ظہیرآباد تا بیدر قومی شاہرہ پر اومنی کار میں تکنی خرابی کی وجہہ سے اچانک آگ لگ گیی مسافر موجود نہ ہونے سے ایک بڑا حادثہ ٹل گیا
ظہیرآباد26/دسمبر (روز نامہ پٹریاٹک ویوز ) ظہیرآباد سے بیدر جانے والی قومی شاہراہ پر جمعرات کی رات ٹھیک 8:30 بجے اُس وقت سنسنی پھیل گئی جب ایک اومنی کار میں اچانک آگ بھڑک اٹھی سڑک سے گزرنے والے ایک افراد کارتک نامی نے کار کو جلتے ہوے شعلے اٹھتے دیکھ کر فوری طور پر 108 ایمرجنسی سرویس نمبر کو اطلاع دی۔ اطلاع ملتے ہی ظہیرآباد ٹاؤن پولیس اور فائر بریگیڈ کے عملہ نے بروقت موقع پر پہنچ کر آگ پر قابو پالیا اور اس کار کا نمبر kA 28M5225 ہے
بتایا جاتا ہے کہ اومنی کار میں دو گیس سلنڈر موجود تھے، جس کے باعث حادثہ انتہائی خطرناک شکل اختیار کر سکتا تھا، تاہم خوش قسمتی سے واقعہ کے وقت کار میں کوئی مسافر موجود نہیں تھا، جس سے ایک بڑا جانی نقصان ہونے سے ٹل گیا۔ مذکورہ اومنی کار ظہیرآباد سے کرناٹک ریاست کے بیدر شہر تک مسافروں کی آمد و رفت کے لیے استعمال کی جاتی تھی۔
آگ لگنے کے سبب اومنی کار جگہ پر ہی مکمل طور پر جل کر خاکستر ہوگئی۔ جائے حادثہ کا معائنہ ظہیرآباد کے ٹاؤن سرکل انسپکٹر شیولنگم، اور فائر بریگیڈ سب انسپکٹر اور انکے عملہ اور دیگر پولیس عہدیداروں نے کیا۔ پولیس نے اس واقعہ کو مشتبہ قرار دیتے ہوئے مقدمہ درج کر کے تفتیش کا آغاز کر دیا ہے۔ ایس آئی ونے کمار نے بتایا کہ آگ لگنے کی وجوہات کی باریک بینی سے جانچ کی جا رہی ہے۔




English 





































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































