سیرتِ طیبہؐ کا ہر پہلو عدل و انصاف، شفقت اور محبت کا درس دیتا ہے : مولانا محمد ریاض احمد قادری حسامی
آپؐ کی سیرتِ طیبہ کا ہر پہلو ہمیں عدل، انصاف، شفقت اور محبت کا درس دیتا ہے۔ اگر ہم ان تعلیمات پر عمل کریں تو معاشرہ ظلم و زیادتی، ناانصافی اور بے حسی سے پاک ہو سکتا ہے۔ حضرت محمد مصطفیٰ صلعم کی ولادت باسعادت ایسی گھڑی تھی جب ظلمت و تاریکی کا خاتمہ ہوگیا۔ اندھیرے میں ڈوبا ہوا حجرہ یکایک نور و اجالے سے بھر گیا۔ آپ ؐ نے اپنی ولادت ہی کے لمحے شہادت دی کہ اللہ ایک ہے اور میں محمد صلعم اللہ کا رسول ہوں۔
ان خیالات کااظہار مولانا محمد ریاض احمد قادری حسامی( ناظم مدرسہ اسلامیہ ریاض العلوم، فلک نما )نے مسجد محمودہ شاستری پورم میں نماز جمعہ سے قبل اپنے خطاب میں کیا۔انہوں نے کہاکہ آپ ؐ کی آمدِ مبارک نے کائنات کو نئی زندگی عطا کی، یتیموں، ناداروں اور بے سہاروں کو عزت بخشی۔
اگرچہ اللہ تعالیٰ نے ساری کائنات کا اختیار اپنے محبوب ؐ کو عطا فرمایا، لیکن آپؐ کو یتیم پیدا کیا تاکہ دنیا کو سبق دیا جائے کہ یتیمی رکاوٹ نہیں بلکہ رفعتِ انسانیت اور کمالِ شرف حاصل کرنے کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔ آپ ؐ نے ایسا عدل و انصاف پر مبنی نظام قائم کیا جس میں یتیموں کو عزت، غریبوں کو مقام اور کمزوروں کو سہارا ملا۔انہوں نے کہاکہ جب دایائیں بچوں کو دودھ پلانے کے لیے مکہ معظمہ آئیں تو یتیم ہونے کی وجہ سے آپؐ کو اپنے ساتھ لے جانے سے گریز کرتی رہیں، مگر یہ سعادت بالآخر حضرت دایہ حلیمہ سعدیہؓ کے حصے میں آئی۔
یہ اللہ کی طرف سے انہیں بخشا گیا سب سے عظیم انعام تھا۔حضور صلعم نے ارشاد فرمایا :’’بہترین گھر وہ ہے جس میں یتیم کی عزت ہو اور برا گھر وہ ہے جس میں یتیم کی عزت نہ ہو۔‘‘لیکن افسوس کہ آج بھی ہمارے معاشرے میں یتیم اور غریب کو دھتکارا جاتا ہے، ان کے حقوق پامال کیے جاتے ہیں۔ اگر ہم سوچیں کہ ہماری اپنی اولاد یتیم ہوجائے تو کیسا کربناک منظر ہوگا، تب ہمیں احساس ہوگا کہ یتیم کا دل دکھانا کتنا بڑا ظلم ہے۔آپ صلعم نے مزید فرمایا:’’بہترین دعوت وہ ہے جس کے دستر خوان پر غریب، یتیم اور نادار بیٹھیں۔
‘‘یہ تعلیم ہمیں بتاتی ہے کہ حقیقی بابرکت محفل وہی ہے جس میں کمزور اور بے سہارا لوگوں کو جگہ دی جائے۔حضرت دایہ حلیمہ سعدیہؓ بیان کرتی ہیں کہ جب میں نے پہلی مرتبہ حضور صلعم کو دیکھا تو آپؐ مسکرا دیے۔ اس عمل سے سبق دیا کہ ’’ماں اور دایہ کو دیکھ کر مسکرانا چاہیے، ان کی عزت کرنی چاہیے اور ان کے ساتھ حسنِ سلوک اختیار کرنا چاہیے۔
‘‘ مگر آج افسوس کہ والدین کے ساتھ زیادتیاں کی جارہی ہیں، بڑھاپے میں سہارا بننے کے بجائے انہیں بڑھاپے کے گھروں میں چھوڑ دیا جاتا ہے یا جائیداد کی خاطر ان پر ظلم کیا جاتا ہے۔اسی طرح آپ ؐ نے حضرت حلیمہؓ کا صرف ایک طرف کا دودھ پیا اور لاکھ کوشش کے باوجود دوسری جانب کا دودھ پینے کے لیے راضی نہ ہوئے۔ یہ عمل دراصل ایک پیغام تھا کہ ’’میں انصاف کے لیے مبعوث ہوا ہوں، اپنے دودھ شریک بھائی کا حق نہیں لے سکتا۔‘‘ لیکن آج کے دور میں دیکھا جائے تو وراثت کے حقوق پر ڈاکہ ڈالا جاتا ہے، بہنوں کو محروم کیا جاتا ہے اور یتیم بچوں کی میراث ہڑپ کرلی جاتی ہے۔ یہ سراسر حضور صلعم کی تعلیمات کے خلاف ہے۔




English 





































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































