پالمورو- رنگاریڈی پروجیکٹ کی تعمیر میں بدعنوانیوں کا الزام
تلنگانہ جاگروتی کے زیر اہتمام جاری جنم باٹا پروگرام کے تحت صدر تلنگانہ جاگروتی کلواکنٹلہ کویتا نے ناگرکرنول میں پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ کویتا نے آبی وسائل، ترقیاتی منصوبوں، بدعنوانی، اقلیتی حقوق اور علاقائی ناانصافیوں پر کھل کر اظہار خیال کیا۔
انہوں نے کہا کہ جس طرح کالیشورم پراجکٹ کو تیزی سے مکمل کیا گیا، اسی طرح پالمورو–رنگاریڈی پراجکٹ کو آگے نہیں بڑھایا گیا، جس کے نتیجہ میں تلنگانہ اپنے 90 ٹی ایم سی پانی کے حق سے محروم ہوگیا۔ انہوں نے کہا کہ آندھرا پردیش سیلابی پانی کے نام پر نلہ ملہ ساگر پراجکٹ تعمیر کر رہا ہے جس سے تلنگانہ کے مفادات کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ ایسے میں ضروری ہے کہ تلنگانہ حکومت بھی نیا آبی منصوبہ تعمیر کرے۔انہوں نے واضح کیا کہ پالمورو–رنگاریڈی کے لئے پانی کا ذریعہ سری سیلم کو بنانا مستقل آبی تنازعہ کو جنم دینے کے مترادف ہے، کیونکہ سری سیلم ایک مشترکہ منصوبہ ہے۔ اس کے بجائے جورالا سے پانی لینا ہی تلنگانہ کے مفاد میں ہے۔ کویتا نے الزام عائد کیا کہ پالمورو–رنگاریڈی پراجکٹ میں بدعنوانی کی جا رہی ہے، معمولی کام باقی ہونے کے باوجود ہزاروں کروڑ روپئے خرچ کئے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وٹم ریزروائر کے لئے مٹی نکالنے کے نام پر حاصل کی گئی 900 ایکڑ اراضی آج بھی کنٹراکٹروں کے قبضے میں ہے، جنہوں نے وہاں باغات اور باڑ لگا کر ذاتی جاگیریں قائم کر لی ہیں۔ انہوں نے چیف منسٹر کو چیلنج کیا کہ اگر ان میں ہمت ہے تو یہ زمینیں فوری طور پر کسانوں کو واپس دلائیں۔
صدر تلنگانہ جاگروتی نے کہا کہ رائلسیما لفٹ ایریگیشن کے خلاف جاگروتی عدالت سے رجوع ہوئی ہے اور حکم التواء حاصل کیا، سوال یہ ہے کہ اس معاملہ کو بی آر ایس حکومت نے خود عدالت سے رجوع کیوں نہیں کیا۔ انہوں نے ایلّورو پمپ ہاؤز کو اوپن سسٹم سے انڈر گراؤنڈ کرنے کا سابق وزیر ہریش راؤ پر بدعنوانی کا الزام عائد کیا، جس کے باعث موٹرس ناکارہ ہوئیں اور آج تک مکمل آب رسانی ممکن نہیں ہو سکی۔
کویتا نے ناگرکرنول ضلع کی مجموعی پسماندگی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ 1904 سے آج تک ضلع میں ریل کی سہولت نہیں پہنچی، گدوال–ماچرلا ریلوے لائن آج تک مکمل نہیں ہوئی، حالانکہ ریل آنے سے ضلع کی ترقی ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ ضلع میں 36 فیصد جنگلاتی زمین، قیمتی معدنیات، سیاحتی مقامات، قلعے، ملّیلّا تیرتھم جیسے مقامات موجود ہیں، مگر حکومت نے سیاحت اور وسائل کے استعمال پر توجہ نہیں دی۔ یہاں کی خواندگی شرح محض 54 فیصد ہونا انتہائی افسوسناک ہے۔انہوں نے کہا کہ کرشنا ندی ضلع میں 308 کلومیٹر بہتی ہے، مگر تلنگانہ کو اس کے مکمل پانی سے فائدہ نہیں ملا۔ ریاست کے جائز حق کے مطابق ریاست کو 550 ٹی ایم سی پانی ملنا چاہئے، لیکن پالمورو–رنگاریڈی مکمل نہ ہونے کے باعث 45 تا 90 ٹی ایم سی پانی کا حق ضائع ہو گیا۔ کانگریس حکومت نے تو موجودہ 45 ٹی ایم سی کو ہی کافی قرار دے کر ریاست کے مفادات کو مزید نقصان پہنچایا۔
ہے۔کویتا نے الزام عائد کیاکہ کانگریس حکومت تعلیم اور آبپاشی کے نام پر صرف اعلانات کر رہی ہے، عملی طور پر ڈائیورژن اور کرپشن کی سیاست چل رہی ہے۔ نارائن پیٹ–کوڑنگل منصوبوں کے لئے مخصوص کمپنیوں کو بھاری ایڈوانس دیئے گئے، جبکہ پالمورو–رنگاریڈی جیسے اہم منصوبے کو نظرانداز کیا گیا۔
انہوں نے ریت مافیا، کسانوں کی زمینوں پر قبضہ، میڈیکل کالج کے لئے زبردستی حاصل کی گئی اراضی، ذخائر میں پانی نہ بھرنےاور دیہی علاقوں میں بڑھتی مشکلات کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ دولت کی منصفانہ تقسیم نہیں ہو رہی ہے جہاں حیدرآباد میں فی کس آمدنی 10 لاکھ روپئے وہیں ناگرکرنول اور وقار آباد میں صرف 1.28 لاکھ روپئے ہے۔
کویتا نے کہا کہ تلنگانہ جاگروتی کی جدوجہد سماجی تلنگانہ کے قیام کے لئے ہے۔ تنظیم میں 80 فیصد عہدے بی سی، ایس سی، ایس ٹی اور اقلیتوں کو دیئے جائیں گے۔ اقلیتوں کو سرکاری ملازمتوں، سیاسی نمائندگی اور بجٹ میں مسلسل نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 12 فیصد تحفظات، اقلیتی حقوق، کسانوں کے مسائل اور عوامی ناانصافیوں کے خلاف جاگروتی اپنی جدوجہد جاری رکھے گی اور جنم باٹا کے ذریعے عوامی مسائل کو سڑک سے ایوان تک پہنچایا جائے گا۔




English 





































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































