اولاد اللہ کی عظیم نعمت، جیلوں میں منظم کونسلنگ نظام قائم کیا جائے : مولانا ریاض احمد قادری حسامی
اس وقت دنیا کرسمس اور نیو ایئر کے نام پر خوشیوں، تقریبات اور جشن میں مصروف ہیں۔یہ مواقع ہمیں صرف خوشی یا اختلاف کی نظر سے دیکھنے کے بجائے فکر، محاسبہ اور دعوت کا موقع فراہم کرتے ہیں۔اسلام ہمیں ہر موقع پر یہ سبق دیتا ہے کہ زمانے کے بدلتے موسموں میں بھی ایمان کی بنیاد نہ بدلی جائے۔ان خیالات کااظہار مولانا محمدریاض احمد قادری حسامی( ناظم مدرسہ اسلامیہ ریاض العلوم، فلک نما) نے مسجد محمودہ ،شاستری پورم میں نماز جمعہ سے قبل اپنے خطاب میں کیا۔ انہوں نے کہاکہ حال ہی میں میڈیا میں ایک بیان سننے میں آیا کہ مسلمان زیادہ بچے پیدا کر رہے ہیں، یہ معاشرے کے لیے خطرہ ہے۔یہ اعتراض دراصل اسلامی تصورِ ایمان اور توکل کو نہ سمجھنے کا نتیجہ ہے۔اسلام میں مسلمان کا ایمان،بینک بیلنس پر نہیں،سرکاری اسکیموں پر نہیں،انسانی حساب کتاب پر نہیںبلکہ اللہ رب العزت کی ذات پر ہوتا ہے۔قرآن اعلان کرتا ہے کہ ’’ہم ہی تمہیں بھی رزق دیتے ہیں اور تمہاری اولاد کو بھی‘‘ ۔اولادبوجھ نہیں
خطرہ نہیںبلکہ اللہ کی عطا اور امانت ہے۔اسی حقیقت کو ہمارے اسلاف نے بڑے جرأت مندانہ انداز میں بیان کیا۔حضرت مولانا حمیدالدین حسامی عاقلؒ فرمایا کرتے تھے کہ ’’ لوگوں کے پاس بڑی بڑی فیکٹریاں ہیں، مسلمانوں کے پاس ایک ہی فیکٹری ہے ، بچے پیدا کرنے کی اور اس پر بھی لوگوں کی نظر لگی ہوئی ہے‘‘۔یہی وہ ایمان ہے جو مسلمان کو خوف سے آزاد اور توکل سے مالا مال رکھتا ہے۔وہ وقت بھی آیاتھا جب زبردستی نس بندی کے قانون نافذ کیے گئے تھے اور ایمان کا امتحان لیا گیاتھا۔اسی دور میں مولانا حمیدالدین حسامی عاقلؒ کا نعرہ گونجا کہ ’’اگلا بچہ ابھی ابھی ۔ بارہ کے بعد کبھی کبھی‘‘۔اس جرأت ایمانی پر مولانا کو نو ماہ جیل میں رکھاگیا۔ ان پربیان واپس لینے کیلئے دبائو ڈالاگیا،دھمکیاں دی گئیں مگر نہ وہ خوف سے پیچھے ہٹے ،نہ معافی مانگی اور نہ پسپا ہوئے۔ مولانا ریاض احمد نے مزید کہا کہ ہمارے معاشرے میں ہزاروں لوگ جیلوں میں قید ہیں۔غلطیوں کے اسیر ہیں۔ماضی کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔سوال یہ ہے کہ کیا سزا ہی سب کچھ ہے؟اسلام کہتا ہے کہ اصلاح سزا سے افضل ہے۔آج ضرورت ہے کہ جیلوں میںمذہبی علماء،ماہرینِ نفسیات،سماجی کارکنان کے ذریعے منظم کاؤنسلنگ نظام قائم کیا جائے۔تاکہ قیدی سزا مکمل کرنے کے بعد انسان بن کر لوٹے،معاشرے کے لیے خطرہ نہ بنے،نبی کریم صلعم نے مجرم کو بھی انسان سمجھا،اور اصلاح کو ہمیشہ مقدم رکھا۔حکومت اور پولیس کی یہ ذمہ داری ہے کہ قاتلین اور سنگین جرائم میں ملوث افراد کے خلاف قانون کے مطابق سخت ترین سزاؤں کا تعین کیا جائے، تاکہ معاشرے میں قانون کی بالادستی قائم ہو اور جرائم کی حوصلہ شکنی ہو۔اس کے ساتھ ساتھ مجرموں کی اصلاح کے لیے جیل میں کونسلنگ کا منظم نظام بھی قائم کیا جانا چاہیے، جس میں مذہبی علماء کی مدد سے کونسلنگ کا اہتمام ہو۔ہر حال میں یہ مقصد پیشِ نظر رہے کہ مجرم کے دل میں خدا اور قانون دونوں کا خوف پیدا ہو، اس کی سوچ اور رویّے میں مثبت تبدیلی آئے، اور وہ آئندہ کبھی ایسے گناہوں اور جرائم کی طرف دوبارہ مائل نہ ہو۔




English 





































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































