وزیرِ اعلیٰ کی بازاری زبان جمہوریت پر حملہ ہے: ڈاکٹر شروَن داسوجو
حیدرآباد، 27 دسمبر 2025:
بھارت راشٹرا سمیتی (بی آر ایس) کے رکنِ قانون ساز کونسل ڈاکٹر شروَن داسوجو نے تلنگانہ کے وزیرِ اعلیٰ ریونت ریڈی کی زبان، لہجے اور طرزِ حکمرانی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیرِ اعلیٰ کی جانب سے استعمال کی گئی بازاری، غیر مہذب اور دھمکی آمیز زبان نہ صرف جمہوری اقدار کی توہین ہے بلکہ گرام سوراج اور پنچایتی راج جیسے آئینی تصورات پر بھی سنگین حملہ ہے۔
کوڈنگل میں نومنتخب سرپنچوں اور وارڈ ممبران کے اجلاس سے وزیرِ اعلیٰ کے خطاب پر ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے ڈاکٹر شروَن داسوجو نے کہا کہ ایک آئینی عہدے پر فائز شخص سے شائستگی، وقار اور آئینی شعور کی توقع کی جاتی ہے، مگر وزیرِ اعلیٰ نے گلی محلے کے غنڈوں جیسی زبان استعمال کر کے تلنگانہ کی جمہوری تاریخ میں ایک شرمناک باب جوڑ دیا ہے۔
انہوں نے سخت لہجے میں سوال کیا:
“یہ گرام سوراج کی تربیت تھی یا گالیوں اور دھمکیوں کی ورکشاپ؟”
ڈاکٹر شروَن داسوجو نے یاد دلایا کہ 73ویں آئینی ترمیم کے تحت گرام پنچایتوں کو 29 اختیارات، فنڈس اور فرائض دیے گئے ہیں، جن پر منتخب نمائندوں کو رہنمائی دی جانی چاہیے تھی، لیکن اس کے برعکس وزیرِ اعلیٰ نے تشدد آمیز اور بازاری الفاظ استعمال کیے، جو ریاستی نظم و نسق کے زوال کی کھلی علامت ہیں۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا سرپنچ عوامی خدمت گزار ہیں یا پھر سیاسی انتقام نکالنے کے لیے استعمال ہونے والی کرائے کی فوج؟
بی آر ایس کے کارگزار صدر کے ٹی راما راؤ کے غیر ملکی تعلیمی و پیشہ ورانہ پس منظر پر وزیرِ اعلیٰ کے توہین آمیز ریمارکس کی سخت مذمت کرتے ہوئے ڈاکٹر شروَن داسوجو نے کہا کہ محنت مزدوری کو “باتھ روم اور برتن صاف کرنے” جیسے الفاظ سے تعبیر کرنا محنت کی عظمت (وقارِ محنت) پر براہِ راست حملہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ جو لوگ محنت، جدوجہد اور صلاحیت سے آگے بڑھتے ہیں وہ محنت کی قدر جانتے ہیں، جبکہ دھمکیوں، بلیک میلنگ اور دباؤ کے ذریعے اوپر آنے والوں کو محنت صرف حقیر چیز نظر آتی ہے۔
ڈاکٹر شروَن داسوجو نے الزام عائد کیا کہ ایک طرف کے ٹی راما راؤ پر آندھرا پردیش میں تعلیم حاصل کرنے کا طعنہ دیا جا رہا ہے، تو دوسری طرف وزیرِ اعلیٰ کے آندھرا سے تعلق رکھنے والے رشتہ داروں کے مفادات کے لیے لگچرلا کے معصوم قبائلی کسانوں کی زمینیں چھینی جا رہی ہیں اور انہیں جیلوں میں ڈالا جا رہا ہے۔
انہوں نے پوچھا کہ یہ کون سی اخلاقیات اور کون سا انصاف ہے؟
انہوں نے کہا کہ سنگرینی کے مزدوروں کی محنت کی کمائی سے بیرونِ ملک کھیل تماشے دیکھنا، اور عوامی خزانے کو ذاتی تفریح پر خرچ کرنا کھلا جرم نہیں تو اور کیا ہے؟
ڈاکٹر شروَن داسوجو نے سابق وزیرِ اعلیٰ کے چندر شیکھر راؤ کے خلاف اسکولی بچوں کی موجودگی میں استعمال کی گئی انتہائی نازیبا زبان کو ذہنی پستی اور سیاسی زوال کی واضح علامت قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ وزیرِ اعلیٰ کو بچوں کو حب الوطنی، آئینی اقدار، تہذیب اور مستقبل کا وژن سکھانا چاہیے تھا، مگر انہیں گالی گلوچ اور نفرت کی زبان سکھائی گئی۔
گزشتہ 24 ماہ کی حکمرانی کو ڈاکٹر شروَن داسوجو نے “معاشی تباہی اور لائسنس یافتہ لوٹ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ آر آر ٹیکس کے نام پر رئیل اسٹیٹ کو تباہ کیا گیا، شراب لائسنسوں میں دھن دھاندلی ہوئی، موسیٰ منصوبے کے نام پر ڈیڑھ لاکھ کروڑ روپے کا اسکیم گھوٹالہ تیار کیا گیا، فیوچر سٹی کے نام پر زمینوں کی بروکریج، یونیورسٹی آف حیدرآباد کی زمینوں پر قبضے کی کوشش، ماحولیاتی تباہی اور مس ورلڈ کے نام پر 200 کروڑ روپے کے مبینہ غلط استعمال جیسے سنگین معاملات سامنے آئے ہیں۔
انہوں نے سوال کیا کہ کیا ان پر سوال اٹھانا جرم ہے؟ کیا یہی جمہوری طرزِ حکومت ہے؟
انہوں نے کہا کہ بی آر ایس کے دورِ حکومت میں فی کس آمدنی 1.24 لاکھ روپے سے بڑھ کر 3.17 لاکھ روپے تک پہنچی، ریاستی مجموعی گھریلو پیداوار 4 لاکھ کروڑ سے بڑھ کر 15 لاکھ کروڑ روپے ہوئی اور زرعی پیداوار 68 لاکھ ٹن سے بڑھ کر 3.5 کروڑ ٹن تک جا پہنچی۔
رعیتو بندھو، پینے کے صاف پانی، بلا تعطل بجلی اور کالیشورم جیسے آبپاشی منصوبے اس ترقی کی زندہ مثالیں ہیں۔
انہوں نے واضح الفاظ میں کہا:
“کے چندر شیکھر راؤ نے تلنگانہ کو ایک بلڈر کی طرح تعمیر کیا، جبکہ ریونت ریڈی اسے ایک بروکر کی طرح بیچ رہے ہیں۔”
آخر میں ڈاکٹر شروَن داسوجو نے کہا کہ چھ گارنٹیوں پر عمل نہ ہونے، رعیتو بندھو کی عدم ادائیگی اور قرض معافی میں تاخیر کے باعث عوام میں شدید ناراضگی پائی جاتی ہے۔
انہوں نے وزیرِ اعلیٰ کو سخت انتباہ دیتے ہوئے کہا:
“ابھی بھی وقت ہے، اپنی زبان بدلیے اور طرزِ حکمرانی درست کیجیے، ورنہ عوام اپنے ووٹ کے ذریعے آپ کی سیاست کا فیصلہ سنا دیں گے۔”




English 





































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































