ہفتہ 21 رجب 1447هـ
#تلنگانہ

وطن دوستی اور قومی شعور شاعری کا روشن پیغام

شعری حسن کے مختلف پہلو

سید محمد شاہد اقبال،
بھدونی شریف، نوادہ ۸۰۵۱۱۰

فون : 9910775722

١.جذباتی حسن :-
اس سے مراد ہے کہ نظم یا غزل میں موجود جذبات کی خوبصورتی اور تاثیر۔ جب شاعر کے جذبات دل کی گہرائی سے نکلیں اور پڑھنے والے کے دل کو چھو جائیں، تو وہ جذباتی حسن ہے۔ یہی وہ کیفیت ہے جسے اردو/فارسی میں "رنگ” یا "رسم” اور سنسکرت اور ہندی میں "رس” کہتے ہیں۔

· محبت کی کیفیت کا رنگ :-
"تم آئے ہو تو خواب سا لگتا ہے، ہر چیز ہے تیرے ہونے سے روشن”
-شکیب جلالی۔
یہاں محبت کی حیرت و سرشاری کے جذبات اس خوبصورتی سے بیان ہوئے ہیں کہ پڑھنے والا بھی اس کیفیت میں کھو جاتا ہے۔

· رنج و فراق کا رنگ :-
"دل میں طوفان کی سی اُٹھتی ہوئی ہے آہ میری،آہ کی صورت میں تری یاد اُتری ہے آہ میری”
-مرزا غالب-
یہاں فراق کے رنج اور سوز کو اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ پڑھنے والا بھی اسی درد میں شریک ہو جاتا ہے۔

٢.آوازی یا موسیقیتی حسن:-
شاعری میں الفاظ کے ایسے استعمال سے پیدا ہونے والی موسیقی، لے، تال اور دھن کو موسیقیتی حسن کہتے ہیں۔ وزن (بحر)، قافیہ اور ردیف کا خوبصورت استعمال اور حروف کی تکرار (تجنیس) یہ حسن پیدا کرتے ہیں۔

· لفظی موسیقی :-
"بستیاں جلتی ہوئی دیکھی ہیں،میں نے بھی لوگوں کو بھاگتے دیکھا ہے”
-فیض احمد فیض-
یہاں "دیکھی ہیں” اور "دیکھا ہے” کی صوتی تکرار ایک خاص لے اور اثر پیدا کرتی ہے۔

· وزن و قافیہ کا جادو :-
"ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے، بہت نکلے میرے ارمان، لیکن پھر بھی کم نکلے”
-مرزا غالب-
اس شعر میں وزن اور "نکلے” کے قافیے نے ایک ایسی موسیقی بنا دی ہے جو شعر کو دل میں اترنے والا بناتی ہے۔

٣.فکری حسن:-
نظم میں پنہاں گہرے اور اُونچے خیالات، فلسفہ، حکمت یا اخلاقی پیغام کو فکری حسن کہتے ہیں۔ ایسا کلام جو صرف خوبصورت نہ ہو بلکہ سوچنے پر مجبور کرے اور زندگی کی کوئی سچائی عطا کرے۔
·حکمت و فلسفہ کا حسن :-
"خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے،خدا بندے سے خود پوچھے، بتا تیری رضا کیا ہے”
-علامہ اقبال-
اس شعر میں انسانی خودی (اپنی ذات) کی عظمت کا ایک گہرا فلسفہ ہے جو فکری حسن کا عظیم نمونہ ہے۔

· زندگی کی سچائی کا حسن:
"عشق نے غالب نکما کر دیا،ورنہ ہم بھی آدمی تھے کام کے”
-مرزا غالب۔
یہاں ظاہری ناکامی کو عشق کی سربلندی میں بدل دینے کا ایک لطیف اور گہرا خیال ہے۔

٤.فنی یا ساخت کا حسن:-
اس سے مراد وہ فنی طریقے اور ہنر ہیں جن کے ذریعے شاعر اپنی بات کو پیش کرتا ہے۔ اس میں صنائع بدائع (محسنات کلام) جیسے استعارہ، تشبیہ، کنایہ، مراعات النظیر، وغیرہ، نیز غزل، نظم، رباعی جیسے اصناف کا انتخاب اور زبان و بیان کی نفاست شامل ہے۔

·استعارہ و تشبیہ کا استعمال :-
"انگلیاں اُس کی تھیں زمرد کی کلیاں،چہرہ اُس کا تھا کہ گُل کی پتی پتی تھی چاندنی”
-اختر شیرانی-
یہاں محبوب کے اعضاء کی تشبیہ زمرد کی کلیوں اور چاندنی سے دی گئی ہے، جو فنی حسن کی عمدہ مثال ہے۔

·لفظی صنعت "تجنیس :-
"چمن میں آج گلِ نوخیز شگفتہ ہے،فریبِ چشم و خیالِ نازِ دلکشا بھی ہے”
یہاں "شگفتہ” اور "دلکشا” میں تجنیس کا فنی حسن ملتا ہے۔

خلاصہ:
1.جذبات کا حسن – وہ جذبہ جسے پڑھ کر دل متاثر ہو۔
مثال (سودا): "کہاں تک سنو گے داستاں میری، ابھی تو کچھ بھی نہیں کہا میں نے” – درد کے جذبات۔
2.ناد / آواز کا حسن – الفاظ کی موسیقی اور لے۔
مثال (جگر مرادآبادی): "جو تُو نے کہا میں نے وہی کہا مان لیا، خوشی سے مر گیا تُجھے راضی رکھنے کو” – وزن و قافیہ کا جادو۔
3.خیال کا حسن – سوچ کو بلند کرنے والا پیغام۔
مثال (جوش ملیح آبادی): "ابھی چراغِ سحری کو ہوا کا خوف نہیں، ابھی شبِ فراق کو صبح کا گمان نہیں” – امید کا فلسفہ۔
4۔فنکاری – صنعتوں اور زبان کے ہنر سے آراستگی۔
مثال (فانی بدایونی): "اس دل میں ہے جو درد وہ تُجھ سے چھپا نہیں سکتا، ہر شے پہ ہیں نظر میری، تیری طرف نہیں” – مراعات النظیر کی صنعت۔

یہ چاروں پہلو کسی بھی اشعار کو "شعری حسن” سے آراستہ کرتے ہیں۔

وطن دوستی اور قومی شعور شاعری کا روشن پیغام

23 دسمبر 2025

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے