اسمبلی میں بی آر ایس ارکان کو داخلے سے روکنے اور پولیس کارروائی کے خلاف کے ٹی آر کی ریاست گیر احتجاج کی کال، ہریش راؤ سمیت کئی قائدین حراست میں
حیدرآباد: بھارت راشٹرا سمیتی (BRS) نے پیر کو اسمبلی اجلاس کے پہلے دن اپنے ارکانِ اسمبلی اور ارکانِ قانون ساز کونسل کو اسمبلی میں داخل ہونے سے روکنے کی مبینہ کوشش کے خلاف ریاست گیر احتجاج کا اعلان کیا ہے۔ پارٹی نے اپنے ارکان کے خلاف پولیس کی مبینہ زیادتی اور گرفتاریوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے غیر جمہوری اقدام قرار دیا۔
بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی راما راؤ نے پارٹی قائدین اور کارکنوں سے اپیل کی کہ وہ اپنے اپنے حلقوں میں احتجاج کریں اور اسمبلی کے احاطے میں بی آر ایس ارکان کے ساتھ پولیس کے رویے کے خلاف آواز بلند کریں۔
یہ اعلان اسمبلی کے احاطے میں بی آر ایس ارکان اور پولیس کے درمیان پیش آنے والی جھڑپ کے بعد کیا گیا۔ بی آر ایس ارکان سیاہ ٹی شرٹس پہن کر اسمبلی پہنچے تھے، جن پر کانگریس حکومت کی ایک ہزار روزہ حکمرانی اور انتخابی وعدوں کی تکمیل میں مبینہ ناکامی کے خلاف نعرے درج تھے۔ پولیس نے انہیں اسمبلی میں داخل ہونے سے روک دیا۔
پولیس کارروائی کے دوران کے ٹی راما راؤ، سابق وزراء جی جگدیش ریڈی اور وی سونیتا لکشما ریڈی کو معمولی چوٹیں آنے کی اطلاع ہے۔ بعد ازاں پولیس نے کے ٹی راما راؤ، بی آر ایس ایل پی کے ڈپٹی لیڈر ٹی ہریش راؤ اور دیگر قائدین کو حراست میں لے کر تلنگانہ بھون منتقل کردیا۔
بی آر ایس قیادت نے حکومت پر اپوزیشن کی آواز دبانے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ اسمبلی میں عوامی مسائل اٹھانے کے جمہوری حق کو سلب کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ پارٹی نے اعلان کیا کہ ریاست گیر احتجاج کے ذریعے حکومت کے خلاف اپنے اعتراضات اور مطالبات کو عوام کے سامنے رکھا جائے گا۔




English 





