منگل 7 رمضان 1447هـ
#اردو روزنامہ

تلنگانہ کے جہد کاروں اور شہداءکے خاندانوں کے ساتھ تاحال انصاف نہیں ہوا

کانگریس حکومت تمام وعدوں کو پورا کرے۔بجٹ میں خاطر خواہ اورواضح گنجائش فراہم کی جائے

تلنگانہ جاگروتی اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔آتما گوروسبھا سے کلواکنٹلہ کویتا کا خطاب

تلنگانہ جاگروتی کے زیر اہتمام باغ لنگم پلی آرٹی سی کلیان منڈپم میں تلنگانہ جہد کاروں کی آتما گورو سبھا کا انعقاد عمل میں آیا۔جس میں دس سے زائد تنظیموں کے نمائندوں اور کثیر تعداد میں جہد کاروں نے شرکت کی۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے صدرتلنگانہ جاگروتی کلواکنٹلہ کویتا نے کہاکہ ریاست تلنگانہ کے قیام کے بعد جہدکاروں اور شہداءکے خاندانوں کے ساتھ تقاضائے انصاف کو ملحوظ نہیں رکھاگیاجوکہ انتہائی افسوسناک امرہے۔انہوں نے کہاکہ جب تلنگانہ مخالف طاقتیں متحد ہورہی تھیں تواسی وقت ہم سب نے تلنگانہ جے اے سی کی تشکیل کی شکل میں ایک تاریخ رقم کی تھی اور طویل جدوجہد کے بعد ریاست تلنگانہ حاصل کی گئی۔توقع تھی کہ ریاست تلنگانہ کی تشکیل کے بعد تحریک کے جہد کاروں کو عزت واحترام ‘معاشی استحکام اور سیاسی مواقع حاصل ہوں گے ۔مگر افسوس صدافسوس ایسا نہیں ہوا ۔کویتا نے کہاکہ تلنگانہ کی سرزمین ہمیشہ سے ہی قربانیوں کی امین رہی ہے۔رام جی گونڈ سے لے کر کمرم بھیم تک ‘دودی کمریا سے لے کر بے شمار نوجوانوں نے اس سرزمین کےلئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا اور مظالم کےخلاف مسلسل مزاحمت کے ذریعہ تاریخ رقم کی۔صدرتلنگانہ جاگروتی نے کہاکہ کے سی آر کی قیادت میں سماج نے متحد ہوکر تلنگانہ حاصل کیا۔تاہم اقتدار کے حصول کے بعد چند افراد کو ہی مواقع حاصل ہوئے اور یہی لوگ جہد کاروں کی تحقیر اور بے عزتی کرنے لگے۔انہوں نے واضح کیاکہ میرا مقصد کسی پر شخصی تنقید کرنانہیں ہے تاہم دس سال کا موقع ملنے کے بعد بھی اگر جہد کاروں کے ساتھ انصاف نہ ہوتو استفسار کرنا ہی پڑے گا۔کویتا نے چیف منسٹر ریونت ریڈی کو شدید ہدف تنقید بناتے ہوئے کہاکہ ریونت ریڈی کو تحریک کی روح تک کا ادراک نہیں ہے۔ایسے شخص کا تلنگانہ کا وزیر اعلیٰ بننا ہماری بدقسمتی اور بدبختی ہے۔کانگریس نے ماقبل انتخابات جہد کاروں سے متعدد وعدے کئے تھے۔آج کانگریس حکومت کو اپنے تمام وعدے پورے کرنے ہوںگے۔اگر وعدے وفانہیں کئے جاتے ہیں تو عوام خود حکومت سے جواب طلب کریں گے۔انہوں نے کہاکہ 26فروری سے اسمبلی کا بجٹ اجلاس شروع ہورہاہے۔بجٹ میں جہد کاروں کی شناخت ‘فلاحی بورڈ کے قیام اور ان کے حقوق کے تحفظ کےلئے واضح گنجائش رکھی جانی چاہئے ۔کویتا نے پروفیسر کودنڈا رام اور آکونوری مرلی کا نام لےتے ہوئے کہاکہ ان کے کہنے پر عوام نے ریونت ریڈی اور کانگریس پر بھروسہ کیا ۔اب ان دونوں قائدین کو حکومت سے سوال بھی کرناچاہئے کہ وعدوں پر عمل کیوں نہیں ہورہاہے۔انہوں نے کہاکہ حصول تلنگانہ کے بعد بھی تلخ یادیں ختم نہیں ہوئیں۔اپنوں کے دیئے ہوئے زخم زیادہ تکلیف دیتے ہیں۔جہد کاروں کےلئے ایک اور تحریک کی ضرورت ہے۔جس کےلئے تلنگانہ جاگروتی تیار ہے۔انہوںنے اعلان کیاکہ ان کی جدوجہد صرف سیاسی نوعیت کی نہیں ہے بلکہ تلنگانہ کے وجود کے تحفظ کی علامت ہے۔کویتا نے کہاکہ خانگی اداروں میں تلنگانہ کے نوجوانوں کو 20فیصد تحفظات ملنے چاہئےں۔اس مقصد کے حصول کےلئے جاگروتی اپنی لڑائی جاری رکھے گی۔انہوں نے افسوس کا اظہار کیاکہ آج حکام ےہ پوچھ رہے ہیں کہ جہد کار کون ہیں ۔یعنی ہمیں اپنی شناخت بھی خود ہی ثابت کرنی پڑرہی ہے۔صدرتلنگانہ جاگروتی نے کہاکہ اگر حکومت جہد کاروں کی شناخت سے انکار کرے گی تو جہد کار متحدہ طور پر آواز بلند کریںگے۔جاگروتی نے اس مقصد کےلئے ایک ایپ تیار کیاہے۔جس کے ذریعہ جہد کاراپنے نام درج کرواسکتے ہیں۔ناموں کے اندراج پر تنظیم کی جانب سے ہیلت انشورنس کی سہولت کی فراہمی کی کوشش کی جائے گی۔کویتا نے کہاکہ بی آرایس اقتدار سے اس لئے محروم ہوئی کیوںکہ غرور و تکبر اور عدم رواداری میں اضافہ ہوگیاتھاجبکہ بھولا پن‘ اچھائی اور رواداری وبرداشت تلنگانہ کی حقیقی پہچان ہے۔اگر ےہ اقدار آپ کھودیں گے تو خود کو کھودیں گے۔انہوں نے کہاکہ تلنگانہ کےلئے کئی افراد نے قربانیاں دیں۔چند نے خود کشی تک کی۔آج بھی ان کے خاندان مدد کے منتظر ہےںاور تلنگانہ جاگروتی ان کے حق میں اپنی لڑائی جاری رکھے گی۔چاکلی ایلماں اور ایم ویرنا جیسے مجاہدین کی تحریک سے حوصلہ لیتے ہوئے ہم آگے بڑھیںگے۔اس موقع پر مختلف قائدین نے بھی حکومت سے مطالبہ کیاکہ جہد کاروں سے کئے گئے وعدوں کی فی الفور تکمیل کو یقینی بنایاجائے۔

تلنگانہ کے جہد کاروں اور شہداءکے خاندانوں کے ساتھ تاحال انصاف نہیں ہوا

2026-02-11

تلنگانہ کے جہد کاروں اور شہداءکے خاندانوں کے ساتھ تاحال انصاف نہیں ہوا

رمضان تقویٰ اور اصلاحِ نفس کا مہینہ،

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے