منگل 7 رمضان 1447هـ
#تلنگانہ

اللہ نے شب معراج کی شب آپؐ کو 5وقت کی نمازوں کا تحفہ عطاء فرمایا۔اور اس میں 50وقت کی نمازوں کا ثواب رکھا

شاہ خلیفہ ڈاکٹر محمد ادریس احمد قادری بگدلی نے جلسہ کو مخاطب کیا
بیدر19جنوری (نامہ نگار) اللہ رب العزت نے شب معراج کی شب آپؐ کو 50نمازوں میں سے 45کم کرکے اُمت رسول ﷺ کو 5وقت کی نمازوں کا تحفہ عطاء فرمایا۔اور اس میں 50وقت کی نمازوں کا ثواب کے رکھا۔ان پاکیزہ خیالات کا اظہار پیر طریقت ڈاکٹر الحاج شاہ خلیفہ محمد ادریس احمد قادری ”صاحب“ بگدلی سجادہ نشین درگاہ آستانہ قادریہ بگدل نے کل،آستانہ قادریہ بگدل میں منعقدہ جلسہ شب معراج کے مرکزی جلسہ کو بحیثیت نگران جلسہ مخاطب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے نماز کی اہمیت پرخطاب کرتے ہوئے کہا کہ نماز مومن کی معراج ہے اور دین کا ستون ہے۔ نماز نہ صرف گناہوں سے روکتی ہے بلکہ انسان کے اخلاق و کردار کو سنوارتی ہے۔اپنے خطاب میں انہوں نے نماز کی فضیلت، اہمیت، اورحضرت غوث آعظم، حضرت شاہ سیدعبدالقادرولی ؒ کے بیشمار کرامت اور فوائد پر تفصیلی روشنی ڈالی ا س موقع پر دارالعلوم قادریہ میں زیر تعلیم 12طلباءنےناظرہ قرآن مجید کی تکمیل کی ہے کی شال و گلپوشی کی اورمسرت کا اظہار کیااور مباکباد دی ۔ درس تصوف دیا،اور خصوصی دعا کی۔ مولانا محمد ندیم قادری اُستاد دارالعلوم قادریہ بگدل نے اپنے خطاب میں کہا کہ شبِ معراج کا عظیم واقعہ پیش آنے سے چند دن قبل رسولِ اکرم ﷺ پر مکہ کے اہلِ عرب خصوصاً قریش کی جانب سے ظلم و ستم اور مخالفت اپنی انتہا کو پہنچ چکی تھی۔ یہ وہ دور تھا جو تاریخِ اسلام میں (غم کا سال) کے نام سے جانا جاتا ہے۔اہلِ مکہ نے دعوتِ توحید کی وجہ سے حضور اکرم ﷺ کے خلاف سخت رویہ اختیار کر رکھا تھا۔ آپ ﷺ پرگلیوں اور راستوں میں کانٹے بچھائے جاتے۔ اس کے ساتھ ہی مسلمانوں اور بنو ہاشم کا مکمل سماجی و معاشی بائیکاٹ کیا گیا، جس کے باعث کئی دن فاقوں میں گزرے۔اسی عرصے میں حضور ﷺ کے دو عظیم سہارے، حضرتہ خدیجہؓ اور حضرت ابو طالبؓ کا وصال ہو گیا۔ حضرت خدیجہؓ گھریلو تسلی اور اخلاقی طاقت کا ذریعہ تھیں جبکہ حضرت ابو طالبؓ قبائلی تحفظ کی مضبوط ڈھال تھے۔ ان دونوں شخصیات کی وفات نے رسول اللہ ﷺ کو شدید غم میں مبتلا کر دیا۔جب مکہ میں حالات مزید دشوار ہو گئے تو رسول اکرم ﷺ دعوتِ دین کے لیے طائف تشریف لے گئے، مگر وہاں بھی سخت بدسلوکی کی گئی۔ ایسے کٹھن حالات کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب ﷺ کو شبِ معراج کا عظیم تحفہ عطا فرمایا۔ اس ربّانی سفر کے ذریعے اللہ نے اپنے نبی ﷺ کے دل کو تسلی دی اور یہ پیغام دیا کہ آزمائش کے بعد ہی بلندی اور عزت عطا کی جاتی ہے۔