چیف منسٹر ریونت ریڈی، وزیراعظم مودی اور چیف منسٹر یو پی یوگی کی پالیسیوں پر عمل پیرا
ریاست تلنگانہ میں مسلمانوں پر مظالم اور متواتر فرقہ وارانہ واقعات واضح دلیل
جوبلی ہلز کے ضمنی انتخاب کے پیش نظر دو نئی اسکیمات کا اعلان مسلمانوں کے ساتھ بھونڈا مذاق
عوام بالخصوص مسلمان بی آر ایس کو کامیاب بنائیں۔ کے سی آر کے ہاتھ مضبوط کریں ۔محمد اعظم علی کی پریس کانفرنس
ریاست تلنگانہ میں متواتراور مسلسل پیش آنے والے فرقہ وارانہ واقعات اس بات کی دلیل ہیں کہ چیف منسٹر ریونت ریڈی، بی جے پی کی پالیسی کو اپنا چکے ہیں۔ان خیالات کا اظہار سینئر بی آر ایس قائد محمد اعظم علی نے کیا۔ وہ تلنگانہ بھون میں پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ محمد اعظم علی نے کہا کہ کانگریس حکومت میں جینور میں گزشتہ سال 4 ستمبر کوفساد ہوا۔منصوبہ بند اور منظم انداز میں مسلمانوں کی املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔ دکانوں کو لوٹ لیا گیا اور 200 سے زائد دکانات کو آگ کی نذر کر دیا گیا ۔تلنگانہ کے قیام کے بعد پہلی مرتبہ یہاں اتنا بڑا فساد ہوا۔ چیف منسٹر اور ریاستی وزراء نے یہاں کا دورہ تک نہیں کیا۔ متاثرین کو آج تک مالی امداد نہیں دی گئی۔ جامع مسجد جینور کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ مسجد کی بے حرمتی کی گئی۔ قرآن مجید کے نسخوں کی بے حرمتی کی گئی۔ مسجد میں توڑ پھوڑ کی گئی۔ جینور میں مزید مساجد کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ یہاں کئی دنوں تک کرفیو نافذ کیا گیا۔ انٹرنیٹ خدمات بند رہیں۔ مساجد میں کئی یوم تک نماز نہ ہو سکی۔ نہ صرف مسلمانوں پر ظلم و ستم کی انتہا کی گئی بلکہ یہاں مسلمانوں کا سماجی بائیکاٹ کیا گیا۔ جمہوری ملک ہندوستان میں تلنگانہ کے جینور میں مسلمانوں کو یکاوتنہا کر دیا گیا۔ مسلمانوں سے کسی بھی قسم کی معاملت نہ کرنے کا عوام کو پابند بنایا گیا اور معاملات کرنے پر جرمانہ عائد کرنے کا اعلان کیا گیا۔ پہلے ہی فساد کے ذریعہ مسلمانوں کی معیشیت کو تباہ و تاراج کر دیا گیا تھا۔ بعد ازاں ان کے مقاطعہ کے ذریعہ ان پر ظلم و ستم ڈھایا گیا۔ ان تمام واقعات کے باوجود کانگریس حکومت نے خاموشی اختیار کی۔ سابق چیف منسٹر و بی آر ایس سربراہ کے چندرشیکھر راؤ کی حکومت میں تلنگانہ میں امن و امان قائم تھا ۔تلنگانہ فسادات سے پاک تھا۔ گنگا جمنی تہذیب کو فروغ حاصل ہوا تھا وہیں آج ریونت ریڈی حکومت میں ہندو مسلم بھائی چارہ کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ ریونت ریڈی چیف منسٹر یو پی یوگی کے نقش قدم پر چل رہے ہیں۔ کانگریس حکومت میں متواتر مساجد کو نشانہ بنایا جا رہا ہے معین آباد کے چلکور میں قدیم قطب شاہی مسجد جاگیردار کو شہید کر دیا گیا۔ آج تک خاطیوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ برائے نام ایف آئی آر کا اندراج عمل میں لایا گیا اور صرف جے سی بی ڈرائیور کو گرفتار کیا گیا۔ مسجد کی دوبارہ اسی مقام پر تعمیر کا وعدہ کیا گیا تا ہم آج تک اس وعدہ کو پورا نہیں کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ سنگار ریڈی میں ایک مدرسہ کو نشانہ بنایا گیا۔ مدرسہ منہاج العلوم کے طلبہ پر اشرار نے منظم انداز میں حملہ کیا۔قربانی کے بڑے جانوروں کے معاملے کو بنیاد بنا کر یہاں ہنگامہ آرائی کی گئی۔ پولیس کی تحقیقات میں وہاں کوئی بھی ممنوعہ جانور نہیں ملا۔ اس کے باوجود مدرسے کے طلبہ پر حملہ کیا گیا جس کی وجہ سے مدرسے کے طلبہ زخمی ہوئے اور جب زخمی طلبہ کو علاج و معالجہ کے لئے دواخانہ سے رجوع کیا گیا تو اشرار نے دوا خانہ پر بھی حملہ کر دیا۔اسی طرح کے واقعات میں چرلا پلی میں جامع مسجد کے قریب جمعہ کے روز مصلیوں پر سنگ باری کی گئی۔ بالا پور کی مسجد کو بھی نشانہ بنایا گیا محمد اعظم علی نے کہا کہ کانگریس حکومت میں جمہوریت نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔نظم و ضبط ٹھپ ہو چکا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ اقلیتی اقامتی اسکولس کی حالت بھی انتہائی ابتر ہو چکی ہے۔ ونپرتی میں اقلیتی اقامتی اسکول میں نماز پڑھنے والی مسلم لڑکیوں کا حجاب کھینچا گیا تاہم حکومت خاموش تماشائی بنی رہی۔ یہ تمام واقعات آن ریکارڈس ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ما قبل انتخابات کانگریس پارٹی نے مسلمانوں سے کئی وعدے کئے ۔جھوٹے وعدوں کے ذریعہ کانگریس پارٹی برسر اقتدار آئی ۔ریونت ریڈی حکومت کے تقریباً دو سال مکمل ہونے آ رہے ہیں۔ مسلمانوں سے کیا گیا ایک بھی وعدہ پورا نہیں کیا گیا اور نہ ہی مسلمانوں کو ایک بھی عہدہ دیا گیا۔ آج تک ریاستی کابینہ میں مسلم نمائندگی نہیں ہے ۔عامر علی خان کو ایم ایل سی بنایا گیا کانگریسی قائدین یہ بات جانتے تھے کہ یہ ایک متنازعہ مسئلہ ہے ۔اس کے باوجود عامر علی خان کوقربان کیا گیا اور آج محمد اظہرالدین سابق کرکٹر کے ساتھ بھی وہی کھیل کھیلا جا رہا ہے ۔ محمد اعظم علی نے کہا کہ کانگریس حکومت دراصل مسلمانوں کو کچھ دینا نہیں چاہتی۔ جوبلی ہلز کے ضمنی انتخاب کو پیش نظر رکھتے ہوئے حال ہی میں مسلمانوں کو دوبارہ گمراہ کرنے کے لئے چیف منسٹر ریونت ریڈی نے 30 کروڑ روپئے کی منظوری کے ساتھ دو نئی اسکیمات کا اعلان کیا۔کانگریس حکومت کی جانب سے اندرما مسلم مہیلا یوجنا کا اعلان کیا گیا جس کے تحت تنہا زندگی بسر کرنے والی خواتین ،بیواؤں اور مطلقہ خواتین کو اس اسکیم کے تحت فی کس 50 ہزار روپئے امداد کی فراہمی کا اعلان کیا گیا۔ اس اسکیم کے نام پر بھی مسلم خواتین کے ساتھ کانگریس حکومت کھلواڑ کڑ رہی ہے۔ اگر اعداد و شمار دیکھے جائیں تو تلنگانہ میں تنہا زندگی بسر کرنے والی خواتین کے علاوہ مطلقہ اور بیوہ خواتین کی تعداد زائد از دس ہزار ہے اگر 10 ہزار خواتین کو فی کس 50 ہزار روپئے مالی امداد فراہم کی جاتی ہے تو اس اسکیم کے لئے 50 کروڑ روپئے درکار ہوں گے اسی طریقے سے غریب مسلم طبقات جیسے فقرا، نور باش و دیگر کے لئے موپیڈگاڑیوں کی فراہمی کے خصوص میں ایک لاکھ روپئےامداد کا اعلان کیا گیا ہے۔ تلنگانہ میں فقیر اور نور باش طبقات کی آبادی تقریباً 15 ہزار ہے۔ اس لحاظ سے بھی دیکھا جائے تو اس اسکیم پر عمل آوری کے لئے زائد از 200 کروڑ روپئے درکار ہوں گے لیکن ریاستی حکومت نے صرف 30 کروڑ روپئے کی منظوری کا اعلان کیا ہے۔ یہ مسلمانوں کے ساتھ ایک بھونڈا مذاق ہے۔ محمد اعظم علی نے پرزور انداز میں کہا کہ کانگریس کے اقلیتی قائدین آخر خاموش کیوں ہیں۔ انہیں اپنی حکومت سے سوال کرنا چاہئے کہ اقلتیوں کے ساتھ کئے گئے وعدوں کا کیا ہوا۔ ریونت ریڈی کے جھوٹے وعدوں پر خاموشی اختیار کرنے کی وجہ کیا ہے۔ محمد اعظم علی نے کہا کہ کانگریس حکومت فسادی حکومت ہے۔ کانگریس حکومت کا منشا و مقصد صرف مسلمانوں کو نقصان پہنچانا ہے اور مسلمانوں کی لیڈرشپ کو ختم کرنا ہے۔ ریونت ریڈی، وزیراعظم مودی کے نقش قدم پر چل رہے ہیں اور ریونت ریڈی آر ایس ایس کا بیک گراؤنڈ رکھتے ہیں۔ لہذا مسلمان، ریونت ریڈی اور کانگریس کی باتوں میں نہ آئیں ۔خاص کر جوبلی ہلز کے ضمنی انتخاب میں مسلمان بی آر ایس کے حق میں اپنے ووٹ کا استعمال کریں۔ کے سی آر صاحب کے ہاتھ مضبوط کئے جائیں۔ پریس کانفرنس سے عبداللہ سہیل، مسیح اللہ خان سابق صدر نشین وقف بورڈ ، ارشد علی خان نے بھی خطاب کیا۔




English 


































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































