پالمورو – رنگاریڈی معاملہ میں اسمبلی میں کانگریس حکومت کی کذب بیانی
الماٹی کی اونچائی میں اضافہ کے باعث تلنگانہ کے آبی مفادات کو شدید نقصان کا خدشہ
کے سی آر کے بغیر تلنگانہ کا وجود ممکن نہیں۔دہشت گرد سے تشبیہ دینے کی شدید مذمت
تنگا ترتی میں 100 بستروں کےدواخانہ کے لئے دو مرتبہ سنگ بنیاد کے باوجود کاموں کی عدم تکمیل
کامیابی اور ناکامی کا فیصلہ عوام کریں گے۔ عوامی مسائل کی یکسوئی کے لئے جدوجہد کا عزم : کے کویتا
صدر تلنگانہ جاگروتی کلواکنٹلہ کویتا نے جاگروتی جنم باٹا پروگرام کے تحت سوریہ پیٹ میں پریس میٹ سے خطاب کیا اور کہا کہ پالمورو۔رنگا ریڈی پروجیکٹ کے معاملہ میں حکومت نے اسمبلی میں کھلے عام جھوٹ بولا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت کی واقعی نیت صاف ہوتی تو کرشنا ندی کے پانی پر سنجیدہ بحث کی جاتی لیکن اپیکس کونسل میں جو بات چیت ہوئی اسی کو بنیاد بنا کر عوام کو گمراہ کیا گیا۔ کرشنا ندی کے پانی کے اصل اسٹیک ہولڈرس مہاراشٹرا، کرناٹک، تلنگانہ اور آندھرا پردیش ہیں لیکن ان سبھی پہلوؤں کو نظر انداز کیا گیا، جس سے عوام کو کوئی فائدہ نہیں ہوا۔کلواکنٹلہ کویتا نے کہا کہ کرناٹک حکومت کی جانب سے الماٹی ڈیم کی اونچائی میں پانچ میٹر اضافہ کیا جا رہا ہے جس کے باعث تلنگانہ کو 100 ٹی ایم سی سے زائد پانی کے نقصان کا اندیشہ ہے مگر اس سنگین مسئلہ پر نہ کوئی بحث ہوئی اور نہ ہی کوئی موثر اقدام کیا گیا۔ انہوں نے سوال کیا کہ الماٹی کی اونچائی میں اضافہ اور اپر بھدرا کو قومی درجہ دیئے جانے کے خلاف کانگریس حکومت نے قرارداد کیوں منظور نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ اگر ریونت ریڈی اور اتم کمار ریڈی کی واقعی نیت صاف ہوتی تو وہ ان دونوں معاملات پر فوری طور پر اسمبلی میں قرارداد پیش کرتے۔انہوں نے کہا کہ متحدہ ریاست میں ہی پالمورو۔رنگا ریڈی کے لئے 70 ٹی ایم سی اور نارائن پیٹ۔کوڑنگل کے لئے 7.5 ٹی ایم سی پانی مختص کیا گیا تھا، پھر صرف 45 ٹی ایم سی تک محدود ہونے پر دستخط کیوں کئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ پالمورو کے عوام کے ساتھ جو ناانصافی کی جا رہی ہے، اسے عوام کبھی معاف نہیں کریں گے۔کلواکنٹلہ کویتا نے اسمبلی میں پیش آئے واقعات پر تبصرہ کیا اور کہا کہ ایک طرف کانگریس نے اسمبلی میں ڈرامہ کیا اور دوسری طرف بی آر ایس نے الگ ڈرامہ رچایا۔ انہوں نے کہا کہ صرف ہریش راؤ پر تنقید کئے جانے پر اسمبلی کا بائیکاٹ کرنا غلط ہے، کیونکہ اپوزیشن صرف ایک پارٹی نہیں بلکہ عوام کی آواز ہوتی ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا بائیکاٹ کا فیصلہ ہریش راؤ کا تھا یا بی آر ایس کی اعلیٰ قیادت کی طرف سے کیا گیا، اور اگر یہ فیصلہ کے سی آر یا کے ٹی آر کا تھا تو یہ تاریخ میں ناقابل معافی غلطی ہوگی۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ کرشنا ندی کے پانی میں تلنگانہ کا حصہ تین فیصد کم کرنے والے معاہدے پر ہریش راؤ نے دستخط کئے تھے یا نہیں، اس کی وضاحت ہونی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے تلنگانہ کو 37 فیصد پانی ملتا تھا لیکن بعد میں 34 فیصد پر رضامندی ظاہر کی گئی، جس کا جواب عوام کو دیا جانا چاہئے۔ اسی طرح کویتا نےجورالا سے سری سیلم تک ان ٹیک پوائنٹ کی تبدیلی پر بھی وضاحت طلب کی۔کلواکنٹلہ کویتا نے الزام عائد کیاکہ ایلور پمپ ہاؤس کو انڈر گراؤنڈ پمپ ہاؤس میں تبدیل کرنے پر چودہ سو کروڑ روپئے خرچ کئے گئے، جس سے پانی کی گنجائش کم ہو گئی اور کلواکرتی لفٹ ایریگیشن میں موٹرس خراب ہو گئیں۔ پانچ میں سے صرف تین موٹرس کام کر رہی ہیں اور ان کی مرمت بھی نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ان تمام سوالات کا جواب ہریش راؤ کو دینا ہوگا۔انہوں نے کے سی آر کو دہشت گرد سے تشبیہ دینے کی شدید مذمت کی اورکہا کہ کے سی آر کے بغیر تلنگانہ کا وجود ممکن نہیں اور ایسے رہنما کے خلاف اس قسم کے بیانات قومی غداری کے مترادف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس بیان پر بی آر ایس کی جانب سے کسی نے ردعمل ظاہر نہیں کیا جس سے ان کے ایجنڈے ظاہر ہوتے ہیں۔ سوریہ پیٹ ضلع سے اپنی وابستگی کا ذکر کرتے ہوئے کلواکنٹلہ کویتا نے کہا کہ جاگروتی کے ابتدائی کئی اہم پروگرام اسی ضلع میں منعقد ہوئے تھے۔ انہوں نے فنی گیری میوزیم، جوراس پلی گٹہ پر مندر کی جدوجہد، گولاگٹو جاترا اور بی این ریڈی، ملو سواراجم، مالوجو ویرنا جیسی عظیم شخصیات کو خراج عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ بی این ریڈی کے نام پر کسی منصوبے کا نام رکھا جائے اور ملو سواراجم کا کانسہ کا مجسمہ سوریہ پیٹ میں نصب کیا جائے۔انہوں نے ضلع کے مختلف مسائل کا تفصیلی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ تنگاترتی میں 100 بستروں کا اسپتال آج تک مکمل نہیں ہوا، بلکہ 30 بستروں کے اسپتال کو گرا کر بارہ بستروں تک محدود کر دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ دو بار سنگ بنیاد رکھا گیا مگر کام مکمل نہیں ہوا، جس کی ذمہ داری کا تعین ہونا چاہئے۔ اسی طرح گنڈلا سنگارم میں پل کی خستہ حالت، مشن بھاگیرتا کے تحت پانی کی عدم فراہمی، غیر قانونی ریت کی کانکنی، تنگاترتی کو میونسپلٹی کا درجہ نہ ملنا، سوریہ پیٹ میں انٹیگریٹڈ مارکیٹ کی بدانتظامی، تین سو دکانوں کی مسماری اور 8 سال سے معاوضہ نہ ملنے جیسے مسائل بھی پر بھی اظہارِ خیال کیا۔انہوں نے الزام عائد کہ سوریہ پیٹ میں جھیلوں، مندروں اور سرکاری زمینوں پر قبضے کئے گئے ہیں اور اس پر حیدرا اور مرکزی حکومت سے شکایت کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ بدعنوانی کے باعث عوامی مفاد متاثر ہو رہا ہے اور وہ بدعنوان عناصر کے خلاف آواز اٹھاتی رہیں گی خواہ کوئی کتنا ہی بااثر کیوں نہ ہو۔ کلواکنٹلہ کویتا نے کہا کہ بی آر ایس دور میں کسانوں اور جہد کاروں کے ساتھ جو زیادتیاں ہوئیں، اس کی ذمہ داری وہ بھی قبول کرتی ہیں اور اسی لئے انہوں نے معافی مانگ کر جنم باٹا کا آغاز کیا۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل میں کامیابی یا ناکامی کا فیصلہ عوام کریں گے، لیکن وہ تلنگانہ کے عوام، خاص طور پر سوریہ پیٹ ضلع کے دس لاکھ لوگوں کے لئے آواز اٹھاتی رہیں گی اور بدعنوانی کے خلاف جدوجہد جاری رکھیں گی




English 





































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































