ہفتہ 21 رجب 1447هـ
#تلنگانہ

درگاہ آستانہ قادریہ بگدل میں، توحید اور نماز کی فضیلت پرشاہ خلیفہ محمد ادریس احمد قادری بگدلی صاحب کا خطاب

       بیدر2 /جنوری(نامہ نگار) توحید اسلام کی بنیاد ہے، اسی پر ایمان کی عمارت قائم ہے۔ بندہ جب خالص دل کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو مان لیتا ہے تو اس کی زندگی میں سکون، اطمینان اور استقامت پیدا ہوتی ہے۔ توحید انسان کو شرک، بدعات اور گمراہی سے محفوظ رکھتی ہے۔ ان خیالات کااظہار ممتاز پیر طریقت ڈاکٹر الحاج  شاہ خلیفہ محمد ادریس احمد قادری ”صاحب“ بگدلی سجادہ نشین درگاہ آستانہ قادریہ بگدل شریف میں منعقدہ ماہانہ درس تصوف و جلسہ  بعنوان”شان اولیاء“ کو مخاطب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے نماز کی اہمیت پرخطاب کرتے ہوئے کہا کہ نماز مومن کی معراج ہے اور دین کا ستون ہے۔ نماز نہ صرف گناہوں سے روکتی ہے بلکہ انسان کے اخلاق و کردار کو سنوارتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پابندی کے ساتھ نماز ادا کرنے سے رزق میں برکت، دل میں نورانیت اور زندگی میں کامیابی نصیب ہوتی ہے۔آخر میں سجادہ نشین درگاہ آستانہ قادریہ بگدل نے حاضرین کو تاکید کی کہ وہ اپنی زندگیوں میں توحید کو مضبوطی سے تھامیں اور نماز کو اپنی روزمرہ زندگی کا لازمی حصہ بنائیں۔  اپنے خطاب میں انہوں نے توحید کی اہمیت، اس کے عملی تقاضوں اور نماز کی فضیلت، اہمیت، قادرولی ؒ کے بیشمار کرامت اور فوائد پر تفصیلی روشنی ڈالی اور درس تصوف دیا، خصوصی دعا کی۔ مولانا محمد ندیم قادری اُستاد دارالعلوم قادریہ بگدل نے اپنے خطاب میں حضرت سید ناعلیؓ کی پیدائش، بچپن، حضور اکرم ﷺ سے بے مثال عشق و محبت، نیز شجاعت و بہادری جیسے اوصاف کو نہایت مؤثر انداز میں بیان کیا۔ مولانا نے کہا کہ حضرت سیدنا علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی ولادت خانہ،کعبہ کے اندر ہوئی، جو آپؓ کے عظیم مقام و مرتبہ کی روشن دلیل ہے۔ آپؓ نے بچپن ہی میں حق و صداقت کو قبول کیا اور سب سے پہلے اسلام قبول کرنے والوں میں شامل ہو کر تاریخِ اسلام میں ایک نمایاں مقام حاصل کیا۔ خطاب کے دوران مولانا محمد ندیم قادری نے حضرت علیؓ کے بچپن پر گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ آپؓ نے آغوشِ نبوی ﷺ میں پرورش پائی، جس کی بدولت آپؓ کے اخلاق، کردار اور فکر میں نبوی رنگ نمایاں طور پر جھلکتا ہے۔ حضور نبی کریم ﷺ سے آپؓ کا عشق و محبت مثالی تھا، جس کا اظہار ہر مرحلے پر اطاعت، وفاداری اور جان نثاری کی صورت میں نظر آتا ہے۔ مولانا نے حضرت علیؓ کی شجاعت و بہادری کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ میدانِ بدر، اُحد، خندق اور خیبر سمیت متعدد معرکوں میں آپؓ کی جرات و دلیری تاریخِ اسلام کا روشن باب ہے۔ خصوصاً فتحِ خیبر کے موقع پر آپؓ کی بہادری کو بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ“علیؓ وہ ہیں جن کے ہاتھ میں اللہ نے فتح رکھی۔ خطاب کے اختتام پر مولانا محمد ندیم قادری نے حاضرین کو حضرت علیؓ کی سیرتِ طیبہ سے سبق حاصل کرنے، عدل، شجاعت، تقویٰ اور عشقِ رسول ﷺ کو اپنی زندگیوں میں اپنانے کی تلقین کی۔اس موقع پرمولانا شاہد رضاء اُستاد دارالعلوم قادریہ بگدل نےبھی خطاب کیا۔ طالب علم دارلعلوم قادریہ بگدل  کی قراٗ ت کلام پاک سے جلسہ کا آغاز ہوا۔ حافظ محمد شاہنوازنلدرگ، سید نائب علی طالب علم دارلعلوم قادریہ بگدل، محمد سلیم قادری ظہیرآباد، حمد ونعت اور منقبت کا نذرانہ پیش کرنے کی سعادت حاصل کی۔ شجرہ عالیہ قادریہ کا ورد، ختم قرآن، تلاوت یسٰین شریف کا اہتمام کیا گیا۔ سلام و فاتحہ، دعائے سلامتی کے بعدیہ روحانی جلسہ تکمیل پذیر ہوا۔لنگر خانہ قادریہ میں پر تکلف ضیافت کا اہتمام کیاگیاتھا۔۔۔

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے