مسجد کا امام: ایک اہم اور پیچیدہ منصب
تحریر: قاضی حافظ سید عزیر ہاشمی قادری ملتانی
مسجد کا امام ہونا بلاشبہ ایک ایسا منصب ہے جسے معاشرتی زندگی میں ایک منفرد مقام حاصل ہے۔ امام کے کردار اور ان کی خدمات کی قدر و قیمت کو ہر دور میں تسلیم کیا گیا، لیکن اس کے ساتھ انہیں تنقید اور اعتراضات کا سامنا بھی رہا ہے۔ ہر مسجد میں چند ایسے افراد ہوتے ہیں جو امام سے بظاہر مفت میں دشمنی پال لیتے ہیں، اور ہر وقت کسی نہ کسی وجہ سے ان پر اعتراضات کرتے رہتے ہیں۔
اعتراضات اور امام کا مقام
امامت کا منصب رکھنے والا شخص کبھی بھی معمولی شخصیت نہیں ہوتا۔ امام نماز اور دیگر عبادات کے ذریعے لوگوں کی رہنمائی کرتا ہے اور ان کی تربیت میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ پھر بھی، امام پر اعتراض کرنا بسا اوقات عام لوگوں کا معمول بن جاتا ہے۔ حالانکہ امام چاہے کتنا ہی بلند کردار اور اعلیٰ علم والا ہو، مگر اسے مقتدیوں کی جلی کٹی باتوں اور تنقید سے بچنا مشکل ہوتا ہے۔
حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کی مثال
تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ صحابی رسول، حضرت سعد بن ابی وقاصؓ جیسے جلیل القدر صحابی، جو کہ عشرہ مبشرہ میں سے ہیں اور نبی کریم ﷺ نے انہیں اپنا ماموں قرار دیا تھا، بھی ان اعتراضات سے محفوظ نہیں رہ سکے۔ کوفہ میں امارت کے دوران ان پر یہ اعتراض کیا گیا کہ وہ نماز صحیح طرح سے نہیں پڑھاتے۔ حضرت سعد بن ابی وقاصؓ نے نماز کا طریقہ براہ راست نبی کریم ﷺ سے سیکھا، مگر اس کے باوجود کوفہ کے لوگ ان پر اعتراضات کرتے رہے۔
حضرت عمر فاروقؓ نے ان اعتراضات کی تحقیق کروائی۔ محمد بن مسلمہؓ اور عبد اللہ بن ارقمؓ کو کوفہ بھیجا گیا کہ وہ لوگوں سے حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کے بارے میں دریافت کریں۔ ہر مسجد میں لوگ حضرت سعدؓ کی تعریف کرتے رہے، لیکن ایک شخص اسامہ بن قتادہ نے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ حضرت سعدؓ نماز ٹھیک نہیں پڑھاتے۔
ناحق اعتراضات اور اس کے نتائج
حضرت سعد بن ابی وقاصؓ نے ان ناحق باتوں پر دعا کی کہ اللہ اس شخص کو طویل عمر دے، اس کی غربت بڑھائے اور اسے فتنوں میں مبتلا کرے۔ وقت کے ساتھ اس دعا کا اثر ظاہر ہوا، اور اس شخص کو بڑھاپے میں لوگوں کے طعنوں اور مصائب کا سامنا کرنا پڑا۔
آج کے امام چاہے حضرت سعد بن ابی وقاصؓ جیسے نہ ہوں، لیکن انہیں بھی ناحق اعتراضات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لوگوں کو اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ کسی مسلمان پر ناحق اعتراضات کرنا اور اس کے بارے میں بدگمانی رکھنا اللہ کی پکڑ کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔
نظامِ مسجد اور ذمہ داریاں
ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی مساجد کے نظام میں بہتری لانے کی کوشش کریں۔ امام، خطیب اور مسجد انتظامیہ میں سے ہر ایک کو اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنا اور ان کو بحسن و خوبی نبھانے کا شعور ہونا چاہیے۔ ہم اپنے پروپیگنڈہ میں وقتی طور پر کامیاب ہوسکتے ہیں، مگر اللہ تعالیٰ کے فیصلے حقائق پر مبنی ہوتے ہیں اور ان فیصلوں سے بچاؤ ممکن نہیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی ذمہ داریوں کو بہتر طور پر ادا کرنے کی توفیق دے۔ آمین۔





English 



































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































