سنگارینی کارکنوں کے مسائل پر بی آر ایس قائدین کی ڈائرکٹر سے ملاقات، حکومت کو سخت انتباہ
حیدرآباد، 27 دسمبر 2025:
بی آر ایس کے سینئر قائدین و سابق وزراء ہریش راؤ، کوپلا ایشور اور ٹی بی جی کے ایس کے دیگر قائدین نے سنگارینی کے ڈائرکٹر گوتم سے ملاقات کی اور سنگارینی کارکنوں کو درپیش مسائل پر ایک تفصیلی میمورنڈم پیش کیا۔
قائدین نے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر ایک میڈیکل بورڈ تشکیل دیا جائے اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر زیرِ کفالت (Dependent) ملازمتوں کو بحال کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت سنگارینی مزدوروں کے ساتھ ناانصافی اور غیر انسانی سلوک کر رہی ہے۔
بی آر ایس قائدین نے صحافیوں کی مبینہ غیر قانونی گرفتاریوں کی بھی سخت مذمت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاست میں اظہارِ رائے اور احتجاج کے جمہوری حقوق کو کچلا جا رہا ہے۔
“کیا احتجاج کرنا جرم ہے؟ کیا درخواست دینا جرم ہے؟ کیا یہی ساتویں ضمانت (جمہوریت) ہے؟” انہوں نے سوال اٹھایا۔
قائدین نے واضح کیا کہ جب دوبارہ بی آر ایس کی حکومت آئے گی تو فٹبال میچ پر خرچ کیے گئے 110 کروڑ روپے کی مکمل جانچ کرائی جائے گی اور قصورواروں کو کٹہرے میں لایا جائے گا۔
انہوں نے نائب وزیر اعلیٰ بھٹی وکرمارک سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر میڈیکل بورڈ تشکیل دیا جائے اور سنگارینی مزدوروں کے بچوں کو نوکریاں دی جائیں، بصورتِ دیگر بی آر ایس پرجا بھون کے محاصرے کا اعلان کرے گی۔
ہریش راؤ کا سخت بیان
سابق وزیر ہریش راؤ نے کہا کہ زیرِ کفالت ملازمتوں کے معاملے میں کانگریس حکومت کی جانب سے کی جانے والی غلط کاریوں کو سنگارینی کے ڈائرکٹر کی توجہ میں لایا گیا ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ ماضی میں جب چندرابابو نائیڈو نے زیرِ کفالت ملازمتیں منسوخ کی تھیں تو کے چندر شیکھر راؤ (کے سی آر) نے اقتدار میں آکر انہیں بحال کیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ سنگارینی کے تقریباً 40 ہزار ملازمین میں سے 20 ہزار زیرِ کفالت ملازمین ہیں۔ میڈیکل بورڈ کو مہینے میں دو بار منعقد کرنے کے وعدے کے باوجود، گزشتہ دو برسوں میں صرف دو مرتبہ ہی اس کا انعقاد کیا گیا۔
ہریش راؤ نے الزام عائد کیا کہ وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی کا رویہ مزدور دشمن ہے۔
“جن مزدوروں کی ٹانگیں نہیں، آنکھیں نہیں، یا جن کی بائی پاس سرجری ہو چکی ہے، ان کے لیے نوکری حاصل کرنا مشکل بنا دیا گیا ہے۔ یہ عوامی حکومت نہیں بلکہ مزدوروں کے ساتھ زیادتی کرنے والی، انسانیت سے خالی حکومت ہے،” انہوں نے کہا۔
انہوں نے مزید الزام لگایا کہ ریونت ریڈی کے دور میں سنگارینی کو پرائیویٹائز کرنے کی سازش کی جا رہی ہے۔ بجلی کے بل ادا نہیں ہو رہے، کوئلہ نہیں اٹھایا جا رہا، ادارہ مقروض ہو چکا ہے اور تنخواہیں او ڈی لے کر دی جا رہی ہیں۔
ان کے مطابق، “ریونت کے اقتدار میں آنے کے بعد سنگارینی 50 ہزار کروڑ روپے کے قرض میں ڈوب چکی ہے۔ جب بھٹی وکرمارک وزیر خزانہ ہیں تو کیا سنگارینی کا گلا گھونٹنا درست ہے؟”
ہریش راؤ نے سوال اٹھایا کہ “سنگارینی کس طرح فٹبال کھیل کے لیے 10 کروڑ روپے خرچ کر سکتی ہے؟” اور اس خرچ کی شفاف جانچ کا مطالبہ کیا۔
بی آر ایس قائدین نے آخر میں دو ٹوک انداز میں کہا کہ اگر حکومت نے فوری اقدامات نہ کیے تو مزدوروں کے حق میں شدید عوامی تحریک شروع کی جائے گی




English 





































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































