ٹی آر نے غریب عوام پر حملہ قرار دیا۔ انہوں نے کانگریس حکومت کی جانب سے اقلیتی اعلامیہ نافذ نہ کرنے پر بھی سوال اٹھایا اور اقلیتوں سے کئے گئے وعدوں کی عدم تکمیل کا تفصیلی تذکرہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ کانگریس نے انتخابات سے قبل اقلیتوں کے حقوق اور ان کی ترقی کے حوالے سے بڑے بڑے وعدے کیے تھے جیسے کہ چھ ماہ کے اندر اقلیتی آبادی کی مردم شماری، سرکاری ملازمتوں میں تحفظات، 4 ہزار کروڑ روپئے کا مائناریٹی سب پلان، اور اقلیتوں کو روزگار کے لئے قرضہ جات میں ایک ہزار کروڑ روپئے کی فراہمی۔ تاہم، حقیقت میں آج تک ان میں سے کسی بھی وعدے کو پورا نہیں کیا گیا۔ یہاں تک کہ کانگریس نے ایک لاکھ روپئے کی تقسیم کا وعدہ کیا تھا، مگر آج تک اس کا کوئی عمل درآمد نہیں کیا گیا ہے۔
کے ٹی آر نے مزید کہا کہ کانگریس نے اقلیتی اسکالرشپ، امکنہ امداد، اور ائمہ و موذنین کے اعزازے میں اضافہ کرنے کا بھی وعدہ کیا تھا، لیکن یہ تمام وعدے بھی ابھی تک تشنہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ایس حکومت کی سابقہ کارکردگی اقلیتوں اور دیگر طبقات کے لئے مثال رہی ہے۔ انہوں نے بی آر ایس حکومت کے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے لئے کئے گئے اقدامات اور امن و امان کو برقرار رکھنے کی کاوشوں پر بھی روشنی ڈالی۔ کے ٹی آر نے کہا کہ بی آر ایس کے دور حکومت میں ریاست میں گنگا جمنی تہذیب کو فروغ دیا گیا اور ریاست میں فرقہ وارانہ فسادات سے پاک ماحول فراہم کیا گیا۔
انہوں نے عوام پر زور دیا کہ وہ کانگریس کی نفرت اور تقسیم کی سیاست کو مسترد کریں اور ریاست کی جامع ترقی کے لئے بی آر ایس کی تائید اور حمایت کریں۔ انہوں نے مولانا آزاد کی خدمات کو بھرپور خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ ہندوستان کے پہلے وزیر تعلیم کے طور پر مولانا آزاد نے قوم کی تعمیر و ترقی میں نمایاں کردار ادا کیا۔
تقریب میں موجود دیگر شرکاء میں سابق وزیر داخلہ اور رکن قانون ساز کونسل محمد محمود علی نے بھی خطاب کیا اور مولانا ابوالکلام آزاد کی تعلیمی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ مولانا آزاد ایک عظیم مفکر، بلند پایہ صحافی، سیاستداں اور عالم دین تھے۔ ان کی خدمات ملک و قوم کے لئے ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔
تقریب کا آغاز قرأت کلام پاک سے کیا گیا اور اس میں تلنگانہ کے سابق اسپیکر مدھو سدن چاری، داسوجو سراون، اور بی آر ایس کے اقلیتی قائدین جیسے محمد فصیح الدین، محمد سلیم، امتیاز اسحاق، خواجہ بدرالدین، محمد کلیم، ارشد نواب، محمد عبدالباسط، اور عبداللہ سہیل نے شرکت کی۔




English 

































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































