تلنگانہ جاگرتی میں بی سی قائدین کی شمولیت، کویتا کی 42 فیصد بی سی ریزرویشن پر مشاورت
حیدرآباد، 6 ستمبر (پیٹریاٹک ویوز نیوز):
تلنگانہ جاگرتی میں ہفتہ کے روز کئی بی سی قائدین شامل ہوگئے اور بی سی ریزرویشن میں اضافہ کی تحریک کو اپنی تائید پیش کی۔ بانجارہ ہلز میں واقع جاگرتی دفتر پر تلنگانہ جاگرتی کی صدر کلواکنتلا کویتا نے ان قائدین کو پارٹی کے دوپٹے اوڑھا کر خیرمقدم کیا۔
جو قائدین شامل ہوئے ان میں جی ایچ ایم سی کے سابق کارپوریٹر گوپو سدانندم، سنجار جاتی سنگم ریاستی صدر کول سرینواس اور ارے کٹیکا سنگم کے لیڈر سورندر شامل ہیں، جو اپنے حامیوں کے ساتھ جاگرتی میں شامل ہوئے۔ ان قائدین نے کہا کہ کویتا کی بی سی ریزرویشن میں اضافے کے لیے کی جانے والی جدوجہد سے متاثر ہوکر وہ جاگرتی میں شامل ہوئے ہیں اور جب تک 42 فیصد ریزرویشن حاصل نہیں ہوجاتا وہ جدوجہد جاری رکھیں گے۔
42 فیصد ریزرویشن پر مشاورت
بعد ازاں کویتا نے جاگرتی دفتر پر مختلف بی سی تنظیموں کے قائدین کے ساتھ اجلاس منعقد کیا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ کانگریس حکومت، کاماریڈی ڈیکلریشن کو نافذ کئے بغیر مقامی اداروں کے انتخابات منعقد کرنے کی منصوبہ بندی کررہی ہے، اور اگر ایسا ہوتا ہے تو عوامی دباؤ کے ذریعہ اس حکومت کو سبق سکھانا ہوگا۔
کویتا نے کہا کہ بی سی تنظیموں اور جاگرتی کے دباؤ پر اسمبلی و کونسل میں بلز پاس تو کئے گئے، لیکن ریاستی حکومت نے ان بلز کو صدر جمہوریہ سے منظوری دلانے کے لیے کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی۔ انہوں نے یاد دلایا کہ اسمبلی میں وزیراعظم کے پاس آل پارٹی وفد لے جانے کا وعدہ کیا گیا تھا لیکن وہ وعدہ بھی وفا نہیں ہوا۔
انہوں نے مرکز اور گورنر پر بھی الزام عائد کیا کہ انہوں نے ان بلز کو روکا لیکن ریاستی حکومت نے قانونی یا سیاسی سطح پر کوئی جدوجہد نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ اسمبلی و کونسل اجلاسوں میں چالاک سیاست کے تحت آئینی ترمیم کے نام پر بی سی طبقہ کو ایک بار پھر دھوکہ دینے کی کوشش کی گئی۔
کویتا نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ تلنگانہ جاگرتی بی سی ریزرویشن میں 42 فیصد اضافہ کے حصول تک اپنی تحریک جاری رکھے گی، اور بہت جلد بی سی قائدین و مختلف برادریوں کے نمائندوں کے ساتھ مشاورت کے بعد آئندہ کا لائحہ عمل پیش کیا جائے گا۔




English 


































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































