تلنگانہ جاگروتی اقلیتوں کے ساتھ کھڑی ہے
مرکز سے مسلم تحفظات کے بل کی منظوری کی کوئی امید نہیں
ہماری اور وزیراعظم نریندر مودی کی سوچ میں مطابقت نہیں
کانگریس نے مسلمانوں سے کئے گئے ایک بھی وعدہ کو پورا نہیں کیا
اقلیتیں سیاست میں آگے آئیں اور ایک مضبوط آواز بنیں: کے کویتا
صدرتلنگانہ جاگروتی کلواکنٹلہ کویتا نے اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کو تحفظات، تعلیم اور مجموعی سماجی پسماندگی کے سنگین مسائل پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور کہاکہ مسلمانوں کے لئے 12 فیصد تحفظات کے معاملے کو مکمل تفصیلات کے ساتھ بی سی کمیشن کے حوالے کیا گیا تھا، تاکہ مسلمانوں کے اندر موجود مختلف زمروں جیسے بی سی، او بی سی وغیرہ کا آئینی اور سماجی جائزہ لیا جا سکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس سے قبل ریاستی اسمبلی میں مسلم تحفظات سے متعلق بل کو باقاعدہ طور پر منظور کیا گیا تھا، جس کے بعد ہی اس معاملے کو بی سی کمیشن کے سپرد کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کے لئے تحفظات کے حصول کے لئے تقریباً چار تا پانچ برس تک مسلسل سنجیدہ کوششیں کی گئیں، لیکن بدقسمتی سے اس طویل جدوجہد کے باوجود عملی طور پر کوئی ٹھوس نتیجہ سامنے نہیں آ سکا۔ مرکز میں بی جے پی حکومت اور وزیر اعظم نریندر مودی کی موجودگی میں مسلم تحفظات کے بل کی منظوری کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، کیونکہ ہماری اور ان کی سوچ میں کوئی مطابقت نہیں۔کلواکنٹلہ کویتا نے کہا کہ اب جبکہ تلنگانہ میں کانگریس اقتدار میں آئی ہے، کانگریس نے بھی اقلیتوں سے کئی وعدے کئے تھے، لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ان میں سے ایک بھی وعدہ وفا نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے بعد کے سی آر کے دور حکومت میں تعلیم کے شعبے میں کئی مثبت اقدامات کئے گئے، اگرچہ آج بدقسمتی سے میرے اور ان کے راستے الگ ہو چکے ہیں اور میں کسی کا دفاع نہیں کر رہی ہوں لیکن یہ حقیقت ہے کہ موجودہ کانگریس حکومت تعلیم کے شعبے کو مکمل طور پر نظر انداز کر رہی ہے۔انہوں نے نشاندہی کی کہ گزشتہ تین سے چار برسوں سے تعلیمی اداروں کی عمارتوں کے کرایہ ادا نہیں کئے گئے، جس کے باعث عمارتوں کے مالکان شدید پریشانی کا شکار ہیں۔ اگر عمارتیں خالی کروائی جاتی ہیں تو بچوں کی تعلیم متاثر ہونے کا اندیشہ ہےاور اگر حکومت کرایہ ادا نہیں کرتی ہے تو مالکان کے لئے گزر بسر مشکل ہو جائے گی، جس سے ایک سنگین اور دوہری صورتحال پیدا ہو چکی ہے۔انہوں نے کہا کہ اقلیتی بجٹ میں کمی کر دی گئی ہے، جبکہ فوڈ پوائزننگ کے واقعات روز بروز بڑھتے جا رہے ہیں، جو حکومت کی لاپرواہی کا واضح ثبوت ہے۔ کویتا نے کہاکہ اگر واقعی کانگریس کی ترجیحات میں تعلیم شامل ہوتی تو آج گدوال اتنا پسماندہ نہ ہوتا۔ ہم 2025 میں زندگی گزار رہے ہیں، لیکن یہاں کی صورتحال دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ہم سو برس پیچھے چلے گئے ہوں، جو نہایت افسوسناک امر ہے۔کلواکنٹلہ کویتا نے واضح کیا کہ تلنگانہ جاگروتی ہمیشہ اقلیتوں کے ساتھ کھڑی رہی ہے۔ تنظیم میں مسلم ونگ، کرسچن ونگ اور سکھ ونگ جیسے علیحدہ پلیٹ فارمس قائم کئے گئے ہیں، تاکہ ہر اقلیت ترقی کر سکے اور اس کے مسائل موثر طریقے سے حل ہوں۔ انہوں نے پر زور انداز میں کہا کہ اقلیتوں کی سیاست میں بھرپور شرکت نہایت ضروری ہے، کیونکہ میرا سب سے اولین مقصد یہی ہے کہ اقلیتیں خود سیاست میں آگے آئیں اور اپنے حقوق اور مسائل کی یکسوئی کے لئے مضبوط آواز بنیں۔




English 





































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