شبِ معراج امتِ مسلمہ کے لیے یہ واضح پیغام رکھتی ہے کہ صبر، استقامت اور اللہ پر کامل یقین رکھنے والوں کے لیے رب کی مدد ضرور آتی ہے۔ مولانا محمد عبدالحمیدرحمانی چشتی صدر کل ہند اصلاح معاشرہ کمیٹی نے کہا کہ شبِ معراج کے موقع پر حضور اکرم ﷺ کا اللہ تعالیٰ کے حضور طویل سجدہ ایک نہایت عظیم، روحانی سجدہ تھا۔ اس سجدے میں آپ ﷺ نے اپنی ذات کے لیے نہیں بلکہ اپنی پوری امت کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعائیں مانگیں۔ اس طویل سجدے میں حضور ﷺ نے خاص طور پر یہ دعائیں کیں: امت کی مغفرت کی دعا،امت کو عذاب سے بچانے کی دعا،امت کی بخشش اور رحمت،آسان حساب کی دعا،امت کے درجات کی بلندی کی التجا کی۔اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب ﷺ کی دعاؤں کو شرفِ قبولیت عطا فرمایا۔شبِ معراج کا عظیم اور ایمان افروز واقعہ پیش آنے کے بعد جب رسولِ اکرم ﷺ واپس تشریف لائے تو آپ ﷺ نے قریش کے سامنے اس معجزاتی سفر کا ذکر فرمایا۔ آپ ﷺ نے بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے ایک ہی رات میں آپ کو مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصیٰ اور وہاں سے آسمانوں کی سیر کرائی۔ اس اعلان پر جہاں اہلِ ایمان کا ایمان اور مضبوط ہوا، وہیں کفارِ مکہ، خصوصاً ابو جہل، انکار کیا۔اگرچہ ابو جہل اور اس کے ساتھیوں نے ضد اور ہٹ دھرمی کی بنا پر انکار کیا، مگر اس واقعہ نے سچائی کے متلاشی دلوں پر گہرا اثر چھوڑا۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے بلا تردد فرمایااگر یہ بات محمد ﷺ نے کہی ہے تو یقیناً سچ ہے، اور اسی موقع پر آپؓ کو صدیق کا لقب عطا ہوا۔اس موقع پرمولانا محمد شاہد رضا استاد دارالعلوم قادریہ بگدل نے کہا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو بندہ مجھ پر ایک مرتبہ درودِ پاک پڑھتا ہے، اس بندے پر میری شفاعت واجب ہو جاتی ہے۔پروفیسر مشائخ گلبرگہ نے خلیفہ عنوان پر خطاب کیا۔ اورشبِ معراج کی فضیلت پر سیر حاصل روشنی ڈالی۔شہ نشین پرجناب محمد لئیق احمد قادری بگدلی اور دیگر معززین موجود تھے۔حافظ محمد شاہنوازنلدرگ کی قرأت کلام پاک سے جلسہ کی کارروائی کا آغاز ہوا۔طلباء دارالعلوم قادریہ بگدل،مولانا محمد شاہد رضا، گونداکھشے، محمدعبدالسلیم قادری ظہرآباد اور دیگر نے حمد،نعت و منقبت کا نذرانہ پیش کرنے کی سعادت حاصل کی ۔فاتحہ سلام تقسیم تبرکات اور دعائے سلامتی کے بعد یہ روحانی جلسہ تکمیل پذیرہوا۔

اللہ نے شب معراج کی شب آپؐ کو 5وقت کی نمازوں کا تحفہ عطاء فرمایا۔اور اس میں 50وقت کی نمازوں کا ثواب رکھا

14 جنوری 2025

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے